تازہ ترین  
اتوار‬‮   21   اکتوبر‬‮   2018

سیاسی مافیا اور نااہل الیکشن کمیشن


میرے سامنے پڑی درخواست الیکشن کمیشن کے نام دی گئی ہے۔ پہلے درخواست کا ایک اقتباس پڑھئیے تاکہ آپ سمجھ سکیں کہ جمہوریت کی دعویدار بعض سیاسی جماعتوں کے اندر کیا ہو رہا ہے؟
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی عدالت میں یہ درخواست دینے والے سابق حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے فیڈرل کیپٹل اسلام آباد کے جنرل سیکرٹری ہیں جو بلحاظ عہدہ صوبہ پنجاب و دیگر صوبوں کے جنرل سیکرٹریز کے برابر حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے 13مارچ 2018ء کے پارٹی انتخابات کو کالعدم کرانے کے لئے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے اور وہ درج ذیل عرض پرواز ہیں۔’’یہ کہ بطور رکن مرکزی مجلس عاملہ سائل نے مجلس عاملہ کے اجلاس میں کئی دفعہ آواز اٹھائی کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو باقاعدہ ادارہ بنایا جائے جس کا آغاز رکنیت سازی سے ہوتا ہے اور انجام کار مرکزی صدر تک پہنچتا ہے ۔ اس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے لیکن مسئول علہیان نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی جس سے نہ صرف پارٹی اور ریاست پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا بلکہ مسئول علہیان کی ان غیر قانونی حرکات سے ملک کے اندر جماعتی سطح پر ہونے والی پارلیمانی نظام کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے۔‘‘
ملک شجاع الرحمن بتاتے ہیں کہ جس پارٹی کے 16 سال سے وہ سیکرٹری جنرل فیڈرل کیپٹل ہیں اور بلحاظ عہدہ وہ اس کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن بھی ہیں۔ اس جماعت میں عہدے کیسے بانٹے جاتے ہیں اور نام نہاد انٹرا پارٹی الیکشن کیسے ہوتے ہیں ؟ اس بارے میں مزید سمجھنا ہو تو الیکشن کمیشن کے روبرو ان کی پٹیشن کے مکمل مندرجات پڑھ لیجئے۔ آج پہلی مرتبہ ملک شجاع نے آواز نہیں اٹھائی وہ قبل ازیں بھی آواز اٹھاتے رہے لیکن ان کی آواز ہمیشہ صدا بصحرا ثابت ہوئی۔ 2013ء میں انہوں نے دیگر مسلم لیگی عہدیداران جن میں سابق سینیٹر سید ظفر علی شاہ بھی شامل تھے کے ساتھ مل کر ایک اخبار میں اشتہار جاری کیے جس میں پارٹی قیادت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد کے الیکشنز کو کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ یہ بوگس انتخابات ہیں 2016ء میں نواز شریف جب مسلم لیگ (ن) کے دوبارہ صدر منتخب ہوئے اس وقت فیڈرل کیپٹل مسلم لیگ (ن) کی جنرل کونسل فہرست کے متعلق شجاع الرحمان نے تحریری اعتراض جمع کرایا جس میں بقول ان کے استفسار کیا گیا تھا کہ یہ افراد جنرل کونسل کے ممبر کیسے اور کس طرح بن گئے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے آئین کے مطابق پہلا بنیادی یونٹ پرائمری مسلم لیگ کا ہے جو 200افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان دو سو افراد میں ایک سٹی کونسلر ہوتا ہے جو عموماً وہ شخص ہوتا ہے جو 200 افراد کی رکنیت سازی کرتا ہے۔ عمومی طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ یہ سب کام بوگس ہوتا ہے۔ تاہم ایک رسمی کارروائی ضرور ہوتی رہی ہے۔ 2008ء میں ایک رکنیت سازی مہم ضرور چلی مگر رسمی پراسس مکمل نہ ہوسکا۔ باضابطہ انتخاب نہ کسی شہر میں ہوا اور نہ ہی ضلع کی سطح پر‘ ہر ضلع اور شہر میں بعض افراد کی نامزدگیاں ہوگئیں اور صوبائی و مرکزی جنرل کونسلوں کے بوگس فہرستیں مرتب کرنے کے بعد صوبائی و مرکزی سطح کے عہدیداران کے انتخاب کا ڈھونگ رچایا گیا۔
2012ء اور 2016ء کے نام نہاد انٹرا پارٹی الیکشنز میں تو رکنیت سازی اور نچلی سطح پر عہدیداران منتخب کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہ کی گئی اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی تنظیم منتخب کرلی گئی۔ حیرت ہے الیکشن کمیشن آف پاکستان پر جو ہمہ وقت آنکھیں بند کئے بیٹھا رہتا ہے اور کاغذی کارروائی سے فائلوں کے پیٹ بھرتا رہتا ہے۔ ایک باخبر الیکشن کمیشن آف پاکستان اگر وجود رکھتا اور آئین پاکستان کی رو سے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور رولز پر کماحقہ عملدرآمد کرنے کی اہمیت سے آگا ہوتا تو آج پاکستان کے سیاسی جمہوری نظام کی شکل ہی کچھ اور ہوتی۔ الیکشن کمیشن نے آج تک کسی جماعت کے بوگس انتخابات کو چیلنج نہیں کیا۔ الیکشن ایکٹ 207 سے قبل پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ2002ء نافذ تھا لیکن الیکشن کمیشن نے اس بنا پر کبھی کسی سیاسی جماعت کے نام نہاد انٹرا پارٹی الیکشن کے سامنے دیوار کھڑی نہ کی کہ یہ بوگس انتخابات جمہوریت کی روح کے منافی ہیں۔
اگر الیکشن کمیشن 2012,2008 اور 2016ء کے لیگی انتخابات پر اعتراضات اٹھاتا تو کیا ملک شجاع الرحمن کو ضرورت پڑتی کہ وہ اسلام آباد فیڈرل کیپٹل کے جنرل سیکرٹری ہوتے ہوئے اپنے سیاسی کیرئیر کو دائو پر لگا کر الیکشن کمیشن سے داد رسی کے لئے رجوع کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کی نااہلی کی وجہ سے ہماری معروف سیاسی جماعتیں ’’مافیا‘‘ بن چکی ہیں جن پر ایک مخصوص ٹولے کا قبضہ ہے جو دن بدن مستحکم ہوتا جارہا ہے۔ الیکشن کمیشن اپنے دائرہ اختیار کو سمجھے تو یہ ان جماعتوں کے اپنے بنائے ہوئے آئین کو بھی اس بنیاد پر چیلنج کر سکتا ہے کہ یہ جمہوریت کی حقیقی روح کے مطابق نہیں ہیں۔ ہم سب کو یاد رکھنا پڑے گا کہ سیاسی جماعتیں درست ہونگی تو اس ملک کا سیاسی اور جمہوری نظام پھلے پھولے گا ورنہ وہ ہوتا رہے گا جو آج تک ہوتا آیا ہے۔
افسوس یہ ہے کہ اٹھارویں آینی ترمیم کے بعد بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک خودمختار اور آزاد ادارہ نہ بن سکا آج بھی یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو اپنے فرائض کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ الیکشن کے شفاف انعقاد کی ذمہ داریاں بھی یہ نبھانے میں ناکام رہا ہے اور یہ سمجھنے سے بھی معذور رہا ہے کہ سیاسی و جمہوری نظام کی مضبوطی میں اس کا کردار کیا ہے اور یہ کتنا اہم ہے۔ ریٹائرڈ لوگوں پر مشتمل الیکشن کمیشن اس نااہلی کی سب سے بڑی وجہ سمجھ میں آتی ہے چنانچہ پہلی فرصت میں ہمیں الیکشن کمیشن کی بہت کو بدلنے اور اس کی تشکیل نو کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف اور دیگر تمام جماعتوں کو ایک جاندار اور پرعزم الیکشن کمیشن کے قیام پر اتفاق کرنا ہوگا کیونکہ بڑھے اور ریٹائرڈ لوگوں پر مشتمل الیکشن کمیشن نے وطن عزیز کے پولٹیکل سسٹم کا بیڑہ غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
آج جو درخواست الیکشن کمیشن کے سامنے مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل برائے فیڈرل کیپٹل نے پیش کر رکھی ہے وہ میرے نزدیک اگرچہ ایک ٹیسٹ کیس ہے لیکن الیکشن کمیشن کی سابقہ کارکردگی دیکھتے ہوئے مجھے کچھ زیادہ توقعات نہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن اس درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے اگر مسلم لیگ (ن) کے انٹرا پارٹی الیکشن کو بوگس قرار دیکر مسترد کر دیتا ہے اور اپنی نگرانی میں نیچے سے لیکر اوپر تک تمام پراسس مکمل کرواتا ہے تو یہ نہ صرف بڑی بات ہوگی بلکہ یہ اہل پاکستان کے لئے ایک نئی صبح کی نوید ہوگی۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved