تازہ ترین  
منگل‬‮   11   دسمبر‬‮   2018

روسی ایئر ڈیفنس سسٹم اور بھارت کا جنگی جنون


شدیدامریکی تحفظات کے باوجود بھارت نے روس سے جدید ترین ائیر ڈیفنس سسٹم ایس خریدنے کے معاہدے کو حتمی شکل دے کے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کا آغاز ہمیشہ دلی سرکار کی جانب سے کیا جاتا ہے ۔ روسی صدر پیوٹن کے حالیہ دورے میں ائر ڈیفنس سسٹم سمیت اسلحہ خریداری کے آٹھ معاہدوں کو حتمی شکل دی گئی ہے ۔ عالمی سطح پہ ملکوں کے دفاعی اخراجات کا تجزیہ کرنے والے ادارے اسٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق سے کے دوران بھارت دنیا بھر میں اسلحے کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے۔ عالمی سطح پہ دنیا میں فروخت ہونے وا لے تمام اسلحے کا بارہ فیصد بھارت خریدتا ہے ۔ گزشتہ دس سالوں کے دوران بھارت نے سو ارب ڈالر سے زائد مالیت کے ہلاکت انگیز ہتھیار خریدے ۔ بھارت کے جنگی جنون کی بدولت برصغیر کا خطہ ہتھیاروں کی کبھی نہ ختم ہونے والی دوڑ کا مرکز بن چکا ہے ۔ یہ بھارت ہی ہے جس کی بدولت ستر کی دھائی سے اس خطے میں روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کشمکش کا آغاز ہوا ۔ بعض نام نہاد دانش فروش زمینی حقائق کے برخلاف پاکستان پہ علاقائی امن بگاڑنے اور ہتھیاروں کی دوڑ کو تیز کرنے کا غلط الزام دھرتے رہتے ہیں ۔ بھارت کی موجودہ روش خصوصا مہلک ہتھیاروں کی بھوک اس امر کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ دلی سرکار علاقائی تنازعات کو پرامن انداز سے نہیں بلکہ عسکری طاقت ، دھونس اور تشدد کے ذریعے طے کرنے کی پالیسی پہ کاربند ہے۔ روس کے ساتھ اسلحے کی ڈیل خصوصا ائر ڈیفنس سسٹم کی خریداری پہ امریکہ کو شدید تحفظات تھے ۔ امریکی قوانین کے مطابق روس ، کوریا اور ایران سے اسلحے کی خریداری کرنے والے ملک پہ امریکہ پابندیاں عائد کر سکتا ہے ۔ گو امریکہ نے بھارت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا لیکن پابندیاں لگانے کے انتہائی اقدام سے گریز برتتے ہوئے یہ کڑوی گولی نگل لی ۔ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بھارت امریکہ سے یاری نبھاتے ہوئے اپنے قومی مفادات پہ سودے بازی پہ تیار نہیں ۔ ماضی میں بھی ایران پہ عائد کی جانے والی امریکی پابندیوں کے باوجود بھارت نے حسبِ سابق ایرانی تیل کی خریداری بھی جاری رکھی اور چاہ بہار بندرگاہ منصوبے میں بھی تعاون ختم نہیں کیا ۔ روس سے اسلحہ خریداری کے یہ سودے راتوں رات نہیں ہوئے بلکہ کئی برسوں کی مسلسل کاوش کے بعد یہ حتمی معاہدے طے پائے ہیں ۔ بھارت کے ساتھ بڑی مالیت کے سودوں کا طے پا جانا روس کی بھی بڑی سفارتی کامیابی ہے ۔ اس اقدام سے روس نے بڑی چابکدستی کے ساتھ ایک مرتبہ پھر عالمی منظر نامے پہ امریکہ کی بطور سپر پاور بالا دستی کو زک پہنچائی ہے ۔ امریکہ کی جانب سے بھارت پہ پابندیوں سے گریز اس امر کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ فی الحال خطے میں چین کی راہ روکنے کے لیے واشنگٹن کے پاس دلی سرکار سے بہتر کوئی اور متبادل دستیاب نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت جیسے اہم اتحادی کی جیب سے اربوں ڈالر روسی کمپنیوں کی جیب میں جاتے دیکھ کے بھی امریکہ برداشت کا کڑوا گھونٹ پینے پہ مجبور ہے ۔
پاکستان کے لیے موجودہ صورتحال میں پیچیدگیاں بھی ہیں ، سبق بھی اور بعض ایسے اشارے بھی کہ جنہیں سمجھے بنا مستقبل کے لیے بہتر لائحہ عمل مرتب کرنا ممکن نہ ہوگا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج روس سے خرید کردہ ائر ڈیفنس سسٹم کشمیر کے محاذ پہ نصب کر کے پاکستان پہ عسکری برتری حاصل کرنے اور دبائو بڑھانے کے منصوبے تیار کئے بیٹھی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی دن بہ دن بگڑتی صورتحال ، ایل او سی پہ بھارتی گولہ باری اور بھارتی آرمی چیف کے حالیہ دہمکی آمیز بیانات منطقی اعتبار سے پاکستان کی تشویش میں اضافے کا باعث ہے ۔ بھارت جیسے بد نیت ، سازشی اور جارحیت پسند پڑوسی کے حالیہ اقدامات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ امر بھی واضح ہے کہ موجودہ حالات میں بھارت پاکستان کے ساتھ معاملات نبٹانے کے لیے مذاکرات کی میز کے بجائے عسکری کشیدگی کو ترجیح دے گا ۔ ان حالات میں لا محالہ پاکستان کو اپنی دفاعی استعداد پہ نظرِ ثانی کی ضرورت ہو گی ۔ معاشی استحکام کے بغیر دفاعی استعداد میں خاطر خواہ بہتری ممکن نہیں ۔ واضح رہے کہ بھارت کے برعکس پاکستان نے گذشتہ دس برس میں ہتھیاروں کی درآمد میں تیس فیصد کمی کی ہے ۔ بھارت جیسا ناقابلِ اعتبار پڑوسی اگر روایتی اور ایٹمی ہتھیاروں کے انبار لگانا شروع کر دے تو اس معاملے پہ آنکھیں بند رکھنا بے وقوفی ہو گی ۔ بعض عقل کے اندھے پاکستان کو بھارت کی جارحانہ روش کو نظر انداز کرنے کا مشورہ دے کے اپنے غیر ملکی آقائوں کے ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی بھارت کے فیصلہ سازوں اور عسکری قیادت کے نزدیک دنیا بھر میں ان کا سب سے بڑا دشمن کوئی اور نہیں بلکہ پاکستان ہے ۔ موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ پاکستان میں معاشی استحکام اور امن و امان کی بحالی کے لیے تمام ادارے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کریں ۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved