تازہ ترین  
پیر‬‮   22   اکتوبر‬‮   2018

جھوٹ اور افواہیں کیوں؟


2014میں شروع ہونے والے آشیانہ اقبال کے مکمل نہ ہونے کا ایک اہم ترین سبب قانونی ٹھیکوں کی وجہ سے لاگت میں اضافہ بھی تھا۔ اگر آج یہ منصوبہ دوبارہ شروع ہوتا ہے تو اس کی لاگت 40ارب روپے ہوگی جسے یا تو درخواست گزاروں کو برداشت کرنا پڑے گا یا حکومت کو۔ 2013تا 2016 لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل رہنے والے احد چیمہ پنجاب لینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن(پی ایل ڈی سی) کے بورڈ ممبر بھی رہے۔ 21اکتوبر 2014کو ہونے والے ایک اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے آشیانہ اقبال منصوبہ پی ایل ڈی سی سے لے کر ڈی جی لاہور کے سپرد کرنے کا حکم دیا۔ یہ بلاجواز فیصلہ تھا ، اس لیے کہ قانون کے مطابق پی ایل ڈی سی کا بورڈ آشیانہ اسکیم جیسے منصوبوں پر کام کرنے کا اختیار رکھتا تھا۔ آشیانہ اسکیم کی ایل ڈی اے کو منتقلی کے لیے پی ایل ڈی سی کے بورڈ کو بائی پاس کیوں کیا گیا؟
یہ بات بھی اب سامنے آچکی کہ یہ منصوبہ ’’وون مین شو‘‘ کے لیے احد چیمہ کو اس لیے دیا گیا تھا کہ ٹھیکے دینے میں من مانی کی جاسکے اور اتفاق دیکھیے کہ قرعۂ فال بھی پیراگون کمپنی کے نام نکلا۔ ایل ڈی اے کو یہ منصوبہ ’’منصوبہ بندی اور ڈیزائن‘‘ کے کاموں کے لیے دیا گیا تھا، تاہم ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ ٹھیکے کے لیے بولی کا انعقاد ڈی جی ایل ڈی اے کے زیر اہتمام ہوا اور بولی کی منظوری کا لیٹر بھی انہی کی جانب سے جاری کیا گیا۔ جب یہ کارروائی مکمل ہوگئی تو منصوبہ دوبارہ پی ایل ڈی سی کو منتقل کردیا گیا۔
پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ (پی پی پی) ایکٹ 2014کے مطابق اگر کسی سرکاری ادارے کے پاس متعلقہ ماہرین نہ ہوں تو فیزیبلیٹی اسٹٹدی اور بولی کے دستاویزی کاموں کی انجام دہی کے لیے مشیر مقرر کرنا لازم ہے۔ اس معاملے میں مجرمانہ عزائم کے ساتھ اختیارات کے غلط استعمال کا پردہ اس لیے چاک ہوا کہ احمد چیمہ نے شریک ملزم بلال قدوائی کے ساتھ مل کر منصوبے کی فزیبلٹی اور بولی کے لیے جو دستاویز تیار کی ان میں جعل سازی اور فریب کاری کے شواہد سامنے آگئے۔ قدوائی پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے لیے مطلوبہ فزیبلٹی اور بڈنگ دستاویزات بنانے کی مہارت ہی نہیں رکھتا تھا۔ منصوبے میں اپنی من مرضی سے فراہم کردہ ظن و تخمین کو بنیادیں فراہم کیے بغیر ہی چیمہ نے 20نومبر 2014کو ہونے والے پی پی پی کی اسٹئیرنگ کمیٹی کے سترھویں اجلاس میں بولی کے دستاویزات پیش کردیں ، جس میں پی پی پی سیل نے تحفظات کی نشان دہی کی۔ ان تحفظات میں یہ بات بھی شامل تھی کہ پی پی پی ایکٹ2014 کی شق 14ڈی کے مطابق اگر بولی کسی کنسورشیم کی جانب سے وصول ہو تو اس کے تمام ارکان، ان کے شیئرز اور مجوزہ کردار سے متعلق تفصیلات فراہم کرنا لازم ہوگا۔ چیمہ اور قدوائی نے ان تحفظات کو دور کرنے کی یقین دہانی کروائی، تاہم میسرز بسم اﷲ انجینئرنگ سروس کو، جو کہ میسرز پیراگون کی پراکسی کمپنی تھی، غیر قانونی طور پر فائدہ پہنچایا گیا حالاں کہ اس کمپنی نے بولی کے لیے مطلوبہ دستاویزات بھی جمع نہیں کروائے تھے۔ اس مشترکہ وینچر کے لیڈ ممبر کے طور پر دیگر کمپنیوں کو پیش کرکے ٹھیکا بسم اﷲ کمپنی کو دے دیا گیا ، جب کہ وہ جانتے تھے کہ بسم اﷲ، ایک سی فور کمپنی، لیڈ میمبر تھی، اسی طرح سپارکو اور میسز انہوئی چائینا کی اسناد سے متعلق غلط بیانی سے کام لے کر ممیسرز بسم اﷲ کو موزوں قرار دیا گیا۔
احد چیمہ کا معاملہ وہائٹ کالر کرائم کی بہترین مثال ہے، اس گھپلے میں ہزاروں غریب خاندانوں کی آرزؤں کو ایک بیورو کریٹ اور اس کے آقاؤں کی ہوسِ زر پر قربان کردیا گیا۔ ڈی ایچ اے لاہور کے نزدیک 100کنال زمین کی خریداری کی رقم کن ذرائع سے آئی، یہ بات بھی پیش نظر رہے۔ اس زمین کی خریداری کے لیے 12کروڑ 75لاکھ کی رقم پیراگون کے اکاؤنٹس سے ادا کی گئی اور اتنی ہی رقم چیمہ اور ان کے اہل خانہ نے ادا کی۔ کیا اتفاق ہے کہ چیمہ کو حاصل ہونے والی زمین کی پیراگون کی جانب سے اس رقم کی ادائیگی (2014کے) انہی دنوں میں ہوتی ہے جب انھیں ٹھیکہ دیا گیا۔ کیا اسے رشوت کے علاوہ کچھ اور کہا جاسکتا ہے؟ چیمہ کو لاہور میں 100کنال زمین میسز پیراگون کی جانب سے ٹھیکے کے عوض دی گئی، جب کہ یہ کمپنی اس ٹھیکے کے لیے اہل ہی نہیں تھی۔
آج اس زمین کی قیمت 30کروڑ روپے ہوچکی ہے اور اپنے اسی ذاتی مفاد کو محفوظ کرنے کے لیے چیمہ نے حکومت کو براہ راست 66کروڑ اور بالواسطہ طور پر 4ارب کا نقصان پہنچایا۔ چیمہ اور ان کا خاندان زمین کی خریداری کے لیے رقم کی منتقلی سے متعلق وضاحت پیشن نہیں کرسکے، ان کی خاموشی ان کے جرم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ رشوت کے طور پر ملنے والے سرمائے سے اثاثے عام طور پر خاندان کے افراد، ملازموں اور دوستوں وغیر کے نام پر خریدے جاتے ہیں۔
(جاری ہے)
اعلیٰ عدلیہ میں آنے والے معاملات اس بات کی وضاحت ہوچکی ہے کہ ’’بے نامی دار‘‘ کا موقف سنے بغیر اس قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا اور دوران تفتیش اسے اپنا مؤقف پیش کرنے کا پورا موقع ملنا چاہیے۔
چوں کہ احد چیمہ نے یہ غیر قانونی مفاد اپنے اور اپنے اہل خانہ کے نام پر حاصل کیا ہے اس لیے نیب اس کے خاندان کے افراد سے تفتیش کا اختیار رکھتی ہے۔ نیب کی تفتیش قانون کے دائرے میں رہتی ہے۔ فروری 2018میں دوران قید احد چیمہ سے ملاقات کے بعد ان کے اہل خانہ نے نیب کے طرز عمل کو میڈیا کے سامنے سراہا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کے مطابق اس معاملے میں مبینہ طور پر درخواست گزار کے ملوث ہونے کی ٹھوس وجوہ موجود ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے فائدہ حاصل کرنے والے خاندان کے افراد منصور احمد اور احمد حسن کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی ۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی کہ احد چیمہ نے جعل سازی کرکے 14ارب مالیت کی 2100کنال زمین ایک نااہل کمپنی کے حوالے کردی۔ پیراگون نے اس منصوبے کو اپنے پراجیکٹ کا حصہ ظاہر کرکے سرمایہ بٹورا۔ نیب کی کوششوں کے نتیجے میں حکومت نے اس زمین کی ملکیت کو دوبارہ ظاہر کیا، اس وقت تک مختلف مدات میں اسے پہلے ہی 66کروڑ روپے کا نقصان ہوچکا تھا۔ فواد حسن فواد صراحت کے ساتھ اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ انہوں نے شہباز شریف کی ایما پر چودھری لطیف اینڈ سنز کو دیے گئے ٹھیکے کی منسوخی کے لیے ایل ڈی ای پر دباؤ ڈالا، دوسری جانب اس بات کی تصدیق اس طرح ہوجاتی ہے کہ وزیر اعلیٰ ہی نے یہ ٹھیکا پیراگون کو دینے کا حکم دیا۔ بظاہر پیراگون سعد رفیق اور ان کے بھائیوں کی ملکیت ہے، بینک سے حاصل ہونے والے شواہد سے اس کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ سعد رفیق کے خاندان کو شہباز شریف کی طرف سے اس ٹھیکے کی صورت میں سیاسی انعام دیا گیا ہے۔
ان دونوں صورتوں میں نام نہاد دیانت دار بیوروکریٹس نے جو اثاثے بنائیں ہیں وہ ان کے ذرایع آمد سے سو گنا زائد مالیت رکھتے ہیں۔
ہائبرڈ وار کی زد میں آئے ہوئے ممالک پر ظاہر اور خفیہ ہر طرح کے حملے کیے جاتے ہیں جس میں افراد، حکومتی اداروں اور تنظیموں کی جڑیں کم زور کی جاتی ہیں۔ اس طرز جنگ کا ایک بڑا جز میڈیا کو قابو میں کرنا ہوتا ہے، پھر اسی کی مدد سے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ نیب کی جانب سے تفتیش کے بعد اس معاملے میں آنے والے حقائق کے بعد ملزمان کے موقف کی حمایت میں چند مضامین بھی سامنے آئے ہیں۔ اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے کہ نیب کے پاس ان الزامات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ بدعنوان عناصر کو قانون کے شکنجے سے فرار کرنے کے لیے افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے بارے میں قانون کیا کہتا ہے؟ (فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار اور عالمی اقتصادی فورم کے پارٹنرنگ اگینسٹ کرپشن انیشی ایٹو کے رکن ہیں)




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved