تازہ ترین  
ہفتہ‬‮   19   جنوری‬‮   2019

آغا خان‘ جناح اور عربوں کا پاکستان


7 صحرائی چھوٹی ریاستوں میں وفاق قائم کرکے خلیجی جغرافیہ جو طلوع ہوا اس کا نام متحدہ عرب امارات ہے۔ ناممکن کو ممکن بنا دینے کا یہ منفرد فن الشیخ زید النہیان کے نام منسوب ہے۔ اس مرد واثق و استحکام نے رحیم یار خان میں اپنا دوسرا ابوظہبی بنایا۔ یوں ذوالفقار علی بھٹو عہد سے ہی الشیخ زید النہیان اور پاکستان لازم و ملزوم ہوگئے تھے پوری زندگی الشیخ زید اور ان کا خاندان پنجاب کے صحرائی رحیم یار خان میں نہ صرف قیام کرتا بلکہ علاقے اور خطے کی تعمیر و ترقی ‘ خوشحالی اور حیوانی حیات کے فروغ اور نشوونما میں ذاتی دلچسپی لیکر وافر مال و اسباب فراہم و خرچ کرتا رہا ہے۔ جب بھی پاکستان پر کوئی مصیبت آئی‘ زلزلہ یا سیلاب تو سعودیہ اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ کویت‘بحرین نے بھی وافر محبت و خدمت انسانیت کا راستہ اپنایا ہے۔
امارات کے ولی عہد محمد بن زید النہیان کی ایک روزہ سرکاری دورے آمد پر جس طرح وزیراعظم عمران خان نے خود آکر ان کا ائیرپورٹ پر استقبال کیا‘ جنگی جہازوں اور 31توپوں کی اجتماعی عسکری سلامی ہوئی ہیں اس سے بہت مطمئن اور مسرور ہوں حالانکہ نہ میراکوئی تعلق واسطہ امارات سے نہ سعودیہ یا کسی اور عربی ریاست سے تعلق ہے مگر میں مشرق وسطیٰ اور عرب دنیا اور پاکستان کو اپنے اسماعیلی سیاسی قائد سرآغا خان کی مدبرانہ مستقبل بین آنکھ سے ہمیشہ دیکھتا ہوں اور اپنے سیاسی امام محمد علی جناح کی شاہ فاروق آف مصر کو اس یقین دہانی پر پختہ ایمان رکھتا ہوں کہ مشرق وسطیٰ اور عرب دنیاکے ساتھ پاکستان کا وجود صرف اسلامی نہیں بلکہ عرب ملک کے طور پر بھی ہوگا۔ پیدائشی طور پر میں خود سنی ہوں میرے اختیار کردہ سیاسی امام شیعہ ہیں کہ ان دونوں کی فراست و تدبر اور حقیقت پسندانہ مستقبل بینی نے مجھے اس کا بے دام امیر محبت و وفا بنا رکھا ہے۔ جب جب محمد بن زید النہیان کی آمد کی خبر ہوتی تو میں ان کی آمد اور دونوں ممالک کے درمیان ارتقاء پذیر اس محبت و الفت کاتصور کرتا جو بالآخر6 جنوری کو تازہ دم دکھائی دی ہے جب ائیرپورٹ پر اماراتی مہمان گرامی کو ہمارے نہایت ایماندار‘ جفاکش‘ انتھک محنت کرنے والے اور مخلص وزیراعظم سینے سے لگارہے تھے۔
12 سال بعد ولی عہد کی آمد ہوئی ہے درمیان میں نوازشریف کاعہد حکومت سعودیہ و امارا ت سے کشیدہ تعلقات کی کہانی رقم کرتا رہا تھا پارلیمنٹ میں بحث کے غلط طریقہ کار اور سیکولر اور ملحد روش زندگی رکھنے والوں نے سعودی قیادت پر جس طرح طعنہ زنی کی تھی اس سے مجھ جیسوں کا تو دل خون کے آنسو رویا تھا۔ اتنی احسان فراموشی؟ پھر سعودی اور اماراتی جو کچھ مانگ رہے تھے ہم سے وہ یمن میں جنگ کرتی فوج نہیں بلکہ سیاسی‘ سفارتی اور عسکری تزویراتی حمایت تھی اور ہم نے دوستوں کی شدید ضرورت کے وقت ان کی نفسیاتی ضرورت کو پورا کرنے سے انکار کرکے احسان فراموشی کی تھی ۔
سعودیہ سے کشیدہ تعلقات تو شاہ عبد اللہ کے عہد سے بھی ہمارے صدر زرداری کی عدم فراست کے سبب ہوئے تھے‘ اوپر سے وزیراعظم نواز شریف کی غیر مدبرانہ حکمت عملی نے پارلیمنٹ میں مقدمہ یمن کو لے جاکر سعدیہ و امارت پرظلم کیا تھا۔ مجھے یاد ہے امارا ت کے نائب وزیر خارجہ نے ناراضی پر مبنی برقی پیغام دیا تھا اور ہمارے خود پرست وزیر داخلہ نے اسی اماراتی نائب وزیرخارجہ کو بے نقط سنا دی تھی۔ ایران نے اماراتی تین جزیروں-1 الطنب الکبریٰ-2 الطنب الصغریٰ-3 ابو موسیٰ پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔ کیا ا مارات کو اس کے جائز جغرافیے کے یہ تین جزیرے واپس نہیں ملنے چاہیں؟ کیا ہم امارات کے اس جائز اور درست حق کی درست بھی نہ کہیں تو پھر ہم عادل کہاں سے ہوئے؟ جہاں تک ایران کی بات ہے جب اور جہاں اس کو حمایت درکار ہوئی پاکستان نے دی اور کسی عرب ریاست و اس کی خبر تک نہ ہوئی کیونکہ پاکستان کا اور میرا قلمی مددگار اور رفاقت کا گہرا تعلق سر آغا خان اور محمد علی جناح کی کہی ہوئی باتوں اور عربوں کے لئے یقین دہانیوں‘ بھٹو کی عرب محبتوں‘ جنرل ضیاء الحق کے عرب تعلق کے ساتھ ساتھ جنرل مشرف اور شاہ عبد اللہ کے ریاض اور اسلام آباد کو جڑواں دارالخلافہ قرار دے کر اور مسلمان اور عرب دنیا کے معاملات کو حل کرنے کے لئے اجتماعی کنجی قرار دیا ہونا ہے۔ ہمیں اپنے اچھے ماضی کے قائدین و حکمرانوں کے اس درست عرب تعلق کو اپنی وفا شعاری سے تازہ دم کرنا ہے۔
ولی عہد محمد بن زید النہیان کی طرف سے جو محبتیں‘ حسن تعلق‘ مادی معاملات دیئے گئے وہ سب میڈیا میں آچکے ہیں لہٰذا ان کا تذکرہ چھوڑ رہا ہوں۔ ہمیں اب ایک بات کو یاد رکھنا ہے کہ سعودیہ و امارات جس طرح ہماے سینے سے دوبارہ آلگے ہیں اور پاک عرب معانقہ مکمل ہو رہا ہے آئندہ ہمیں ان عربوں کو ہرگز مایوس اور ناراض نہیں ہونے دینا نہ اس میں ایران‘ نہ ترکی نہ قطر سبب بننا چاہیے۔ امارات و سعودیہ کے حکمران مدبر ہیں وہ خود جانتے ہیں کہ جب ان کے عمدہ تعلقات بھارت سے بھی ہیں اور ہم عرب بھارت تعلقات پر ناراض بھی نہیں ہوتے تو یقینا وہ بھی ہمارے ان مسلمان ریاستوں سے تعلقات پر ناراض نہیں ہوں گے جن سے ان کے کشیدہ تعلقات ہیں۔
اگلے تین سال اپنے وجدان کی بناء پر مشرق وسطیٰ اور عربوں کیلئے بہت مشکل دیکھ رہا ہوں۔ پاکستان اور عربوں کو عسکری‘ سیاسی‘ تزویراتی معاشی معاملات میں ایک جسم و جان بننے کی مزید کوشش کرنی چاہیے۔ ایران و قطر و ترقی کا سیاسی راستہ سعودیہ و امارات سے دو ٹوک الگ ہے اس حوالے سے بھی ہمیں سعودیہ و امارات ‘ بحرین ‘ اومان‘ اردن‘ مصر‘ کویت کے ساتھ ہی علاقائی طور پر کھڑا رہنا ہوگا۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایران سے دشمنی اپنانا ہوگی۔ ہرگز نہیں صرف عادل بننا ہوگا۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved