تازہ ترین  
پیر‬‮   10   دسمبر‬‮   2018

انصاف کے لئے پھر دستک


1970ء سے پہلے پاکستان کے زیادہ تر لوگ مشرقی ممالک برما، ہانگ کانگ، سنگا پور کی طرف جاتے تھے ۔ وہ آنے جانے کے لئے ان ممالک سے کلکتہ تک بحری جہازوں پر سفر کرتے تھے اور پھر کلکتہ سے بذریعہ ٹرین بھون تک آتے تھے۔میرے والد محترم خود سپریم کورٹ ہانگ کانگ کے پنشنر تھے اور وہ ساری زندگی انہی ذرائع سے سفر کرتے رہے۔بھون بڑا تاریخی شہر ہے۔ دنیا کے بہت بڑے بزنس مین معروف ہوٹلز چین کے مالک موہن سنگھ اوبرائے کا تعلق بھی بھون سے تھا۔روزنامہ جنگ کے سابق ایڈیٹر شورش ملک بھی بھون کے رہنے والے تھے۔ بھون سے مندرہ تک کی ریلوے لائین کو 1911ء میں انگریزوں نے بچھایا تھا جس کو1993ء میں اور کچھ 1997ء میں مسلمانوں نے اکھیڑ کر کوڑیوںکے بھاؤ فروخت کر دیا۔جس پر بہت شور بھی مچایا گیا۔جلوس نکالے گئے۔ ہڑتالیں ہوئیں ۔لیکن کسی نے بھی عوام کے مسئلے پر دھیان نہ دیا۔پھر2006ء میں راقم نے رٹ دائر کر کے باقی ریلوے لائین اکھاڑنے سے بچا لیا۔ریلوے نے اخبار میں ٹینڈر دے کر واپس لے لیا۔لیکن دو سال کے بعد پھر ٹینڈر آ گیا اس پر دوبارہ پانچ اپریل 2009ء کو ایک قومی اخبار میں کالم لکھا۔جس پر اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ازخود نوٹس لے کر چیئرمین ، سیکرٹری سمیع الحق خلجی کو عدالت میں طلب کر کے جواب مانگا۔ چیئرمین ریلوے کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے تو چیف جسٹس نے پوچھا کہ اہلیانِ چکوال کو کس جرم کی سزا دی ہے۔ان کو نئی پٹڑی بچھا کر دو۔جس پر چئیرمین ریلوے نے کورٹ کے اندر ہی انڈر ٹیکنگ دی کہ ہم آئندہ کوئی ریلوے کی زمین نہیں بیچیں گے۔بھون مندرہ 74 کلومیٹر ریلوے ٹریک ایک سال کے اندر اندر بچھا دیں گے بلکہ چئیرمین نے کہا کہ ہم ریلوے ٹریک سے پرانی پٹڑی اکھاڑ کر یہاں لگا دیں گے۔تو ایک بار پھرچیف جسٹس نے کہا کہ نہیں ان کو نئی پٹڑی بچھا کر دیں ۔ ساتھ ہی کورٹ نے یہ بھی آرڈر دئیے کہ جو زمین فروخت کی ہے یا جس پر لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے وہ تمام زمین واگزار کروائیں لیکن محکمہ ریلوے نے سپریم کورٹ میں تحریراًلکھ کر دینے کے باوجود کورٹ کے آرڈر کی کوئی پرواہ نہ کی اور ریلوے کی زمین کو کوڑیوں کے بھاؤ سیز کردینے کے علاوہ لوگوں سے پیسے لے کر قبضے کروا دئیے۔ خاص طور پر ڈھڈیال اور چکوال میں 90فیصد جگہ پر قبضہ ہو چکا ہے۔ اس پر راقم نے دوبارہ چیف جسٹس ثاقب نثار کے سامنے توہین عدالت کی رٹ پیش کی اور بتایا کہ حضورِ والا ! سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود محکمہ ریلوے دھڑا دھڑ قبضے کرا رہا ہے اور ریلوے کی زمین 99سال کے لئے لیز پردے رہا ہے۔جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے محکمہ ریلوے کے حکام کو کورٹ میں طلب کر لیا اور ان کی سخت سرزنش کی۔انہیں بتایا گیا کہ یہ زمین ریلوے کی ہے ہی نہیں۔ ریلوے اس کو نہ بیچ سکتا ہے نہ لیز پر دے سکتا ہے اور نہ ہی کسی کو تحفے میں دے سکتا ہے۔میری چیف جسٹس سے گزارش ہوگی کہ ریلوے نہیں بلکہ گورنمنٹ کی زمین پر جہاں جہاں بھی قبضہ ہوا ہے یا غیر قانونی فروخت کی گئی ہے وہ تمام علاقہ ان لوگوں سے واگزار کرا کے ریلوے کے ذمہ دار افسران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ لیکن بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی۔ اصل بات اس سے آگے شروع ہوتی ہے کہ اس ٹریک پر نئی ریلوے ٹریک بچھانے کے بھی احکامات جاری فرمائے جائیں ۔
چکوال کی آبادی 15لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔آمدورفت میں سخت دقت ہے گو کہ موٹر وے بن چکی ہے۔ لیکن موٹروے پر بذریعہ کار سفر کرنے والے صرف پانچ فیصد لوگ ہیں ۔پچانوے فیصد لوگ تنگ سیٹوں والی ویگنوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں ۔ تھوڑی تنخواہ والے لوگ راولپنڈی ، اسلام آباد رہنے پر مجبور ہیں ۔وہ ساری تنخواہ یہیں خرچ کر دیتے ہیں ۔ اسی طرح طلباء اور خصوصاً طالبات بھی سڑک پر کھڑی انتظار کرتی رہتی ہیں ۔اور ویگنیں سٹاپ تو سٹاپ ، سیٹ بائی سیٹ ہو کر نکلتی ہیں۔ریل گاڑی ایمبولینس کا بھی کام کر سکتی ہیں ۔ دو تین سو کا ٹکٹ لے کر مریض اور اس کا تیماردار آرام سے ہسپتال پہنچ سکتے ہیں ۔جب کہ ایمبولینس والے صرف ایک چکر کا پانچ ہزار روپے دیتے ہیں ۔ چکوال میں سیمنٹ فیکٹریاں لگنے کی وجہ روزانہ 40ہزار ٹن سیمنٹ ٹریلوں کے ذریعے دوسرے شہروں میں جاتا ہے۔جس سے سڑکیں تباہ ہو جاتی ہیں اور خطرناک حادثات ہو رہے ہیں ۔اس کے علاوہ چکوال سے کوئلہ ، عمارتی پتھر اور خام تیل پورے پاکستان میں جاتا ہے۔سیمنٹ تو کراچی بندرگاہ تک جاتا ہے جہاں سے پھر مڈل ایسٹ ، سعودی عرب سمیت دوسرے عرب ممالک کو جاتا ہے۔واہگہ بارڈر سے ہندوستان جاتا ہے۔یہ سارا کام بھون مندرہ ریلوے ٹریک سے لیا جا سکتا ہے۔اس لئے جہاں چیف جسٹس نے ریلوے کی زمین کو کرپشن کی نذر ہونے سے بچایا ہے اسی طرح ایک اور مہربانی فرما کر نئی ریلوے لائین بچھا کر اس پر ٹرین چلانے کی احکامات بھی جا ری کر دیں تو چکوال کے لوگ ان کے اس تاریخی فیصلے کو صدیوں یاد رکھیں گے۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved