تازہ ترین  
منگل‬‮   11   دسمبر‬‮   2018

خواب اور تعبیر


 

سیاست بھی خوابوں کی تجارت ہے۔ دنیا بھر میں سیاسی رہنما اور سیاستدان خواب بیچتے ہیں اور کچھ ایسے خواب بیچتے ہین جن کی تعبیر پانا ان کے بس میں ہوتا ہے ۔ لیکن اقتدار میں آکر جب سیاستدان حکمران بنتے ہیں تو انہیں ان خوابوں کی مثبت تعبیر بھی دینا ہوتی ہے ۔ خوابوں کی اس تجارت میں اخبارات ، ٹیلی ویژن ۔ اور آجکل سوشل میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے کیونکہ ان خوابوں کو قابل قبول شکل دیکر پیش کرنے ہیں وہ Catalyot ہوتے ہیں اور آجکل کے دور میں تو میڈیا جو اہمیت حاصل کر چکا ہے اس میں خوابوں کی تجارت کو کامیاب یا ناکام بنانے میں میڈیا کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ خوابوں کی کامیاب مارکیٹنگ والے جب اقتدار میں آتے ہیں تو اصل امتحان جبھی شروع ہوتا ہے کیونکہ وہی میڈیا جو ان کے خواب بیچتے ہیں ان کا ممدو معاون ہوتا ہے اب ان خوابوں کی تعبیر کیلئے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور خوابوں کے ناکام تاجر اسی میڈیا کے ذریعے تعبیر کے مطالبے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔
چار دہائی قبل روٹی ، کپڑا اور مکان کا خواب دکھایا گیا اور بھرپور پذیرائی پا کر خواب بیچنے والے اقتدار میں آگئے اور جب تعبیر پانے کا سفر شروع ہوا تو نئے خواب بیچنے کا کاروبار شروع ہو گیا اتحاد بین المسلمین ، بیرون ملک روزگار کی باتیں شروع ہوئیں لاکھوں کی تعداد میں بیرون ملک روزگار پانے والے اور ان کے خاندان تو خوابوں کی تعبیر پا گئے مگر جو پیچھے رہ گئے انہین پھر کسی نئے خواب کا انتظار ہونے لگا ۔ پھر نفاذ اسلام کا خواب مارکیٹ ہونے لگا اور دس سال تک اس کی تعبیر ڈھونڈتے گزر گئے پھر نئے خواب مارکیٹ میں آگئے کبھی امپا ورنگ دی کامن مین کبھی امیاورنگ دی وومن کے نام پر خواب بیچے گئے کبھی فوری اور دہلیز پر انصاف کا خواب اور کبھی مقامی حکومتوں کے خواب سے عوام کو مسحور کیا گیا ۔ ایک عرصے سے یہ خواب بھی وطن عزیزکے عوام کو چین سے نہیں سونے دیتا کہ کچھ بڑے لوگوں کے اربوں ڈالر جو بیرونی ممالک میں ہیں وہ واپس آئیں گے اور سب غریب ختم ہو جائیں گے ۔ ہر شخص خوشحال ہو گا ۔ مفت علاج ۔ مفت انصاف مفت تعلیم ۔ فوری نوکری ۔ کاروبار کیلئے سرمایہ وغیرہ سب میسر ہوگا۔ پھر وقفے وقفے سے عوام فرینڈلی پولیس کا خواب بھی ایک طویل عرصے سے بیچا جا رہا ہے ۔ یہ سب تو نہ ہو سکا مگر عوام ہیں کہ خواب خریدنے میں ابھی تک مصروف ہیں۔ انہیں خوابوں سے فرصت ہی نہیں ۔ بھلا ہو ہمارے الیکٹرنک اورپرنٹ میڈیا کا انہیں بیرونی دنیا کی خبر ہی نہیں ہونے دیتا یوں لگتا ہے ہر معاملے میں ہم خود کفیل ہیں کبھی کسی سے لینا دینا ہی نہیں۔
اقتدار میں آکر خواب کے کسی سوداگر نے عوام سے مشاورت ہی نہیں کی کہ کیسے مل جل کر ان خوابوں کی تعبیر پائی جائے جو انہوں نے الیکشن کے دنوں میں خریدے تھے۔ خواب بیچتے ہوئے جو بتایا جاتا وہ اقتدار میں آکر ایک طرف رکھ کر سب اپنے مقتدر اور صاحبان علم ساتھیوں کے مشورے سے کچھ اور ہی تعبیر پانے لگے۔
دو نہیں ایک پاکستان ہم سب کا پاکستان نیا پاکستان جس میں سب برابر اور مساوی ہونگے ایک مسحور کن خواب ہے اب اس کی تعبیر پانے کے لیے پھر خواب خریدنے والوں کو دو سال صبر اور استقامت کی تلقین کی جا رہی ہے کیونکہ حالات ناموافق ہیں۔ اقتصادی صورت حال خراب ہے ۔ خواب خریدنے والے تو سوچے ہوئے تھے کہ فوری طور پر صاحبان ثروت سے 50 سے 60 بلین ڈالر لے لئے جائیں گے جو ان کے بیرونی ملکوں میں جمع ہیں اور سب مشکلات ختم ہو جائیں گی ۔ ہمارے برادر ممالک فوری طورپر ہماری مدد کو آئیں گے اور ہمیں مشکل سے نکال لیں گے مگر یہ بھی نہ ہوا بلکہ اب پھر ہمیں بقول میر۔
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے بیٹے سے دوا لیتے ہیں
پھر آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑ گیا ۔ ظاہر ہے مجبوری میں سب کڑوی گولی لیتے ہیں اور اب ہمیں تو یہ کڑوی بھی نہیں لگتی کیونکہ عادت سی ہو گئی ہے ۔
ادھر موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب گرمی بھی بڑھ رہی ہے ۔ سردی بھی بڑھے گی مگر سردیوں میں گیس نہیں تو گرمیوں میں بجلی استطاعت سے باہر ہو گئی
۔ کسان فرینڈلی پالیسیاں ہونگی مگر ڈی اے پی اور یوریا بھی مہنگی ہو گئی ۔ ڈیزل اور بجلی مہنگی ہوگئی تو پانی مہنگا ہو گیا زراعت کیسے پھلے پھولے۔
شہروں کے ماحول کو صاف ستھرا بھی تو کرنا ہے اسلئے ناجائز تجاوزات ہٹانا بھی ضروری ہے ظاہر چھوٹی دوکانیں۔ ریڑھیاں ہی تجاوزات ہیں اس لئے ہٹانا بھی ضروری ہے ۔ ہائوسنگ سکیموں میں بنے گھر بھی گرانے تھے کہ ناجائز بنے تھے مگر سکیموں کے مالکان کو پکڑنے کی بجائے گھر گرا دینے سے خواب تو چکنا چور ہو نگے ۔ پراپرٹی ٹائیکون تو بیچ کر الگ ہو گئے مگر کیا یہ گھر ایک دن میں بنے تھے۔ کسی نے تو منظوری دی ہوگی۔ کسی نے ہائوسنگ سکیم کی بھی منظوری دی ہوگی ۔ ان سے تو بعد میں پوچھا جائیگا پہلے گھر گرائو ۔
خوابوں کی تعبیر پانے کیلئے ٹاسک فورس اور کمیٹیاں مصروف عمل ہین یقینا صائب اور اچھے مشورے ہی دیں گی ۔ پھر ان پر عمل کرنے کیلئے بھی تجاویز مانگی جائیںگی ۔ تب تک نئے خواب مارکیٹ میں بکنے کو تیار ہوں گے اور یوں خوابوں کی تجارت چلتی رہے گی جب تک خریدار ہیں گاہک ہیں خواب تو بکتے رہیں گے۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved