تازہ ترین  
منگل‬‮   11   دسمبر‬‮   2018

بے قابو اقدامات، مضحکہ خیز وضاحتیں


٭ہر چیز بے قابو! ہر روزنیا ہنگامہ !آئی جی پولیس پنجاب کا تبادلہ الیکشن کمیشن نے روک دیا ، وزارت داخلہ نے الیکشن کمیشن کے حکم کو مسترد کردیا !O..سابق آئی جی پولیس مشتاق سکھیرا اور 115 افراد پر ماڈل ٹاؤن سانحہ کی فرد جرم عائد، سکھیرا کا موبائل ضبط !O..امریکہ میں سفیر علی جہانگیر صدیقی کی دس ارب 50 کروڑر وپے کی کرپشن، سفیر بننے کے لیے بھاری رشوت دینے کاالزام، نیب نے طلب کرلیا !O.. وزیراعظم عمران خاں سے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کی ملاقات !O..گوئٹے مالا کی سابق نائب صدر اوربھائی،50 کروڑ غبن ،15 سال قید !O..انتخابی قوانین کی خلاف ورزی شیخ رشید کو نوٹس !O..ن لیگ کے اسمبلیوں کی سیڑھیوں پر اجلاس !
٭علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ ’’ہر شئے مُسافر، ہر چیز راہی‘‘ اوریہاں ’’ہرشئے بے قابو واہی تباہی‘‘۔ کیا حکومت اور کیا اپوزیشن !سب بے قابو ہوگئے۔ اسمبلیوں کے اندر اور باہرایک دوسرے کو ڈاکو ، چور ، غنڈہ ، بدمعاش اور اس سے بھی آگے ناقابل اشاعت نازیبا باتیں !کسی کو اپنے لہجہ پر قابو نہیں، وفاقی وزیر اطلاعات ہر وقت آستینیں چڑھائے، منہ اورناک سے شُعلے برستے ہیں۔ یک رکنی پارٹی والی راولپنڈی کی لال حویلی وزارت کا بٹیرا ہاتھ آ جانے پر بے قابو ہوگئی، الیکشن کمیشن کی ممانعت کے باوجود بھتیجے کی انتخابی مہم چلانے لگی، نوٹس جاری ہوگیا۔ سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم نوازشریف کا وکیل افتخار گیلانی بے قابو، اونچا بولنے پر اصرار، چیف جسٹس کو حکم کہ آئندہ میرا کیس آپ نہ سنیں!چیف جسٹس برہم۔ بے قابو اختیارات کی نمائش کے لیے پنجاب کے آئی جی پولیس کو ایک ماہ کے بعد تبدیل کرنے کا حکم !الیکشن کمیشن نے تبادلہ روک دیا کہ ضمنی الیکشن ہورہے ہیں، کوئی تبادلہ نہیں ہوسکتا۔ اور اب حکم چلانے والی بلی کھمبا نوچ رہی ہے کہ آئی جی وزیراعظم کے احکام پر پورا عمل نہیں کررہا تھا! کیا وضاحت ہے!انہی وزیراعظم کا بارباراعلان آتا رہا کہ پختونخوا میں پولیس کو مکمل آزاد کردیا گیا ہے، کوئی سیاسی مداخلت نہیں کی جاتی اور پنجاب کے آئی جی طاہر خاں کو اس لیے تبدیل کر دیا گیا کہ وہ آزاد رہ کر وزیراعظم کے احکام پر عمل نہیں کرتا تھا!یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ وزیراعظم کے کون سے احکام پر عمل نہیں ہوا؟ سیاسی دباؤ اور مداخلت اور کیا ہوتی ہے؟ طاہر خاں کو آئی جی لگاتے وقت اس کا سابق ریکارڈ نہیں دیکھاگیا ؟ پولیس کے کم ازکم 30،35 برس کے وسیع تجربے اور ہرقسم کے حالات سے نمٹنے کے بعد کوئی افسر آئی جی کے عہدہ پر آتا ہے۔ صوبے میں امن امان برقرار رکھنے کا یہ اہم ترین ذمہ دارانہ عہدہ ہے۔ اس عہدہ پر ایک بڑے افسر کو لا کر ایک ماہ میں اس پر نااہلی کے الزام سے اس کی رسوائی ؟ موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں مگر اس کے بزرجمہروں نے کس انداز میں پَر پُرزے نکالنے شروع کیے ہیں!مگر آئی جی کو تبدیل کرنے والی وزارت داخلہ تو خود وزیراعظم کے پاس ہے!اس پر کیا لکھا جائے؟
٭ایک بزرگ قاری نے کہاہے کہ ملک شدید بدحالی کا شکار ہے۔ تحریک انصاف نے انتخابات میں اعلان کیا تھا کہ وفاقی اور صوبوں میں وزارتیں مختصر رکھی جائیں گی۔ وفاق میں اب تک 38 وزیر آچکے ہیں، ہر ہفتے چار پانچ کا اضافہ ہو جاتا ہے، یہ سلسلہ کہاں رکے گا؟ میں کیا جواب دوں؟ابھی تو 34 پارلیمانی سیکرٹری بھی آنے ہیں۔ ان سب کوجدید قیمتی کاریں، اعلیٰ دفاتر، بڑی بڑی رہائش گاہیں ، لاکھوں روپے ماہوار تنخواہیں اور الاؤنس ، اندرون و بیرون ملک ہوائی جہازوں کی لامحدود پروازیں، پورے خاندان کا بیرون ملک علاج!( سابق وزیر مشاہد اللہ خاں نے ایک کروڑ کا علاج کروایا)۔ ایک چشم کشا پرانی بات، ہائی کورٹ کے ایک سابق جج نے خود مجھے بتایا کہ ریٹائر ہونے میں ایک ڈیڑھ ہفتہ باقی تھا، موصوف نے بیرون ملک علاج کے لیے لاکھوں روپے نکلوائے، امریکہ کے شہر اٹلانٹا میں بیٹے کے پاس جا کر اولمپکس مقابلے دیکھے!مجھے حیران ہوتے دیکھ کر موصوف کہنے لگے کہ یہ جائز حق تھا ، سارے ہی ایساکرتے ہیں!بات شروع ہوئی تھی کہ ملک دیوالیہ پن کو چھُو رہا ہےاور کابینہ میں 38 وزیراوراب34 پارلیمانی سیکرٹری؟ غالبؔ نے کہا کہ کس کس زخم پر مرہم لگاؤں، سارا جسم ہی زخم زخم ہے۔
٭چونکا دینے والا انکشاف!نیب نے امریکہ میں سفیر علی جہانگیر صدیقی کو طلب کرلیا ہے ۔ اس پر دس ارب 50 کروڑ کے غبن کے علاوہ سفیر بننے کے لیے سابق حکومت (وزیراعظم!) کو بھاری رشوت دینے کابھی الزام ہے!کیا کیا باتیں سامنے آرہی ہیں۔ علی جہانگیر کو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سفیر بنایا تھا!تو پھراس کیس کی تحقیقات میں شاہد خاقان عباسی کو بھی شامل کرنا ہوگا!کیا بدنصیب ملک!کیسی کیسی عفریتیں، کیسی کیسی بلائیں، بدروحیں اس پر سوار رہیں! ناقابل معافی جرم!ملک سے صریح بےوفائی۔ سیدھی سزا چوراہوں پر کوڑے اور پھر ….!!
٭اور ایک سابق آئی جی پولیس شعیب سڈل آئین اور قانون کے حوالے دے رہاہے کہ حکومت کسی بھی آئی جی پولیس کوتبدیل کرسکتی ہے۔ اس بات سے کون انکار کرتا ہے مگراس انداز سے نہیں جو آئی جی پنجاب کو ہٹانے کے لیے اختیار کیاگیا ہے۔ اس عہدہ پر ایک ’نااہل‘ شخص کو کون لایا؟ کیوں لایا؟ اس کے اپنے خلاف غلط بحثی کا الزام آتاہے۔ میں شعیب سڈل سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں جسے یہ صاحب تسلیم بھی کر چکے ہیں کہ وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے عہد اقتدار میں ان کے سگے بھائی مرتضیٰ بھٹو کو کراچی میں رات کے وقت ان کے گھر کے سامنے فائرنگ کرکے قتل کردیاگیا ۔ اس وقت مرتضیٰ بھٹو کے گھر کے سامنے اپنے مکان کے باہر کھڑے کراچی پولیس کے ڈی آئی جی شعیب سڈل نے یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا!وہ اس واقعہ کا واحد چشم دید گواہ تھا!مگر پھر؟ میں دوسرے سوالات چھوڑتا ہوں، شعیب سڈل صاحب!اس ہولناک واردات کے مجرم آ تک کیوں نہ پکڑے گئے؟ اس واردات کی تفتیش کرنے والے انسپکٹر پولیس کو کس نے کس کے حکم پر قتل کردیا؟بہت سے اور نازک اور حساس سوالات بھی ہیں، وہی بات کہ کس کس زخم پر مرہم لگاؤں!
٭ایک اچھامنظر !گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ حافظ عبدالرحمان نے ن لیگ کی حمائت میں عمران خان کے وزیراعظم کے عہدہ پر آنے کو جعلی کارروائی کہا مگرانتظامی مسائل کی مجبوری کی بنا پر اسلام آباد آکروزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنی پڑی۔ خوش آئند بات کہ عمران خان نے بڑی کشادہ دلی اور خوش گوار انداز میں ملاقات کی، گلگت بلتستان کے مسائل کوجلدی حل کرنے کا یقین دلایا ۔ وزیراعلیٰ نے عمران خان کو گلگت بلتستان کے دورے کی دعوت دی، جسے عمران خان نے کھلے دل کے ساتھ قبول کرلیا۔ دو روز کے بعد آزادکشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدرنے بھی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ عمران خان ان سے بھی بڑے تپاک اور خوش گوارانداز سے پیش آئے اور آزادکشمیر کے مسائل حل کرنے کا یقین دلایا۔ میں ان ملاقاتوں اور اپنے مخالف افراد کے ساتھ کھلے دل کے ساتھ حسن سلوک اوران کے مسائل کوخوش دلانہ طورپر حل کرنے کے بارے میں وزیراعظم عمران خان کے رویہ پر کھلی تحسین کا اظہار کرتا ہوں۔ پاکستان،گلگت، بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں جو بھی ہوں، ان کے عوام بھائی بھائی ہیں، ان کے دل یکساں دھڑکتے ہیں!ان کے مسائل ایک جیسے ہیں، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر عوام ہمیشہ اکٹھےرہتے ہیں!میں گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم کی قومی بصیرت اور وسیع النظری کی بھی ستائش کر تا ہوں۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved