تازہ ترین  
منگل‬‮   11   دسمبر‬‮   2018

جھوٹ اور افواہیں کیوں؟


(گزشتہ سے پیوستہ)
اعلیٰ عدلیہ میں آنے والے معاملات اس بات کی وضاحت ہوچکی ہے کہ ’’بے نامی دار‘‘ کا موقف سنے بغیر اس قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا اور دوران تفتیش اسے اپنا مؤقف پیش کرنے کا پورا موقع ملنا چاہیے۔
چوں کہ احد چیمہ نے یہ غیر قانونی مفاد اپنے اور اپنے اہل خانہ کے نام پر حاصل کیا ہے اس لیے نیب اس کے خاندان کے افراد سے تفتیش کا اختیار رکھتی ہے۔ نیب کی تفتیش قانون کے دائرے میں رہتی ہے۔ فروری 2018میں دوران قید احد چیمہ سے ملاقات کے بعد ان کے اہل خانہ نے نیب کے طرز عمل کو میڈیا کے سامنے سراہا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کے مطابق اس معاملے میں مبینہ طور پر درخواست گزار کے ملوث ہونے کی ٹھوس وجوہ موجود ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے فائدہ حاصل کرنے والے خاندان کے افراد منصور احمد اور احمد حسن کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی ۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی کہ احد چیمہ نے جعل سازی کرکے 14ارب مالیت کی 2100کنال زمین ایک نااہل کمپنی کے حوالے کردی۔ پیراگون نے اس منصوبے کو اپنے پراجیکٹ کا حصہ ظاہر کرکے سرمایہ بٹورا۔ نیب کی کوششوں کے نتیجے میں حکومت نے اس زمین کی ملکیت کو دوبارہ ظاہر کیا، اس وقت تک مختلف مدات میں اسے پہلے ہی 66کروڑ روپے کا نقصان ہوچکا تھا۔ فواد حسن فواد صراحت کے ساتھ اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ انہوں نے شہباز شریف کی ایما پر چودھری لطیف اینڈ سنز کو دیے گئے ٹھیکے کی منسوخی کے لیے ایل ڈی ای پر دباؤ ڈالا، دوسری جانب اس بات کی تصدیق اس طرح ہوجاتی ہے کہ وزیر اعلیٰ ہی نے یہ ٹھیکا پیراگون کو دینے کا حکم دیا۔ بظاہر پیراگون سعد رفیق اور ان کے بھائیوں کی ملکیت ہے، بینک سے حاصل ہونے والے شواہد سے اس کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ سعد رفیق کے خاندان کو شہباز شریف کی طرف سے اس ٹھیکے کی صورت میں سیاسی انعام دیا گیا ہے ان دونوں صورتوں میں نام نہاد دیانت دار بیوروکریٹس نے جو اثاثے بنائیں ہیں وہ ان کے ذرایع آمد سے سو گنا زائد مالیت رکھتے ہیں۔
ہائبرڈ وار کی زد میں آئے ہوئے ممالک پر ظاہر اور خفیہ ہر طرح کے حملے کیے جاتے ہیں جس میں افراد، حکومتی اداروں اور تنظیموں کی جڑیں کم زور کی جاتی ہیں۔ اس طرز جنگ کا ایک بڑا جز میڈیا کو قابو میں کرنا ہوتا ہے، پھر اسی کی مدد سے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ نیب کی جانب سے تفتیش کے بعد اس معاملے میں آنے والے حقائق کے بعد ملزمان کے موقف کی حمایت میں چند مضامین بھی سامنے آئے ہیں۔ اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے کہ نیب کے پاس ان الزامات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ بدعنوان عناصر کو قانون کے شکنجے سے فرار کرنے کے لیے افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے بارے میں قانون کیا کہتا ہے؟
کثیر الجہات جنگ:’’گیراسیموو ڈاکٹرائن‘‘ کی اصلاح پر بہت ہنگامہ کھڑا ہوا۔آج گیلوٹی اس اختراع پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ ایسا کوئی تصور وجود نہیں رکھتا’’ ہم جب تک اسے ماننے کا دکھاوا کریں گے، ہم اس وقت تک روسی چیلنج سے متعلق غلط فہمیوں شکار رہیں گے، جب کہ درحقیقت یہ چیلنچ حقیقی اور مختلف شکل میں موجود ہے۔‘‘
روسی ماہر لسانیات چارلس کے برٹیلز اور فورٹ لیونورتھ میں فارن ملٹری اسٹڈیز آفس سے منسلک ماہر کینساس کا کہنا ہے کہ گیراسیموو نے سرے سے ’’ہائبرڈ وار‘‘ کی اصطلاح استعمال ہی نہیں کی، اس نے ’’بالواسطہ اور بے آہنگ طریقہ کار‘‘ کی نشاندھی کی تھی، مغرب نے ہائیبرڈ وار کے طور پر جس کی تاویل کرلی۔
روسی نقطۂ نگاہ سے ’’بالواسطہ اور بے آہنگ طریقہ کار‘‘ مغرب کے ترکش کا تیر ہے۔ روسیوں کے نزدیک ہائیبرڈ وار فیئر سے مراد مغربی دنیا کے وہ حملے ہیں جو اس نے ایسے علاقوں پر کیے جہاں روس بہ آسانی اپنا اثر رسوخ برقرار رکھے ہوئے تھا۔ 1990کی دہائی میں یوگو سلاویا اور سربیا کی تقسیم کے عمل میں مغربی مداخلت، 2008میں جارجیا اور 2010میں وادیٔ فرغانہ میں مداخلت اس کی مثالیں سمجھی جاتی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:’’ روسی فوج اس بات پر اٹل رہی کہ وہ ہائیبرڈ وار کی حکمت عملی کا استعمال نہیں کرتی۔‘‘
ہائبرڈ وارفیئر کی تعریف سے متعلق مغربی اور روسی تصورات مختلف ہیں اسی طرح جیسے مغرب میں اس کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ گراسیموو نے جس غیر رسمی یا بے آہنگ ہتھکنڈے کی بات کی تھی اس کا تناظر جدید کے بجائے روایتی فن حرب سے زیادہ قریب ہے۔ انہوں نے جن اعداد کا حوالہ دیا اس کے مطابق ان کے نزدیک آج کی جنگ میں عسکری و غیر عسکری ذرایع کے استعمال کی نسبت چار اور ایک کی ہے۔ اس میں خفیہ آپریشن جن میں باغیوں کے ذریعے کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کرواکر اس کا الزام شامی حکومت کے سر دھر دینا جیسی کاررائیاں، اقتصادی پابندیاں، سفارتی تعلقات منقطع کرنا اور حکومت کی تبدیلی جیسے حربے شامل ہیں۔
(فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار اور عالمی اقتصادی فورم کے پارٹنرنگ اگینسٹ کرپشن انیشی ایٹو کے رکن ہیں)

اینڈریو کوریبکو ایک سیاسی تجزیہ کار ہیں جو کئی آن لائن جرنلز کے لیے مضامین لکھتے ہیں، اس کے علاوہ وہ پیپلز فرینڈشپ یونیورسٹی آف رشیاکے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹیڈیز اینڈ پرڈکشنز سے سے بھی منسلک ہیں۔ 2015میں ان کی شایع ہونے والی تصنیف “Hybrid wars: The indirect adaptive approach to regime change” آن لائن دست یاب ہے۔ یہ کتاب جنرل گیراسیموو کے مضمون کی اشاعت کے تین برس بعد لکھی گئی، اس میں بہ آسانی رونما ہونی والی تبدیلیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔ ایک جانب جب کہ گیراسیموو نے یائبرڈ وارفیئر کی اصطلاح استعمال تک نہیں کی، کوریبکو نے اس پر پوری کتاب لکھ دی۔
دونوں کی بنیادی تفہیم یکساں ہے، روسی سمجھتے ہیں کہ ہائبرڈ وار فئیر کا بنیادی مقصد حکومتوں کی تبدیلی ہے اور یہ روسی دائرہ اثر کو محدود کرنے کے لیے مغرب کا ہتھکنڈا ہے۔ کوریبکو لکھتے ہیں: اس کتاب میں بالواسطہ جنگ کی نئی حکمت عملی پر بحث کی گئی ہے ، امریکا نے شام اور یوکرین میں جس کا عملی مظاہرہ کیا۔‘‘ کوئیبکو کے نزدیک ہائیبرڈ وارفیئر صرف روس کے خلاف نہیں بلکہ یوریشین تصور کے اطلاق کے لیے بنائے گئے منصوبے مثلاً چین کا وون بیلٹ وون روڈ بھی اس کی زد میں ہیں۔ اس نے برطانوی جغرافیہ داں میکنڈر کا حوالہ بھی دیا ہے، جس نے یوریشین تصور کو تاریخ کا محور قرار دیا تھا۔ سرخی کے طور پر چینی مدبر سانزو کا حوالہ بھی دیا ہے کہ ’’انتہائی برتری لڑے بغیر دشمن کی مزاحمت ختم کرنے میں ہے۔‘‘ اس سے بہ آسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ہائبرڈ وارفئیر سے متعلق روس کی تفیہم مغربی تجاوزات کے تجربے کی بنیاد پر ہے جہاں وہ اسے سہولت میسر تھی۔
(حال ہی میں نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی میں کی گئی گفتگو کے اقتباسات کا پہلا حصہ)




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved