تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

لادینوں اور دینداروں میں فرق؟


صرف سیکولر لادینوں کو ہی نہیں بلکہ دین دار کہلوانے والوں کو بھی اپنے رویوں پر غور کرنا چاہیے‘ اسلام دین فطرت اور مکمل ضابطہ حیات ہے‘ ماں کی گود سے لے کر قبر کی گود تک اسلام نے اپنے پیروکاروں کی مکمل رہنمائی کی ہے‘ خوشی ہو یا غمی‘ شادی ہو یا موت‘ ہمیں ہر موقع پر اسلام کے احکامات کو مدنظر رکھنا ہے۔
اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے ماں‘ باپ کے حقوق‘ بیوی‘ بچوں کے حقوق‘ پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے حقوق‘ عورتوں اور مردوں کے حقوق حتیٰ کہ شجرو حجر‘ نباتات ‘ جمادات اور جانوروں تک کے حقوق کھول‘ کھول کر بیان کئے ہیں۔
لبرل اینڈ سیکولر کی اسلام سے دوری تو سمجھ میں آتی ہے لیکن اپنے آپ کو دیندار‘ مولوی‘ پیرومرشد اور گدی نشین کہلوانے والوں سے اگر ’’اسلام‘‘دور ہونا شروع ہو جائے تو یہ صرف افسوس ہی نہیں بلکہ انتہائی فکر کی بھی بات ہے بعض پیروں اور گدی نشینوں کو ان کے سربلند آباء کی وجہ سے عوام اپنے لئے آئیڈیل سمجھتے ہیں‘ عوام جنہیں دینداری اور بزرگان دین کی نسبت کی وجہ سے اپنا آئیڈیل سمجھیں‘ اگر وہی شخصیات شادی‘ بیان کے موقع پر مذہب اسلام کے احکامات کو پس پشت ڈال کر ہندوانہ رسوامات اور طور طریقوں کو اختیار کرنا شروع کر دیں تو پھر زبان بے ساختہ یہ شعر گنگنانے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ
خدا وند‘ تیرے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں
درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری
پیروں اور مولویوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان ہو یا بیرون ممالک‘ ان کی عزت مذہب اسلام کی وجہ سے کی جاتی ہے‘ مجھے لندن میں رہائش پذیر ایک صحافی دوست نے بتایا کہ برطانیہ کے مسلمان بعض پاکستانی پیروں اور گدی نشینوں کے لئے مستقل پائونڈز میں چند جمع کرتے ہیں‘ صرف برطانیہ ہی نہیں بلکہ دیگر اسلامی اور غیر اسلامی ممالک میں بسنے والے مسلمان بھی بزرگان دین کی خاندانی نسبتوں اور گدی نشینی کی لاج رکھتے ہوئے صرف مال ہی نہیں بلکہ جان تک نچھاور کرنا اپنا ایمان سمجھتے ہیں۔
لیکن اگر بزرگان دین کے درباروں سے جڑے ہوئے متولی صاحبان یا گدی نشین حضرات اللہ کے پیارے نبیﷺ کی سنتوں کی نفی کرنا شروع کر دیں تو یہ ملک و قوم کی بدقسمتی کے سوا‘ اور کیا ہو سنتا ہے؟
حضرات اولیاء کرامؒ‘ صوفیا عظام تو مخلوق کو شرک کے اندھیروں سے نکال کر توحید کی روشنی میں لایا کرتے تھے… اپنے ماننے والوں کو ہندوئوں‘ سکھوں ‘ پارسیوں اور انگریزوں کی رسومات اور بدعات سے بچنے اور آقاء مولیٰﷺ کی مبارک سنتوں پر عمل کرنے کی ترعیب دیا کرتے تھے۔
اکابر علماء اولیاء اور صوفیاء عظام نے برصغیر میں سنت مطہرہ پر عمل پیرا ہو کر اسلام کی خوشبو کو اس قدر پھیلایا کہ پھر لاکھوں ہندو اور دیگر غیرمسلم اپنی مرضی سے مذہب اسلام میں داخل ہوئے۔
ہم آقاء مولیٰﷺ کی ختم نبوت کے ایک ادنیٰ سے رضا کار ہیں جو شخص آقاء مولیٰﷺ کی مبارک سنتوں کو پروان چڑھائے گا‘ ہم اس کے بھی خادم رہیں گے لیکن اگر کوئی شخصیت اسلام کے احکامات سے منہ پھیر کر اپنے طرز عمل سے ہندوانہ رسومات کو سپورٹ کرے گی چاہے وہ کتنا بڑا نام ہی کیوں نہ ہو‘ ہم اس کی بالکل اسی طرح مذمت کریں گے جیسے بے دین لبرلز کی مذمت کرتے چلے آرہے ہیں۔
چند سال قبل راولپنڈی کے ایک پیر صاحب کہ جو مجھے بڑے محبوب ہیں‘ نے اپنے لخت جگر کی شادی خانہ آبادی اس شان و شوکت سے کی اور دولت کا اس فراوانی سے استعمال کیا کہ دیکھنے والوں کی حیرت سے آنکھیں پھتی کی پھٹی رہ گئیں اور اب ایک دفعہ پھر دینی اور روحانی دنیا کا انتہائی سربلند نام حضرت اقدس پیر مہر علی شاہؒ صاحب کے خانوادے سے وابستہ بعض صاحبزادوں کی شاہانہ شادیوں کی سوشل میڈیا پر دھوم مچی ہوئی ہے۔
کہا جارہا ہے کہ ان شادیوں پر بے جا اور بے تحاشہ اخراجات‘ بے پناہ اسراف‘ آتش بازیوں ‘ پٹاخوں‘ ڈھول ڈھمکوں اور دیگر رسوامات پر دولت لٹائی جارہی ہے‘ یہ خاکسار گزشتہ نودنوں سے کراچی میں ہے یہاں بعض احباب نے جب مجھ سے اس حوالے سے گفتگو کرنا چاہی تو میں نے یہ کہہ کر کان لپیٹ لئے کہ حضرت قبلہ پیر مہر علی شاہؒ میرے روحانی مرشد ہیں جبکہ حضرت اقدس پیر سید نصیرالدین نصیرؒ سے اس خاکسار کی جو دونشستیں ہوئیں اور ان نشستوں میں‘ میں ان پر عشق مصطفیﷺ کے جو رنگ دیکھے‘ اس کی جلاوت آج بھی محسوس ہوتی ہے حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب ہوں یا پیر سید نصیرالدین نصیرؒ ہوں یا دیگر اولیاء یہ چونکہ آقاء مولیٰﷺ کے سچے پیروکار اور سنت رسولﷺ کی خوشبو سے مالا مال ہیں‘ اس لئے ان کا نام اور فیض قیامت کی صبح تک چلتا رہے گا۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved