تازہ ترین  
منگل‬‮   11   دسمبر‬‮   2018

تحریک کشمیر ماضی کے تناظر میں


کشمیر‘ کشمیریوں کا ہے اور ان شاء اللہ کشمیری اپنی بے مثال جہادی جدوجہد کے ذریعے کشمیر کو آزاد کروا کر ہی دم لیں گے۔
بھارتی میڈیا ذرا اپنے وزیر نریندر مودی اور آرمی چیف کے بیانات کا بھی جائزہ لے کہ وہ کس طرح سے کشمیری مجاہدین اور پاکستان کو کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں‘ پاکستان ن تو عالمی طاقتوں کے دبائو پر مولانا محمد مسعود ازہر سمیت دیگر قائدین جہاد کشمیر کو کڑی پابندیوں میں جکڑ کر بھارت کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیا ہے لیکن بھارت کا آرمی چیف پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دیتے ہوئے نہیں شرماتا۔
بھارت کے حکمران ہوں یا پاکستان میں بسنے والے بھارتی پٹاری کے دانش چور‘ انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کشمیری قوم کو غلام بناکر رکھنا اب کسی کے لئے بھی مفید نہیں ہوگا‘ کشمیریوں کے دلوں میں بھڑکنے والی نفرت کی آگ ایک نہ ایک دن بھارت کے ایوانوں کی طرف ضرور بڑھے گی۔آئیے تحریک کشمیر کا ماضی ک تناظر میں جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔
کشمیر کے باسیوں کی غلامی ومحکومی کی داستان کافی پرانی ہے، تقریبامارچ 1846ء کی بات ہے انگریزوں نے ایک معاہدے کے تحت، جسے معاہدہ امرتسر کہا جاتا ہے، ریاست جموں وکشمیر ڈوگرہ گلاب سنگھ کے ہاتھ معمولی سی قیمت پر فروخت کردی۔ تب سے اس ریاست پر ڈوگرہ راج کی صورت میں سکھوں کی حکمرانی تھی۔ غلامی ومحکومی کا داغ تو تب سے اہل کشمیر ہی رہے تھے لیکن 1925 ء میں جب ڈوگرہ ہری سنگھ کا دور اقتدار تھا، کشمیر کے مسلمانوں کو بطور خاص مشق ستم بنایا گیا۔ اسی کے رد عمل میں تحریک آزادی کشمیر کی بنیاد پڑی اور اسی سال شیخ محمد عبداللہ نے ریڈنگ روم پارٹی کے نام سے پہلی مسلم تنظیم بنائی، ان کے بعد چوہدری غلام عباس مرحوم نے کرینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن کو منظم کیا۔1931 ء میں دیاسی کے مقام پر ایک مسجد شہید کر دی گئی۔ اسی سال مسلمانوں کو کوٹلی میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے روک دیا گیا۔ ایک ہندو کانسٹیبل نے قرآن مجید کی بے حرمتی کی، ان مظالم پر صدائے احتجاج بلند کرنے کی پاداش میں مسلم رہنما عبدالقدیر کو گرفتار کرلیا گیا جس جیل میں عبدالقدیر کو رکھا گیا، اس کا محاصرہ کرنے پر 27 مسلمان شہید کر دیے گئے۔
مجلس احرار کے قائدین نے1931 ء میں ہری سنگھ حکومت سے افہام و تفہیم کے ساتھ معاملات حل کرنے کیلئے مذاکرات کیے، مگر حکومت نے انکار کر دیا۔ قائدین احرار کی کال پر پنجاب سے دس ہزار سے زائد نوجوان گرفتاریاں دینے جموں پہنچ گئے۔ میرپور میں ایک مسلمان کارکن کو سرعام ایک ڈوگرہ افسر نے قتل کر دیا۔30 مجاہدین نے تین دن کی انتھک محنت کے نتیجے میں دریائے جہلم پر کوہالہ پل پر قبضہ کرکے اسے بند کر دیا جو کشمیر کے ساتھ تجارت کی واحد شاہراہ تھی۔ گجرات اور گورداس پور کے مکینوں نے بھی تحریک کا آغاز کر دیا، تاہم ہندوں کی اکثریت کی بنا پر کامیابی نہ ہو سکی۔ مہاراجہ کی درخواست پر برطانوی حکومت بھی مجاہدین کے خلاف اس کی پشتی بانی کرنے لگی۔ مسلمانوں نے اس قدر گرفتاریاں پیش کیں کہ جیلیں کم پڑ گئیں اور احرار کے دفاتر کو سب جیل قرار دیا گیا۔ ان قربانیوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ سربی جے گلینسی کی قیادت میں ایک کمیشن تشکیل دیا گیا جس میں مسلمانوں کی نمائندگی چوہدری غلام عباس کر رہے تھے، کمیشن کے مقاصد میں ریاست میں بسنے والے مسلمانوں کی حالت زار کا جائزہ لینا، ان کے حقوق کی نشان دہی اور شہداکے کوائف وغیرہ جمع کرنا شامل تھا۔ کمیشن کی تجویز اور انگریزوں کے پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ کے دبا کے تحت مہاراجہ نے 75 رکنی ایک اسمبلی قائم کی، جس میں 21 مسلمان رہنما بھی شامل تھے۔
1933 ء میں پتھر مسجد سری نگر میں جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کا قیام عمل میں آیا، جس کا صدر شیخ محمد عبداللہ اور جنرل سیکریٹری چوہدری غلام عباس کو منتخب کیا گیا۔ 1934ء میں راشٹریہ سیوک سنکھ نے حکومتی چھتری تلے مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں۔ 1935 ء میں شیخ عبداللہ مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ عوام اپنے قائدین شیخ عبداللہ، چوہدری غلام عباس کی قیادت میں منظم ہونے لگے۔ 1939 ء میں گاندھی اور جواہر لال نہرو کی کوششیں، نیز نگاہوں کو خیرہ کرنے والی حکومتی مراعات کی پیشکش رنگ لائی اور مسلمانوں کے چوٹی کے رہنما شیخ محمدعبداللہ نے وفاداریاں تبدیل کر لیں اور مسلم کانفرنس کے خلاف کشمیر نیشنل پارٹی، جو درحقیقت کانگریس کی بی ٹیم تھی، کی داغ بیل ڈال دی۔ مسلم کانفرنس چوہدری غلام عباس کی قیادت میں جانب منزل گامزن رہی اور تمام تر سازشوں کے باوجود 1945ء کے انتخابات میں 80 فیصد نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ ڈوگرہ راج نے اس صورت حال سے بدحواس ہو کر مسلم کانفرنس پر پابندی لگا دی۔
1946 ء کو منظور ہونے والے تقسیم ہند کے فارمولے میں جن 562 ریاستوں کو یہ حق دیا گیا کہ وہ پاکستان یا ہندوستان میں سے جس ملک سے چاہیں الحاق کر لیں، ان میں خطہ کشمیر بھی شامل تھا۔ جموں میں 80 فیصد مسلمان بستے تھے اور سب کی اولین خواہش یہی تھی کہ وہ پاکستان کا حصہ بنیں۔ پونچھ میں 95 فیصد مسلمان بستے تھے اور ان سب کی اولین خواہش تھی کہ یہی وہ پاکستان کا حصہ بنیں۔ اس کی پاداش میں جموں کے مسلمانوں کا قتل عام کرکے انہیں شہید کر دیا گیا۔ پونچھ کے مسلمانوں نے سردار محمد عبدالقیوم کی قیادت میں مزاحمت کی اور افواج کو عبرت ناک شکست دی۔
(جاری ہے)




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved