تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

غیر محتاط باتیں اور نریندر مودی کا دُکھ


٭زبانی احکام! امریکہ،فرانس کی مثالیں ! Oمیاں شہبازشریف کوکینسر کی تصدیق !Oسگریٹوں پر گناہ ٹیکس !Oاعظم سواتی کی امریکی شہریت ختم !Oٹرینوں، طیاروں کے کرایوں میں اضافہ !Oسندھ میں20 ہزار گھوسٹ اساتذہ، 10سالوں میں18 کھرب روپے کھا گئے !Oبھارت کے چار صحافی اسلام آباد سے لاہورآتے ہوئے راستے میں غائب !Oنیب کے سپیشل پراسیکیوٹر عمران شفیق کا زلفی بخاری سےالجھنے پر استعفا !O خواجہ سعد رفیق اورندیم ضیا نے چار ارب روپے کی زمین بیچی ،وعدہ معاف گواہ قیصرامین بٹ کا انکشاف !Oآنے والا حکمران عمران خان کو جیل بھیجے گا، آصف زرداری !
٭بار بار کیا لکھاجائے،بڑے بڑے عہدے بہت سنجیدگی، قنانت اور احتیاط والے الفاظ کا تقاضاکرتے ہیں کسی اہم فیصلے سے پہلے پوری سوچ بچاراور متعلقہ حلقوں سے مشاورت کی جاتی ہے۔ مگراِدھر کیا ہورہاہے؟ ایک وزیراعلیٰ آدھی رات کو زبانی حکم پر ڈسٹرکٹ پولیس افسرکو اوروزیراعظم زبانی حکم پر آئی جی پولیس کو تبدیل کردیتا ہے اور گورنرہاؤس کی چار دیواری ختم کرنے کا حکم جاری کردیتا ہے اور غیر محتاط گفتگوکا عالم یہ کہ ’’فوج تحریک انصاف کے منشور کے ساتھ کھڑی ہے‘‘ ۔ اس پرپیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما قمرالزماں کائرہ نے صحیح اعتراض کیا ہے کہ کیا فوج دوسری پارٹیوں کے منشورکے خلاف کھڑی ہے؟ وزیراعظم کی بات سے تو صاف مفہوم نکلتا ہے کہ شائد فوج نے تحریک انصاف کوکامیاب کرایا ہے اور اب بھی ساتھ دے رہی ہے! وزیراعظم صاحب کوکون سمجھائے کہ فوج کسی سیاسی پارٹی کے منشورکی نہیں، بلکہ ملک کے آئین کی پاسدار ہوتی ہے، حکومت کوئی بھی ہو، فوج اس کے احکام پر عمل کرنے کی پابند ہوتی ہے مگر حکومتی پارٹی کے منشور سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا وہ صرف آئین کی پابند ہوتی ہے۔
٭اب ذرا زبانی احکام کی بات! وزیراعظم نے براہ راست سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ہدف تنقید بنایا ہے کہ ’’کیا کسی وزیراعلیٰ کوکسی افسر کو تبدیل کرنے کااختیار نہیں؟ ‘‘ بالکل اختیار حاصل ہے محترم خاں صاحب! مگراندھا دھند اور اپنی ذاتی انا کے تحت نہیں۔ آئین اور قوانین میں حکمرانوں کی کارروائیوں کے ضابطے مقرر ہیں۔ کسی رکن اسمبلی کے خلاف کارروائی کے لیے سپیکر کو اطلاع دینا پڑتی ہے۔ کسی بڑے افسر کی بات تو اور ہے ۔ چپڑاسی کے خلاف کارروائی کے لیے اسے اظہار وجوہ کانوٹس دینا پڑتا ہے، پھر انکوائری ہوتی ہے۔ نوٹس کی عام طریقے سے تعمیل نہ ہوتو جواب کے لیے اخبارمیں اشتہار دیاجاتا ہے پھرحتمی کارروائی ہوتی ہے۔ حکمرانوں کوکسی بھی افسرکے تبادلے کا اختیار ہوتاہے مگر بدنیتی پر کارروائی غیر قانونی قرار پاتی ہے۔ یہ نہیں کہ ایک دوست سیاست دان کے کہنے پر ڈسٹرکٹ پولیس افسر کو اورایک وزیرکی شکائت ( وہ بھی جعلی اور جھوٹی) پر آئی جی کوتبدیل کردو۔ تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ ایسی کارروائیوں کاکیا انجام ہوا؟ ایک گورنر جنرل غلام محمد نے ذاتی مفاد کی خاطر وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو سامنے بٹھاکر حکم سنایا کہ ’’آئی ڈِسمس یُو‘‘”I DISSMISS YOU”۔ وزیراعظم حواس باختہ ہوکرایسے عالم میں باہرنکلے کہ اپنی ٹوپی گورنر جنرل کی میز پر بھول گئے ۔ مگر پھر! اسی گورنر جنرل کوحواس باختگی کے عالم میں نکال دیاگیا۔ پھر جنرل ایوب خان کے زبانی حکم پر صدر سکندر مرزا کو معزول کرکے ملک سے بھیج دیا اور تیسرے نمبروالے جرنیل یحییٰ خان کو چیف آف آرمی سٹاف بنادیا ۔ یحییٰ خان نے ایوب خان کو، یحییٰ خان کوذوالفقار علی بھٹو کو اور بھٹوکو جنرل ضیاء الحق نے اقتدار کے ایوانوں سے نکال دیا۔ یہ سب کچھ زبانی ہوتا رہا۔ آگے چلئے! وزیراعظم نوازشریف کے احکام پر پارٹی کے ارکان نے سپریم کورٹ پر حملہ کردیا، چیف جسٹس کونکلوا دیا، اسے نکلوانے والے جج کوبعد میں ملک کا صدر بنادیا۔صدر غلام اسحاق خاں نے چیف جسٹس کے خلاف کارروائی کی مخالفت کی تو وزیراعظم نے صدر سے محاذ آرائی شروع کر دی۔ چیف آف سٹاف جنرل وحید کاکڑ نے ایوان صدر اور وزیراعظم کے دو پھیرے لگائے اورصدر اوروزیراعظم دونوں فارغ!بے نظیر بھٹونے زبانی حکم پر سردار فاروق لغاری کو وزیر خارجہ بنایااور صرف26 دنوں کے بعد صدر نامزد کردیا۔ سردار فاروق لغاری نے اپنی محسن وزیراعظم کو برطرف کردیااور پھر خود بھی اپنی صدارتی مدت ختم ہونے سے ایک سال پہلے استعفا دیناپڑا ۔ نوازشریف نے وزیراعظم کی حیثیت سے جنرل کرامت جہانگیر کوسامنے بلا کر زبانی استعفا دینے کا حکم دیا۔ انہی کے دورمیں جنرل آصف نواز کی پراسرار موت ہوئی، پھر جنرل پرویز مشرف کواس وقت برطرف کیا جب و ہ سری لنکا سے واپس کراچی آرہے تھے۔ زبانی حکم دیا کہ جنرل کا طیارہ کراچی میں نہ اترنے دیا جائے۔ پھر؟ جنرل پرویز مشرف نے نوازشریف کو گرفتار کرکے نہ صرف وزیراعظم ہاؤس بلکہ ملک سے ہی نکال دیا۔ جنرل پرویزمشرف کا حال سب کے سامنے ہے۔ یہ ساری خود پسندی ،اقتدارکا غرور اور نشےکی عبرت ناک سبق آموز حکائتیںہیں مگر کوئی سبق نہیں سیکھتا۔ مختصر طورپر ایک نظر ذرا باہر ڈال لیں۔ امریکہ کے غیر متوازن دماغ والے صدر ٹرمپ نے اچانک چین کی مصنوعات پر بھاری ٹیکس لگا دیئے، چین نے یہی جوابی کارروائی کی تو امریکہ کی سٹاک مارکیٹ کریش کر گئی کہ اس پر ٹرمپ نے اپنا حکم واپس لے لیا۔ فرانس کے صدر نے پٹرول مہنگا کردیا۔ ملک میں ہنگامے شروع ہو گئے ، سینکڑوں عمارتیں اور گاڑیاں جلادی گئیں، پولیس کی فائرنگ سے کچھ افراد ہلاک ہوگئے تو پٹرول کی قیمت میں اضافہ واپس لے لیا۔ یہ سب کچھ غیر متوازن اور غیر محتاط کارروائیوں کا نتیجہ تھا۔ پھر وہی بات کہ وزیراعظم پاکستان فرما رہے ہیں کہ خارجہ امور کے سارے فیصلے مَیں خود کرتاہوں۔ وہ خود وزیر داخلہ بھی ہیں ، پھران وزارتوں کی ضرورت کیا ہے؟ کچھ دوسری باتیں!
٭بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ 1947 میں تقسیم ملک کے وقت کانگریس پارٹی نے کرتارپورٹ کاعلاقہ پاکستان کودے کر ہندوستان کوسخت نقصان پہنچایا، یہ علاقہ بھارت میں شامل ہوناچاہئے تھا ۔ پاکستان اور مسلمانوں کے ازلی دشمن نریندر مودی کی باتیں اپنی جگہ مگر بعض حلقے خالصتان کے مطالبہ کو ہوا دینے لگتے ہیں۔ انہیں اس مطالبہ کے اصل حقائق کا علم ہو جائے تو آئندہ احتیاط سے کام لینا پڑےگا۔ 1980 کے عشرہ میں بھارت میں خالصتان کی تحریک نے بہت زور پکڑا۔ وزیراعظم اندرا گاندھی کے حکم پر فوج نے امرتسر میں سکھوں کے مرکزی متبرک گوردوارہ ’’گولڈن ٹمپل‘‘ پر حملہ کردیابہت سے سکھ اور ان کا سربراہ جرنیل بھنڈرانوالہ بھی مارا گیا۔(اس کی قبر گوردوارہ کے اندر ہی بنی ہوئی ہے)۔ جوابی کارروائی میں اندرا گاندھی کو ہلاک کرادیاگیا، اس پردہلی میں تین ہزار سکھ قتل کردیئے گئے۔ ان واقعات کےبعد سکھ عوام میں خالصتان کے قیام کی تحریک زور پکڑ گئی۔ کچھ پاکستانی حلقوں نے اس کی حمائت شروع کردی۔ یہ تحریک 1990 کے عشرہ میں مزید زور پکڑ گئی۔مجھےخالصتان کی حمائت کرنے والے، ایک صاحب نے بتایا کہ اس تحریک کا سربراہ خفیہ طورپر لاہورآیا ہے۔ وہ صاحب مجھے اس سے ملاقات کے لیے ایک جگہ لے گئے۔اس شخص کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ وہ اپنے مقصد کے لیے پاکستان کی حمائت حاصل کرنے آیا ہے۔ یہ حمائت تو نہ ملی سکی مگر کچھ عرصہ کے بعدلندن سے ایک صاحب نے مجھے مجوزہ خالصتان کا منشور، جھنڈے کی تصویر اورنقشہ بھیج دیا۔ یہ نقشہ دیکھ کر میں چونک گیا، اس نقشے میں کرتا پور، ننکانہ صاحب، فاروق آباد اورحسن ابدال تک، لاہور ، گوجرانوالہ، گجرات ، راولپنڈی اور ٹیکسلا تک کا علاقہ خالصتان کا حصہ دکھایاگیا تھا۔ یہ نقشہ میرے پاس اب بھی کہیں موجود ہے، ظاہر ہے متعلقہ حساس حلقوں کے پاس بھی ہوگا! میں نے بھارت میں ایک سکھ رہنما سے اس بارے میں سوال کیا تو اس نے عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیاکہ یہ نقشہ فرضی ہے،اسے اہمیت نہ دیں! مگر کیا یہ واقعی فرضی ہے؟
٭عجیب سی خبر کہ کرتارپور والے معاملہ کے بعد اسلام آباد سے لاہورآنے والے بھارتی صحافیوں میں سے خاتون صحافی برکھادت سمیت چار صحافی بھیرہ کے مقام پر اُتر کر غائب ہوگئے اور باقی ساتھیوں کے ہمراہ واپس نہیں آئے تھے، صبح واپس پہنچے۔ یہ صحافی کیوں غائب ہوئے، کہاں گئے؟ کس سے ملے! کیا باتیں ہوئیں؟ معمہ بن گیا ہے؟




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved