تازہ ترین  
جمعہ‬‮   19   اکتوبر‬‮   2018

موت کاخوف


مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کی طرف سے انڈیا مخالف مظاہروں کو دبانے کیلئے طاقت کے استعمال نے کشمیری نوجوانوں کے دلوں سے موت کا خوف نکال دیا ہے اور وہ موت کو گلے لگانے کیلئے تیار رہتے ہیں۔یہ بات انڈیا میں ایک پانچ رکنی تحقیقاتی کمیشن کی طرف سے کشمیر کے بارے میں جاری کردہ رپورٹ میں کشمیر کی نوجوان نسل کی سوچ کی عکاسی کرتے ہوئے تحریرکیا ہے کہ کشمیریوںکے مطابق بنیادی مسئلہ انڈیا کی طرف سے کشمیربحران کا اعتراف نہ کرنا، کشمیر کو سیاسی مسئلہ تسلیم کرکے اس کے سیاسی حل پر تیار نہیں ہے۔ کشمیر میں عام لوگوں سے ملاقاتوں کے بعد یہ رپورٹ مرتب کرنے والے گروپ میں سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا، اقلیتیوں کے قومی کمیشن کے سابق سربراہ وجاہت حبیب اللہ، بھارتی فضائیہ کے ایئر واس مارشل(ریٹائرڈ)کپل کاک، معروف صحافی بھارت بھوشن اور سینٹر آف ڈائیلاگ اینڈ ریکنسیلیشن کے پروگرام ڈائریکٹر ششہوبا بریو شامل تھے۔ اس گروپ نے کشمیر کے مختلف علاقوں میں شدید مظاہروں اور سینکڑوں نوجوانوں کی ہلاکت کے واقعات کے بعد بٹگرام، شوپیاں، اننت ناگ اور بارہ مولہ کا دورہ کیا اور وہاں سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے گروپوں کے علاوہ پولیس اور انتظامیہ کے اہلکاروں سے بھی مسئلہ کشمیر کے بارے میں بات کی۔ اس کے علاوہ گروپ نے کشمیر کے سرکردہ سیاسی قائدین انجینئر رشید، سیف الدین سوز اور سابق وزیر اعلی ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ساتھ نیشنل کانفرنس کے کئی ممبران سے بات کی۔
گروپ نے رپورٹ کے بنیادی نتائج میں کہا کہ جتنے بھی کشمیریوں سے انہوں نے ملاقاتیں کیں ان سب نے مسئلہ کے سیاسی حل پر زور دیا اور کہا کہ جب تک اس کا سیاسی حل تلاش نہیں کر لیا جاتا وادی ٔمیں موت اور تباہی کا سلسلہ زیادہ شدت سے جاری رہے گا۔کشمیریوں کا کہنا ہے کہ انڈیا پر ان کو اعتماد نہیں رہا اوربداعتمادی کی یہ خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ انڈیاکی درندہ صفت فوج بھارتی ہندومتعصب مودی کی آشیرآباد کے ساتھ بے تحاشہ ظلم وستم کے بعدسمجھتی ہے کہ اس طرح وہ کشمیریوں کوخوفزدہ کرکے اپنے مقاصدمیں کامیاب ہو جائے گی لیکن دنیانے دیکھ لیاکہ ان تمام ظالمانہ ہتھکنڈوں کے بعدتحریک آزادی میں شدت پیداہوئی ہے کیونکہ مودی سرکار کشمیر کو صرف قومی سلامتی کے زاویے سے دیکھتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تمام کشمیری سابق وزیر اعظم اور بی جے پی کے رہنما اٹل بہاری واجپائی کی اس تجویز کو یاد کرتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلہ کو انسانی ہمدری کے دائرے میں حل کیا جائے لیکن دہلی کی موجودہ حکومت مسئلہ کے سیاسی حل میں دلچسپی نہیں رکھتی۔
رپورٹ میں کہا گیاکہ کشمیر کی کل آبادی کا اڑسٹھ فیصدنوجوان ہیں اوراس وقت کشمیر کا نوجوان بے خوف اور شدید نا امیدی کا شکار ہے۔ ایک نوجوان جس کا نام رپورٹ میں ظاہر نہیں کیا گیا اس کے حوالے سے کہا گیا کہ ’’سب سے اچھی چیز جس کے ہم شکر گزار بھی ہیں وہ ہتھیاروں کا استعمال ہے جس میں پیلٹ گنیں شامل ہیں، جس نے ہمارا ڈر اور خوف نکال دیا ہے۔ ہم اب شہادتوں پر جشن مناتے ہیں‘‘۔یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں میں اکژیت تو انڈیا سے مذاکرات کرنے پر تیار ہی نہیں ہیں اور ان کے روز مرہ کی بول چال کے الفاظ ہی بدل گئے ہیں جن میں ہڑتال، کرفیو، شہادت اور برہانی وانی کے الفاظ کا استعمال کثرت سے کیاجاتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ لوگوں کے خیال میں اس مسئلے سے وابستہ تمام فریقوں ، انڈیا، پاکستان اور کشمیر کے عوام کو شامل کیے بغیر اس کا حل ممکن نہیں ہے۔ فریقین کو اس مسئلہ کے حل کیلئے لچک داررویہ اپنانا ہو گا تاکہ کشمیر کے لوگوں کی مشکلات دور ہو سکیں ۔اس کیلئے ضروری ہے کہ مودی سرکاراپنی ہٹ دھرمی چھوڑکرزمینی حقائق کوقبول کرتے ہوئے جلدازجلدرپورٹ کی سفارشات پرعملدرآمدکریں وگرنہ ملک میں جاری انتہا پسندی ملک کوناقابل تلافی نقصان پہنچاسکتی ہے۔
اقوام متحدہ نے پہلی مرتبہ کشمیر کے متنازع خطے سے متعلق تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس میں اس علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر تشدد کے سلسلے کو بند کر کے معنی خیز مذاکرات کے عمل سے حل ہو سکتا ہے۔اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق کی رپورٹ میں پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں سے اپیل کی گئی ہے کہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرکے انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکا جائے اور اظہار رائے اور مذہب کی آزادی کو بحال کیا جائے۔انسانی حقوق کے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر زید رادالحسین نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے بارے میں جامع بین الاقوامی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے پر غور کر رہی ہے۔اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق کی رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے زیر انتظام دونوں کشمیر میں ماضی میں اور موجودہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور تمام لوگوں کو انصاف مہیا کیا جائے جو گذشتہ سات دہائیوں سے اس تنازعے کا سامنا کر رہے ہیں جس نے علاقے کے لوگوں کی زندگیوں کو برباد کر دیا ہے۔ انچاس صفحات پر مشتمل رپورٹ میں زید رادالحسین کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بدسلوکی اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیوں پر سزائیں نہ دینے کی دائمی صورت حال ہے جس پر رپورٹ میں روشنی ڈالی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انڈیا سے کہا گیا ہے کہ گذشتہ 30 برس کے دوران فوج یا مسلح شدت پسندوں کے ہاتھوں جو ہلاکتیں ہوئی ہیں ان کی ازسرنو تحقیقات کی جائیں اور قتل اور حقوق کی دیگر پامالیوں میں ملوث فوجی و نیم فوجی اہلکاروں کے مقامی مواخذہ میں حائل فوجی قوانین کا خاتمہ کیا جائے۔مقبوضہ کشمیر میں2016ء سے مظاہرین کے خلاف سب سے مہلک ہتھیار پیلٹ گن کے استعمال پرشدیدمذمت کی گئی ہے جس نے سینکڑوں نوجوان بچوں اوربچیوں کوعمربھرکیلئے بصارت سے محروم کردیاگیا۔ 2016ء کے گرما میں مسلح رہنما برہان وانی کی ہلاکت سے 2018ء کے مارچ تک 180سے 245کشمیری مظاہرین درندہ صفت فورسز کی کارروائیوں میں مارے گئے۔ سکیورٹی آپریشنز کے دوران مارے گئے افراد یا رہائشی مکان کھونے والے افراد کو معاوضہ دینے کاکہا ہے۔بھارتی وزارت خارجہ نے ٹویٹ کے ذریعہ شورمچاتے ہوئے اس رپورٹ کی صداقت اور غیرجانبداری سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ یہ رپورٹ خاص مفاد کو زیرنظر رکھ کر تیار کی گئی ہے اوراسے جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر مسترد کردیا ہے جبکہ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کمیشن بنانے کا خیرمقدم کیا ہے۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved