تازہ ترین  
منگل‬‮   11   دسمبر‬‮   2018

فلاحی کاموں کے نام پر دہشت گردی


صرف ایک غدار شکیل آفریدی کا معاملہ ہی دیکھ لیا جائے تو عالمی این جی اوز کا کردار کھل کر سامنے آجاتا ہے، ایک نہیں کئی ایک این جی اوز بے نقاب ہوتی ہیں اور پاکستان میں بچوں کی صحت سے لیکر تعلیم بالغاں تک کے لئے عالمی قوتوں اور اداروں کی فکر مندی کے اصل اسباب سے بھی نقاب اٹھ جاتی ہے کہ کس طرح ایک این جی او پاکستان میں امریکی دہشت گردی میں سہولت کار بنی اور کیسے این جی اوز کی آڑ میں اس ننگ وطن کو رہا کروانے کی خاطر دہشت گردی کے منصوبے تشکیل دئے گئے ۔
اس حوالہ سے کوئی شبہ باقی نہیں رہا کہ عالمی این جی اوز استعماری مقاصد رکھنے والے اسلام دشمن انٹیلی جنس اداروں کی آلہ کار ہی نہیں بلکہ جاسوسی اور دہشت گردی کے لئے پیدا کردہ ہتھیار ہیں۔ خود سی آئی اے کی آفیشل ویب سائٹ تسلیم کرتی ہے کہ وہ سرد جنگ کے دور سے ہی این جی اوز کو جاسوسی ، بغاوت ، معاشروں میں امریکی مقاصد کے حوالہ سے تحاریک اٹھانے اور دہشت گردوں کو معلومات اور مدد دینے کی خاطر پیدا اور استعمال کر رہی ہے ۔ امریکہ کی نیشنل انٹیلی جنس کونسل کی سابق وائس چیئرپرسن اور سی آئی کے سپانسرڈ تھنک ٹینک Henry L. Stimson Center کی سربراہ Ellen B. Laipsonنے اپنے ایک مضمون میں پوری تفصیل کے ساتھ لکھا ہے کہ کس طرح امریکی انٹیلی جنس این جی اوز کو پیدا کرتی ہے اور ان سے معاشروں کی شکست وریخت کا کام لیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ دہشت گرد گروپس کی تخلیق اور ان سے ہر طرح کے تعاون میں کس طرح سے کام کرتی ہیں ، اس مضمون میں اس پر بحث کی گئی ہے کہ اس تمام عمل کو کس طرح سے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ جون2008میں لکھا گیا یہ مضمون سی آئی اے کی آفیشل ویب سائٹ پر لائبریری میں آج بھی موجود ہے۔اس مضمون میں جن این جی اوز کے کردار کو سی آئی اے کے لئے باعث فخر قرار دیا گیا ہے ان میں ،انٹرنیشنل ریڈکراس،کیئر،ورلڈ ویژن، مرسی کور، سیو دی چلڈر،انٹر نیشنل میڈیکل کور کے نام نمایاں ہیں،یہی وہ تمام این جی اوز ہیں جو پاکستان میں بھی گھسی ہوئی ہیں ، پاکستان میں بلوچستان کی دہشت گردی سے لیکر فاٹا میں منظور پشتین جیسے کرداروں کے پس پردہ ایسے ہی ہاتھ پوری طرح سے واضع دکھائی دے رہے ہیں ۔
حیرت اس بات پر ہے کہ خود امریکی انٹیلی جنس دنیا کی ایک ماہر سی آئی اے کی ویب سائٹ پر 2008میں امریکی آلہ کار تنظیموں کو بے نقاب کرچکی ہے مگر ہمارے اداروں نے انہیں روکا کیوں نہیںکھلی چھٹی کیوں دے رکھی ؟اگر اس وقت ہی انہیں زیر نظر ہی کم از کم رکھ لیا جاتا تو سانحہ ایبٹ آباد جیسا ڈیزاسٹر سامنے نہ آتا ۔ مگر چونکہ اس وقت ملک پر بر سر اقتدار ٹولہ خود امریکی آلہ کار تھا اور ان کے بعد آنے والی زرداری حکومت ان سے بھی دو ہاتھ آگے امریکی ایجنڈے پر عمل پیرا تھی اس لئے ان سانپوں کو پاکستان میں اپنا زہر پھیلانے کا موقع میسر رہااورپاکستان میں بلوچستان سے لیکر وزیرستان تک دہشت گردی کی آگ ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتی چلی گئی ، 2011 کے بعد جیسے جیسے ان عالمی عفریتوں کے خلاف کارروائی عمل میں آتی گئی خونریزی میں بھی کمی واقع ہوتی گئی ۔
گزشتہ حکومت میں ملکی سلامتی کے اداروں کی جانب سے قوانین میں سختی اور مانیٹرنگ میں اضافہ کیا گیا تو انکشاف ہوا کہ چھوٹے قرضوں کے نام پر جنوبی پنجاب میں متحرک ایک این جی او ایسی بھی تھی جو رجسٹرد تو بنگلہ دیش میں تھی مگر جاسوسی بھارت کے لئے کرتی تھی۔ ایسا ہی ایک کردار کراچی میں بھی سامنے آیا کہ جہاں قانونی مشاورت کے لئے قائم ایک ادارہ بھارت کے لئے کام کرتا پکڑا گیا ۔مزے کی بات یہ کہ اس ادارہ نے پاکستان میں ایک نیک نام سابق جج کو اپنا سربراہ مقرر کر رکھا تھا اور وہ اس تمام واردات سے یکسر بے خبر بھارتیوںکے لئے ڈھال کا کام کرتے رہے ، اسے ایف بی آر نے پکڑا ۔اسی طرح امریکہ اسرائیل اور بھارت کے لئے کام کرنیوالی کئی ایک این جی اوز بے نقاب ہوئیں ، جن میں سے بعض تو رجسٹرڈ بھی نہ تھیں ۔ان سب کو ملک بدر کرنے کا حکم جاری کیا گیا اور وزیر داخلہ چودھری نثار نے آن دی ریکارڈ کرتوت بھی بتائے مگر المیہ جیسا المیہ ہے کہ دسمبر میں وزارت داخلہ نے ان این جی اوز کو کام کرنے سے روکاا ور جنوری میں نئے آنے والے وزیر داخلہ احسن اقبال نے ان ملک دشمن اداروں کو باقاعدہ کام کرنے کی اجازت دے دی ۔ اطلاع یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے ان میں سے 18کو ایک بار پھر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے ۔ توقع ہے کہ اس بار کسی عالمی دبائو پر یہ حکم واپس نہیں لیا جائے گا ، اور پاکستان میں دشمن اداروں کی آنکھ، کان اور ہاتھ کا کردار ادا کرنے والی ان این جی اوز کو واقعی ملک بدری کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے قوانین کو سخت کیاجائے اور نا صرف عالمی این جی اوز کے کردار پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے بلکہ مقامی این جی اوز پر بھی پابندی عائد کی جائے کہ وہ براہ راست بیرون ملک سے مدد نہ لے سکیں ۔اس وقت بھی صورتحال یہ ہے کہ ان عالمی اداروں نے سینکڑوں کی تعداد میں مقامی ایجنٹس اور چھوٹے یونٹس پیدا کر رکھے ہیں ، جو ان کے لئے کام کرتے ہیں ، اس نیٹ ورک میں کام کرنے والے پاکستانی کارکن جانتے تک نہیں کہ ان سے کیا خوفناک کام لیا جارہا ہے ۔لازم ہے کہ ملکی ادارے این جی اوز پر مستقل نظر رکھیں اور دہشت گردی کے ان سہولت کاروں کو ملک میں گھسنے کا راستہ نہ دیا ، اس حوالہ سے سخت قانون سازی اور کڑی نظر رکھنے کی ضروت کو نظر اندازنہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی کسی طرح کے عالمی دبائو کو قبول کرنے کی کوئی گنجائش باقی ہے ۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved