تازہ ترین  
منگل‬‮   11   دسمبر‬‮   2018

دو واقعات کئی سوالات


پچھلے دنوں دو اہم واقعات ہوئے، دونوں کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے، پہلے خادم اعلیٰ کی بات کرلیتے ہیں، جن کی’’ خدمات‘‘ کو رد کرتے ہوئے نیب نے انہیں گرفتار کرلیا، شہباز شریف پر ایک نہیں کئی الزامات ہیں، ماڈل ٹائون کی شہادتوں کا قصہ تو تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں کہیں پیچھے رہ گیا مگر بھلایا نہیں گیا ہے، اپنے ہی ملک کے عوام کے چہروں اور سینوں پر گولیاں ماری گئیں ان کا قصور یہ تھا کہ وہ اپنے سیاسی اور مذہبی لیڈر کے گھر کے آگے رکاوٹوں کو ہٹائے جانے پر احتجاج کررہے تھے، کاش گولی چلوانے والے اور چلانے والے یہ بھی دیکھ لیتے کہ اسی ماڈل ٹائون میں شریفوں کے گھروں کے آگے کتنی رکاوٹیں لگائی گئی ہیں بلکہ بادشاہ کے محل سے باہر آنے سے بہت پہلے ہی سڑکوں اور گلیوں پر ٹریفک روک دیا جاتا ہے۔ ماڈل ٹائون کے مکینوں سے پوچھیں کہ وہ وقت ان پر کتنا کڑا گزرا ہے، جاتی امراء تو ویسے ہی عوام وخواص سب کیلئے شجر ممنوعہ ہے،اس محل کی اینٹ اینٹ میں اس کی چہار دیواری میں اس تک جانے والی سڑک کے ہر پتھر میں عوام کے خون پسینے کی کمائی شامل ہے یہ تمام حقائق بھی خادم اعلیٰ کے اعمال نامے میں شامل ہیں اور جلد یا بدیر ان معاملات کا بھی انہیں سامنا کرنا پڑے گا۔
جو معاملہ اس وقت پورے ملک کے میڈیا کی ہیڈ لائنز بنا ہوا ہے وہ ہے پنجاب میں شروع کئے گئے منصوبے یعنی صاف پانی اسکیم، آشیانہ، اقبال اسکیم میں کرپشن ان کے علاوہ بھی اور مسئلے سامنے آئیں گے صرف وقت کا انتظار ہے، شہباز شریف پر الزام ہے کہ آشیانہ اسکیم میں انھوں نے ایک ایسے ٹھیکیدار سے کام چھین لیا جس کا ٹینڈر پیرا رولز کی تمام شرائط پوری کرنے کی وجہ سے پاس ہوگیا تھا، اس کی جگہ کام ایک ایسی کمپنی کو دیا گیا جس کے ڈانڈے سعد رفیق اینڈ برادرز کی پیرا گون کمپنی اور ہائوسنگ سوسائٹی سے ملتے ہیں جو ایک الگ معاملہ ہے اور جس کی منی ٹریل لے کر حاضر ہونے کا حکم برادرم سعد رفیق اور ان کے بھائی کو عدالت نے اسی ہفتے کیلئے دیا ہے، بات صرف یہیں ختم نہیں ہوتی، آشیانہ اسکیم کو مکمل کرنے کیلئے ایک علیحدہ کمپنی بنائی گئی جس نے سارے کام کی نگرانی کرنی تھی، اس کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تمام اختیارات شہباز شریف نے نہ صرف اپنے پاس رکھ لئے بلکہ آشیانہ اسکیم کے تمام کام کی نگرانی کا فریضہ لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو دے دیا جبکہ یہ کمپنی بنائی ہی اس لئے گئی تھی کہ ایل ڈی اے کو اس سے دور رکھا جائے۔
صاف پانی کی اسکیم پر اربوں روپے خرچ ہوچکے مگر اس کمبخت نے خواب خرگوش سے بیدار ہونے سے انکار کردیا۔ آپ پنجاب کا کوئی بھی منصوبہ اٹھاکر دیکھ لیں خواہ وہ میٹرو بس ہو، اورنج ٹرین ہو یا کچھ اور آپ کو ان میں چند باتیں مشترکہ ملیں گی، ہر منصوبہ جتنے روپوں سے شروع ہوا اُن سے کئی ارب زیادہ پر ختم ہوا یا ابھی زیر تکمیل ہے اور مزید کئی ارب اور چاہئیں۔ ہر منصوبے میں حکومتی رولزآف ریگولیشن کی دھجّیاں اڑا دی گئیں۔ ایک شریفوں کے متوالے نے یہ توجیہہ پیش کی کہ کیونکہ شہباز شریف کے کام کرنے کی رفتار بہت تیز ہے اس لئے وہ رولزآف ریگولیشن کو نظر انداز کردیتے ہیں، عرض کیا کہ بات اگر صرف رولزآف ریگولیشن کو نظر انداز کرنے کی ہوتی تو اس پر آڈٹ اعتراض لگتا مگر یہ کرپشن بیچ میں کہاں سے آگئی اور وہ بھی اربوں روپے کی، اُن کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا اور نہ ہی کسی اور متوالے کے پاس ہے۔
’’ جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘ کا نعرہ پاکستانیوں کو بہت مہنگا پڑا ہے، سیاسی پارٹیوں نے جمہوریت کے نام پر اپنے کارکنوں کی( عوام کی نہیں) سوچ ہی بدل کر رکھ دی ہے، نہ جانے آپ نے نوٹ کیا ہے یا نہیں کوئی سیاست دان اور کوئی سیاسی پارٹی یہ نہیں کہتی کہ کرپشن نہیں کی ہے، اعتراض صرف یہ ہے کہ انکوائری کیوں کی؟ عدالت میں کیوں لے کر گئے؟ سزا کیوں دی؟ مجھے کیوں نکالا؟ مجھے کیوں بند کیا؟ کرپشن کے ملزم کو پکڑنے پر احتجاج کرنا، ہنگامے کرنا اخلاقی حدود کو تہس نہس کرنے کے مترادف ہے مگر ہماری سیاسی پارٹیوں کے خواتین وحضرات کی مجبوری ہے کہ جو جتنا شور مچائے گا آنے والے وقتوں میں وہی زیادہ انعام واکرام کا مستحق ہوگا بقول شاعر
پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ
دوسرا اہم واقعہ جو شہباز شریف کی گرفتاری سے پہلے ہوا وہ سابق صوبائی وزیر رانا مشہود کا یہ تاریخی بیان ہے کہ ہماری( ن لیگ کی) مفاہمت( ڈیل) ہوگئی ہے۔ دو ماہ بعد پنجاب کی صوبائی حکومت ن لیگ کی ہوگی۔ آئی ایس پی آر نے صاف اور سخت الفاظ میں فوراً تردید کی ڈیل ڈیل کا شور مچ گیا، مزید ارشاد ہوا کہ جن کو وہ( فوج) گھوڑا سمجھ کر لائے تھے وہ خچّر نکلے، ن لیگ کی ترجمان نے تردید کی۔ یہ بھی ارشاد ہوا کہ شہباز شریف اُن(فوج) کو زیادہ قابل قبول ہیں۔ بڑے میاں صاحبان کا غصّہ دیدنی تھا، مسلم لیگ(ن) کے موجودہ صدر شہباز شریف نے رانا مشہود کی پارٹی رکنیت منسوخ کردی اور راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں ایک سہہ رکنی کمیٹی بنادی جس کی تادم تحریر ابھی تک رپورٹ نہیں آئی، رانا مشہود نے دیگر سیاست دانوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صفائی پیش کی کہ اُن کے بیان کوسیاق و سباق سے ہٹ کرپیش کیا گیا۔ نہ جانے ہمارے سیاست دانوں کو کب سمجھ آئے گی کہ الیکٹرونک میڈیا کے اس دور میں اس قسم کی تردید عذر گناہ بدتر از گناہ کے زمرے میں آتی ہے کہ چینل والے فوراً ہی تردید شدہ بیان کو من وعن چلادیتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا واقعی رانا مشہود اتنے بھولے بادشاہ ہیں جتنا وہ اپنے آپ کو ظاہر کررہے ہیں، زیادہ ممکن یہ ہے کہ ایک تیر سے کئی شکار کئے گئے ہیں، بڑے میاں کے کان میں بات ڈال دی گئی کہ آپ کا متبادل آپ کے گھر میں ہی موجود ہے، فوج کو اشارہ کیا گیا کہ ہم بھی تو کھڑے ہیں راہوں میں۔ پی پی پی کی توجہ اپنی طرف مائل کی گئی کہ ہزار انکار کے باوجود ہماری ڈیل ہورہی ہے وقت ہے اب بھی ہماری بات سُن لو۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خود مسلم لیگ کے کیڈر کے سامنے کھل کر شہباز شریف کو متبادل کے طور پر پیش کردیا گیا، تردیدیں تو ہوتی رہتی ہیں۔ اس تمام واقعہ نے یہ بات تو واضح کردی کہ مسلم لیگ(ن) میں سب اچھا نہیں ہے، جس وقت یہ بیان دیا گیا اُس وقت کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ خادم اعلیٰ اپنے آپ کو صاف پانی اسکیم کے سوال وجواب کیلئے تیار کرکے نیب کے دفتر جائیں گے اور وہاں آشیانہ اسکیم میں گرفتار ہوجائیں گے، اس طرح رانا مشہود اینڈ کمپنی کا سارا گیم پلان ہی ختم ہوگیا۔ اس پر طرہّ یہ کہ فواد اور احد جیسے پکّے بیورو کریٹ بھی اپنی جان بچانے کیلئے شہباز شریف کے سامنے بیٹھ کر نیب کے دفتر میں ہی بول اٹھیں گے کہ میاں صاحب ہم نے جو بھی کیا آپ کے کہنے پر کیا گویا بقول شاعر
جن پہ تکیہ تھا وہی پتّے ہوا دینے لگے
یہاں ایک ضمنی سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا سول بیورو کریسی کے یہ ہتھکنڈے کامیاب ہوجائیں گے کہ جب تک صاحب کے ساتھ مل کر مال بناسکو بنالو پکڑے جائو تو کہہ دو کہ ہم نے تو صاحب کے کہنے پر یہ سب کیا تھا، بات یہ ہے کہ یہ گریڈ21 اور 22 کے افسران ہیں جن کا فرض ہی یہ ہے کہ ہر کام ریگولیشن کے تحت ہونا چاہئے۔ وعدہ معاف گواہ کی ضرورت اپنی جگہ مگر اس طرح بیورو کریسی کو کیا پیغام دیا جارہا ہے، کیا بیورو کریسی کسی بھی صورت قابل تعزیر نہیں! جبکہ یہ بات عیاں ہے کہ سیاست دان، جج ، جرنیل کوئی بھی بیورو کریسی کو ساتھ ملائے بغیر کرپشن نہیں کرسکتا، چیئرمین نیب صاحب! ایک نظر ادھربھی۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved