تازہ ترین  
جمعہ‬‮   19   اکتوبر‬‮   2018

ڈالر 136 روپے کا! ملزم کون ؟


ڈالر اک دم 136 روپے پر چلا گیا ،آئی ایم ایف 150 روپے تک لے جا نا چاہتی ہے۔ قرضے ایک دن میں 900 ارب کے قریب بڑھ گئے !O..گلگت بلتستان کے ن لیگ کے وزیراعلیٰ کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات !O.. تھر میں اس سال 486 بچے مر گئے ، چیف جسٹس کی برہمی !O..آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالر کا قرضہ لیاجائے گا، حکومتی ذرائع !O..سینیٹ میں مولانا فضل الرحمان کے بھائی عطاء الرحمن کی عمران خان کو گالیاں، ہنگامہ !O.. حیدر آباد: رکشا ڈرائیور کے اکاؤنٹ میں پانچ کروڑ روپے آگئے !O.. تھر میں امدادی فنڈ سیاست دان کھاجاتے ہیں، سپریم کورٹ میں ایم این اے کا بیان !O.. حکومت کو5 سال پورے کرنے دیں گے:خورشید شاہ !O..نیب نے شہبازشریف کے بیٹے سلمان شہباز کو بھی بلالیا، آمدنی سے زیادہ جائیداد کی جواب دہی !O..پنجاب میں پیپلز پارٹی اب نہیں اٹھ سکتی ، پارٹی کی قیادت کااعلان!
٭وزیر خزانہ کے آئی ایم ایف سے قرضہ طلب کرنے کے اعلان میں اک دم شدید مالی بحران پیدا ہوگیا۔ سٹاک ایکس چینج شدید مندی کے بعداک دم 4200 سے گر کر 3800 پوائنٹ تک آگیا۔ حصہ داروں کے کھربوں ڈوب گئے۔ ڈالر کی قیمت میں صرف ایک دن میں پونے دس روپے (9.75) کا اضافہ ہونے سے قیمت 136 روپے تک پہنچ گئی۔ ملک کے ذمے قرضوں میں ایک ہی دن میں 900 ارب (9 کھرب) روپے کااضافہ !پٹرول اور دوسری اہم درآمدات کی قیمت میں بھاری اضافہ کا امکان۔ وزیر خزانہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے انڈونیشیا چلے گئے، پیچھے مالیاتی ماہرین کے ساتھ عالمی ایف اے ٹی ایف ( فنانس ایکشن ٹاسک فورس) کے ساتھ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے مذاکرات جاری ہیں۔ یہ صورتحال یک دم سے سامنے نہیںآئی۔ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے درست کہاہے کہ اس صورتحال کی ذمہ زرداری اور شریف حکومتیں ہیں، جنہوں نے ملک کو بھاری قرضوں میں جکڑ دیا اوراس کا کوئی حل تلاش نہ کیا۔ یہ حقیقت ہے کہ یہ بدترین صورت صرف ایک ڈیڑھ ماہ میں نہیں بلکہ شوکت ترین کے مطابق پچھلے دو برسوں سے پیدا کی گئی ہے۔ یہ لوگ قرضے لیتے رہے اور خود عیش و عشرت میں مصروف رہے۔ نوازشریف کے 65 کروڑ کے 70 دورے! ہر دورہ حتیٰ کہ سنگاپور کا دورہ بھی لندن کے فلیٹس سے ہوکر گزرتاتھا۔ یہی حال آصف زرداری کا! ہر دورہ شارجہ کے عظیم الشان فارم ہاؤس اوردبئی کے چاربڑے پلازوں کے سائے تلے ہوکر چین اور دوسرے ممالک کا رُخ کرتا تھا۔ اصولی طورپر تو ملک کواس بدحالی تک پہنچانے کے جرم میں ان لوگوںکا سخت ترین محاسبہ ہوناچاہیے!مگرہم صرف اقامہ تک محدود ہوکر رہ گئے !! مجھے علم نہیں، اس بارے میں آئین اور قوانین کیا کہتے ہیں؟ ن لیگ نے شہبازشریف کی گرفتاری کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بنا لیا ہے۔ اسمبلیوں کے اجلاس طلب کیے جارہے ہیں۔ ان اجلاسوں سے کیا ہوگا؟ قانونی مقدمے ان اجلاسوں کے ذریعے کیسے ختم کیے جاسکتے ہیں جب کہ اسمبلیوںمیں اکثریت بھی حاصل نہ ہو؟ محض گالی گلو چ اور واک آؤٹ کے ڈرامے!
٭سینیٹ میں مولانا فضل الرحمان کے بھائی عطاء الرحمان نے وزیراعظم عمران خان کوکھلی سخت قسم کی گالیاں دیں۔ چیئرمین سینیٹ نے ان کھلی گالیوں کو حَذَف کرادیا مگراخبارات نے چھاپ دیں۔ اصولی اور قانونی طورپر جو الفاظ اسمبلی یا سینیٹ میں حَذَف کردیئے جائیں ان کی نوعیت یوں ہو جاتی ہے گویاکبھی کہے نہیں گئے۔ تاہم یہ سب کچھ اخبارات میں چھپ چکا ہے۔ سینیٹر عطاءالرحمان کو اپنے بھائی مولانا فضل الرحمان کی انتخابات میں شکست کا غم و غصہ اپنی جگہ لیکن انہوں نے عمران خا ن کو جو گالیاں دیں ان کے جواب میں تحریک انصاف کے ہتھ چھُٹ شعلہ زبان نمائندوں نے ان گالیوں کا انہی یا ان سے بڑھ کر گالیوںمیں جواب دے دیا تو گالی شروع کرنے والے کی کیا عزت رہ جائے گی؟ بات صرف عطاءالرحمان کی ہی نہیں، سب ایک جیسے ہیں!
٭سپریم کورٹ نے سندھ کے تھر علاقے میں بھوک پیاس سے مرنے والے بچوں کی تعداد میں ہوش ربا اضافے (اس سال486 بچے)کانوٹس لیا تو اذیت ناک انکشافات ہوئے۔ اس علاقے سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے رکن رمیش کمار نے عدالت میں بیان دیا کہ تھر کے علاقے میں پورے سندھ سے زیادہ شدید کرپشن ہورہی ہے۔ جتنی امداد وہاں آتی ہے وہ بڑے بڑے سیاست دانوں کی تجوریوں میں چلی جاتی ہے حتیٰ کہ شرم ناک بات کہ تھر کے غریب لوگوں کے لیے جو خوراک آتی ہے اسے حاصل کرنے والے افراد کی فہرستوں میں بڑے بڑے وڈیروں کے نام بھی شامل ہوتے ہیں! استغفار! عدالت میں اٹارنی جنرل نے بتایاکہ تھر کے علاقے میں کئی سال پہلے اربوں روپے سے کول پلانٹ(کوئلہ کا بجلی گھر) لگا یاگیا، اس کا بڑی شان و شوکت سے افتتاح کیا گیا مگر یہ پلانٹ پہلے دن سے ہی بند پڑا ہے! سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یہ تفصیلات سن کر برہم ہوگئے اورسندھ کے چیف سیکرٹری، سیکرٹری صحت وغیرہ کو اگلی پیشی پر طلب کرلیا ہے۔ چیف جسٹس نے قراردیا کہ میں خود تھر میں بیٹھ کر صورت حال کا جائزہ لونگا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ تھرکول منصوبے کے انچارج ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر ثمر مند مبارک ہیں جوکئی برسوں سے کروڑوں روپے معاوضہ وصول کر چکے ہیں۔ فاضل چیف جسٹس نے انہیں بھی بلانے کا عندیہ دیاہے۔ یہ بات بھی کہ آصف زرداری نے کبھی تھر کادورہ نہیں کیا۔ بلاول زرداری نے صرف ایک بار ہیلی کاپٹر اور لاؤلشکر کے ساتھ صرف مٹھی ہسپتال کاایسے عالم میں معائنہ کیا کہ پروٹوکول کی 30 سے زیادہ گاڑیوں کے باعث مٹھی ہسپتال کو جانے والی تمام سڑکیں بند کردی گئیں اور ہسپتال سےتمام مریضوںکو نکال دیاگیا اور لوگوں پر اس کے دروازے بند کردیئے گئے۔ ایک روز قبل بھی ایسا ہی منظر دیکھنے میں آیا کہ سندھ کابینہ کے آٹھ وزیر ہیلی کاپٹر، لینڈ کروز اور دوسری اعلیٰ گاڑیوں کے ساتھ مٹھی ہسپتال پہنچے، پورے شہر میں کرفیولگ گیا۔ سڑکیں بند، ہسپتال بند، ان ”اعلیٰ“ مہمانوں نے ہسپتال کا رسمی چکر لگایا، ایک وڈیرے کا عمدہ کھاناکھایا، شام کو کراچی واپس پہنچ گئے اوروزیراعلیٰ کو سب اچھا کی رپورٹ دے دی!
٭کیا کیا ہوش ربا داستانیں! کیا سندھ ، کیا پنجاب اور کیا بلوچستان وخیبر پختونخوا! کسی جگہ بھی ایک اینٹ اٹھاؤ، نیچے سے اربوں کھربوں کی کرپشن اُ مڈپڑ تی ہے۔ صرف ایک مثال کہ چارسال پہلے لاہور میں کوڑا کرکٹ صاف کرنے کے لیے بولی کے کسی مقابلے کے بغیر ایک ”پسندیدہ“ غیر ملکی فرم کوٹھیکہ دے دیا گیا۔ اسے 14 ارب روپے پیشگی ادا کر دیئے گئے۔ اس نے سرکاری خرچ پر (10600)ملازم رکھ لیے، پانچ سو گاڑیاں خرید لیں، شاندار دفاتر قائم کرلیے، مگر لاہور میں ایک روزبھی کوڑا کرکٹ صاف نہ ہوا! لاہور میں ہرروز چار ہزار ٹن کوڑا جمع ہوتاہے۔ شہر میں ہر طرف کوڑے کے پہاڑ جمع ہوگئے ہیں۔ ہر طرف غلاظت پھیل گئی ہے اس سے بیماریاں پھیل رہی ہیں،سابق حکومت( وزیراعلیٰ ) کی من پسند کمپنی 14 ارب روپے کھا کر بھاگ گئی ہے!! یہ صرف کوڑا کرکٹ کا معاملہ ہے۔ صاف پانی کے کیس میں تو 60 ارب روپے کھالیے گئے اور لاہور ، بلکہ کسی بھی شہر کو صاف پانی کی ایک بوند بھی نہ ملی! باپ کا مال تھااس طرح لٹایا گیا جس طرح شادی بیاہ میں کالا دھن لٹایاجاتاہے! اور مواخذہ ہونے لگے تو اسمبلیوں میں ہنگامے!!
٭پیپلز پارٹی کی قیادت نے پارٹی کے رسمی چیئرمین بلاول بھٹو اور اصلی چیئرمین آصف زرداری کو رپورٹ پیش کی ہے کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی اس طرح ختم ہو گئی ہے کہ اسے اب پہلی حالت پر بحال نہیں کیا جاسکتا۔ رپورٹ میں خاص حوالہ دیاگیا کہ جنوبی پنجاب کو پیپلز پارٹی کاقلعہ کہا جاتا تھا مگروہاں پارٹی کو بری طرح شکست کا سامنا کرناپڑا ہے ۔ عالم یہ ہے کہ پارٹی کے سابق اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نےدو روز پہلے عمران خان کو چیلنج کیا کہ تمہار ی حکومت جلد مٹ جائے گی۔ صرف ایک دن بعد بیان دیا ہے کہ عمران خان کی حکومت کو پانچ سال تک چلتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسے چھیڑیں گے نہیں! قارئین کرام خود تبصرہ کر لیں۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved