تازہ ترین  
پیر‬‮   22   اکتوبر‬‮   2018

اوورسیز پاکستانیوں کو زیادہ منافع ، سرمائے کا تحفظ :عمران خان پیکیج کااعلان کریں


روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی، ڈالر 136 روپے سے بھی تجاوز کرگیا،انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں11روپے75 پیسے کا اضافہ ہوگیا۔امریکی ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جس کے بعد اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 136 روپے تک پہنچ گئی ,حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے مبینہ فیصلے کے بعد انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میںاضافہ ہوگیا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ڈالر کی قدر بڑھنے کا سبب آئی ایم ایف کی متوقع شرائط پر مزید ڈی ویلیوایشن ہے جبکہ کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ میلن، شنگھائی سمیت عالمی اسٹاک مارکیٹس پیر کو مندی کا شکار ہیں جس کی بڑی وجہ چین اور اٹلی کے حوالے سے معاشی خدشات اور ساتھ ہی ساتھ امریکی شرح سود میں اضافے کا امکان ہے اسی طرح سے ایشیا اور یورپ وال اسٹریٹ پر بھی مندی کا شکار رہے، اسکے ساتھ ساتھ امریکی ملازمتوں کے حوالے سے یہ امکانات بھی گردش کر رہے ہیں کہ فیڈرل ریزروماضی میں خیال کی گئی رفتار سے بھی تیزی کیساتھ شرح سود میں اضافہ کریگا۔
دوسری طرف پاکستانی حکومت کی غیر واضح معاشی پالیسیوں، غیریقینی معاشی صورتحال، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی سے سرمایہ کاروں میں اضطرابی کیفیت نے پیر کو پاکستان اسٹاک ایکس چینج کو رواں سال کی سب سے بڑی مندی سے دوچار کر دیا۔
ہماری رائے میں اب جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس قرضے کے حصول کیلئے جانے پر مجبور کردیا گیا ہے اور کچھ دنوں کے بعد شاید پاکستان آئی ایم ایف سے موجودہ بحرانی کیفیت سے نکلنے کیلئے نئے قرضوں کی باضابطہ طور پر درخواست کرے تو یقینی طورپر انکی شرائط بھی سخت ہونگی اور مطالبات بھی سامنے آئیں گے جن کو پورا کرنے کی صورت میں ہی پاکستان کو مالی مدد مل سکے گی ۔ ہم اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان کو تجویز دینگے کہ وہ اپنے وزیر خزانہ اور دیگر ماہرین معیشت کی ٹیم سے اسے زیر بحث لاکر اسکے قابل عمل ہونے پر اسے اختیار کریں ۔ ہم قبل ازیں سابق حکومت سے بھی یہ عرض کرچکے ہیں کہ پاکستان میں جہاں ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے حکومت پر کشش مراعات دے رہی ہے وہاں صرف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے صرف ڈیم کیلئے فنڈز کی اپیل کرنے کی بجائے بیرون ملک پاکستانیوں کو اپنے ڈالرز بیرون ملک بنکوں میں رکھنے کی بجائے پاکستان لانے کی ترغیب دے بیرون ملک انہیں جو شرح منافع دیا جاتا ہے اس سے زیادہ شرح منافع اور سرمائے کو مکمل قانونی تحفظ کی یقین دہانی کرائے تو بخوشی اپنی دولت اور جمع بچت بیرونی ممالک کے بنکوں میں رکھنے کی بجائے پاکستان بھجوانے کو ترجیح دینگے ۔ ان تارکین وطن کو سرمائے کی بیرون ملک انہیں واپسی کی قانونی طور پر منتقلی کی سہولت دینے کا یقین دلایا جائے اور انہیں ہرقسم کی پوچھ گچھ سے استثنیٰ بھی دیا جائے ۔اس اقدام سے ان کا حکومت پر اعتماد بڑھے گا اور وہ لاکھوں کروڑوں ڈالرز پونڈ اور یورو پاکستان بھجوائیں گے کیونکہ انہیں یقین ہوگا کہ ان کا سرمایہ انکے اپنے ملک میں محفوظ بھی ہے اور اس پر شرح منافع بھی دیگر ممالک سے زیادہ دیا جارہا ہے اور تحفظ بھی حاصل ہے ۔
ہماری رائے چونکہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے بیرون ملک نہ تو دیگر سیاستدانوں اور کاروباری شخصیات کی طرح سے کروڑوںاربوں کے اثاثے ہیں نہ ہی ان کی بیرون ملک بھاری سرمایہ کاری ہے ۔ ہمیں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی نیک نیتی پر پورا بھروسہ ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ وہ آئی ایف کے پاس جانے سے قبل اس تجویز پر غور کریں گے تاکہ قوم آئی ایم ایف کی بار بار غلامی میں جانے سے بچ سکے ۔اس پالیسی سے پاکستان کے پاس بے تحاشہ زرمبادلہ آئے گا اور پاکستانی روپے میں ان پاکستانیوں کو زیادہ شرح منافع دینے سے بھی کوئی نقصان نہیں ہوگا ادائیگیوں کا توازن بھی بہتر ہوگا اور ملک بھی بدترین اقتصادی ومعاشی بحران سے نکل جائے گا اور ڈالر کی قیمت بھی اعتدال پر آجائے گی ۔
منی لانڈرنگ،شرمناک لوٹ مار
چینی حکومت کے اقدمات کو اپنا یا جائے
وزارت داخلہ نے جعلی اکاونٹس سکینڈل میں ملوث مجموعی طور پر 95افراد کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کردی، 78 افراد کے نام ایگزٹ کنڑول لسٹ پر ڈالے گئے ہیں جب کہ 17 افراد کے نام عبوری سٹاپ لسٹ پر رکھے گئے ہیں، سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کے خاندان کے کسی بھی فرد کے بیرون ملک جانے پرکوئی پابندی نہیں۔
پاکستان پر بدعنونانی کے خاتمے اور پاکستان سے کی جانے والی منی لانڈرنگ کی رقم کو غلط مقاصد کیلئے استعمال کے خدشات بڑھ رہے ہیں پاکستان کو بیرونی دنیا سے کئی ایک مسائل کا سامنا ہے جن میں پاکستان کو اقتصادی پابندیوں میں جکڑنے کی باتیں بھی کی جارہی ہیں ۔پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایف اے ٹی ایف کو آگاہ کیا ہیکہ اقوام متحدہ کی ہدایات کے مطابق دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے تمام اقدامات کرچکے ہیں۔اسلام آباد میں شروع ہونے والے یہ مذاکرات 19 اکتوبر تک جاری رہیں گے اور اس دوران یہ وفد چاروں صوبوں کا بھی دورہ کرے گا۔
ہماری رائے میں یہ ضروری ہے کہ حکومت چین میں مالیاتی جرائم ،منی لانڈرنگ اور سرمائے کی غیر قانونی طور پر منتقلی کے خاتمے کیلئے اپنائی جانے والی حکمت عملی کا جائزہ لے اور اسے پاکستان میںبھی قانون سازی کرکے نئے قوانین کی شکل میں روبہ عمل کرے تاکہ کم سے کم وقت مین بدوعنوانوں سے نہ صرف یہ کہ لوٹی گئی رقم واپس لی جاسکے بلکہ ایسے عناصر کو قانون کی روشنی میں تادم مرگ جیل میں ڈال جاسکے یا پھانسی چڑھایاجاسکے ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جنب تک بڑے چور،لٹیرے ڈاکو ،منی لانڈرنگ میں ملوث ان عناصر کو عبرتناک سزائیں نہیں دی جاتیں اور انکے حامیوں اور سہولت کاروں کا بھی قافیہ تنگ نہیں کیا جاتابہتری نہیں آئے گی۔ سیاسی اور کاروباری لبادے میں یہ عناصر ملکی وسائل کو لوٹتے رہیں گے اور ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑا جا سکے۔ گا اس حوالے سے حکومتی اقدمات کو مزید نتیجہ خیز بنایا جانا چاہئے اور امتیازی سلوک اور پالیسی روا نہ رکھی جائے تو یہ بہتر ہو۔گا چھوٹے بڑے اور خاص عام کی تمیز روا رکھی گئی تو عوام کا اعتماد اٹھ جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت گرفتاری سے قبل تحقیقاتی عمل کو خفیہ رکھے اور تمام ثبوت ملنے کے بعد ہی اعلان کرے ایسے شاطر عناصر گرفت میں آنے سے قبل ہی بھاگ جاتے ہیں اور ادارے سانپ نکلنے کی بعد لکیر پیٹنے جیسی کیفیت سے دوچار ہوجاتے ہیں اوررسوائی اور سبکی ساری قوم کے سامنے ہوتی ہے ۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved