تازہ ترین  
پیر‬‮   21   جنوری‬‮   2019

سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو ایک غیر مسلم دانشور کا خراج عقیدت


(گزشتہ سے پیوستہ)
کی ہے اک شاگرد کی استاد نے بیعت قبول
بڑھ گیا ہے مہر سے کس قدر رُتبہ ماہ کا
انقلاب آسماں دیکھو کہ اک ادنیٰ مرید
انور شاہ جیسا ہے عطاء اللہ کا
مولانا انور شاہ سید عطا ء اللہ شاہ بخاری سے اس قدر متاثرتھے کہ ہر وقت اُن کاحال احوال ہی نہیں پوچھتے رہتے تھے بلکہ علماء کوان کی تقلید کرنے کی ہدایت و تلقین کرتے تھے۔
مولانا سید عطا ء اللہ شاہ بخاری کی تقاریر میںعوام کی دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ ان کی کوئی تقریر چھ گھنٹے سے کم نہیںہوتی تھی۔ بعض اوقات انہوںنے عشاء کی نماز کے بعدتقریر شروع کی اور فجر کی نماز کے موقع پر ختم کی۔ لیکن ہزاروں لاکھوں کا مجمع بت بنا سنتا رہتاتھا۔ اس مجمع میں اگر ایک تنکا بھی آگرے تو اس کی آواز سنی جاسکتی تھی۔ مولانا کی زبان میں جادو تھا۔ان کی تقریر اس قدر جذباتی ہوتی تھی کہ اگر حاضرین کورُلانے پر آتے تو لوگ زارو قطار اور زورزورسے رونے لگتے اور مولانا کی آنکھوں سے بھی آنسوئوں کی دھار بہہ نکلتی تھی اور پھر مولانا ہنسانے پر آتے تو لوگ کھلکھلاکر قہقہے مارنے لگتے۔ مولانا کی تقاریر سننے میں نہ صرف عوام بلکہ خواص بھی زبردست دلچسپی رکھتے تھے۔ مولانا کے گلے میں اتنا رس تھا۔ مولانا کی قرآن کریم کی تلاوت کرنے کااندازنرالاتھا۔ اور انتہائی دلچسپ ہوتاتھا۔ جو سمجھتا تھا وہ تو سر دھنتا ہی تھا۔ لیکن جومعافی نہیںسمجھتاتھا۔ وہ بھی سردھننے لگتاتھا۔
یہ ایک قابل امر واقع ہے کہ26اپریل1947ء کو جامع مسجد دہلی کے باہر مجلس احرارکا جلسہ تھا اور عطاء اللہ شاہ بخاری مقرر تھے۔ ان کی تقریر اور تلاوت قرآن کریم سُننے کے لئے لارڈ پیتھک لارنس جوکہ کرپس مشن کے سربراہ تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور پنڈت نہرو خصوصی طورپر شریک جلسہ ہوئے۔مولانا سید عطا ء اللہ شاہ بخاری کو زیر کرنے کے لئے برطانوی استعمار پسندوں اور ان کے حاشیہ برداروں نے کئی حربے زیرِ کار لائے۔ لیکن وہ اس مرد مجاہد کی گردن طاغونی قوتوں کے آگے خم نہ کرسکے۔ اس طرح کی ایک کوشش سرسکندر حیات خان وزیر اعظم پنجاب نے بھی کی اور مولانا کے خلاف زیر دفعہ 103, 302وغیرہ کے تحت بغاوت وانگخیت قتل کا مقدمہ چلایا۔ اس مقدمے کی سماعت 11مارچ 1940ء کو لاہور ہائی کورٹ کے ایک بینج میںشروع ہوئی۔ جوکہ جسٹس ینگ اور جسٹس رام لال پر مشتمل تھا۔ اس مقدمہ کو ملک گیر شہرت ملی اور اس میںلدھارام نامی ہیڈ کانسٹبل چیف رپورٹر گواہ کی حیثیت میںپیش ہوا۔ لیکن بھری عدالت میںاس نے یہ اقرارکیا کہ اس نے بخاری صاحب کی تقریر کی رپورٹ اعلیٰ حکام کی ہدایت پر مرتب کی ہے۔ اس سازش کوناکام کردیاگیا اورعدالت عالیہ نے شاہ صاحب کو باعزت طورپر بری کردیا۔
مولانا سید عطا ء اللہ شاہ بخاری کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ ان کے سیاسی مخالفین بھی ان کا بے حد ادب واحترام کرتے تھے۔ حفیظؔ جالندھری مسلم لیگ کے حامی تھے اور بخاری صاحب مسلم لیگ کے کٹر مخالف، حتیٰ کہ حفیظؔ جالندھری نے جب ’’نیرنگِ طلسمات ہے افرنگ کی دُنیا‘‘ کے عنوان سے نظم لکھنے کے بعد ایک انگریز عورت سے شادی کی توبخاری صاحب نے بھرے مجمع میں اُن کا مذاق اُڑایا تھا لیکن حفیظؔ جالندھری نے بخاری صاحب کے متعلق جورائے ظاہر کی، وہ قابل ملاحظہ ہے۔ حفیظؔ جالندھری نے کہا ’’دورِ اول کے مجاہدین اسلام سے ایک سپاہی راستہ بھول کر اس زمانے میں آنکلاہے۔وہی سادگی، مشقت پسندی، یکسر عمل اخلاص ا ور للہیت جواُن میںتھی، وہ عطااللہ شاہ بخاری میںہے‘‘۔مولانا سید عطا ء اللہ شاہ بخاری اپنے عقائد کے لحاظ سے انتہائی راسخ العقیدہ تھے۔ زندگی میںجو موقف انہوںنے اپنائے رکھا، اُسی کوتااختتام زندگی اپنائے رکھا۔ وہ تقسیم برصغیر کے مخالف اور مسلم لیگ کے نظریہ سے مخالفت رکھتے تھے۔
اگرچہ انہیںکانگریس سے بھی اختلاف رائے تھا لیکن وہ دونوں سے الگ رہ کر ’’مجلس احرار‘‘ کے پلیٹ فارم سے اپنا نظریہ بیان کرتے رہے۔ 1946ء میں جب کہ مسلم لیگ کی مقبولیت اور نظریہ پاکستان کی قبولیت مسلم عوام میںاپنی آخری حدود تک پہنچ گئی۔ اُس وقت بھی مولانا سید عطا ء اللہ شاہ بخاری برصغیر کی تقسیم کے خلاف بر سر پیکار رہے۔ مولانا بخاری اورمجلس احرار نے شہید گنج کے تنازعہ میںشہید گنج کی واگزاری کی پوری کوشش کی لیکن جب پنجاب ہائی کورٹ نے اس کے گردوارہ ہونے کااعلان کردیا تو عوام الناس کوفتنہ وفساد سے بازرہنے کی تلقین کی۔ اس کے باعث ان کے سیاسی مخالفین نے ان پر سخت اتہام بازیاںکیں لیکن وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ پاکستان بننے کے بعد بھی شہید گنج مسجد نہ بن سکی اور گوردوارہ ہی رہا تو 1958ء میں لاہور کے دلی دروازہ کے باہر بخاری پھر گرج دار آواز میں پوچھا کہ بخاری پر الزام تراشی کرنے والوں نے پاکستان بننے کے بعد شہید گنج کو گوردوارہ سے مسجد کیوں نہیںبنایا؟ حکمرانوں کے پاس ا س سوال کا کوئی جواب نہیںتھا۔ تنگ نظرہندو بخاری کو کٹرمسلمان اور فرقہ پرست سمجھتے تھے اور بعض لوگ ان کے خلاف کفر کے فتوے صادرکرتے رہے۔ مولانابخاری کسی کی بھی پرواہ کئے بغیر اپنے موقف پر مضبوطی سے قائم رہے اور علامہ اقبال کے اس شعر کا مصداق بنے رہے
زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اورکافر یہ سمجھتا ہے کہ مسلماں ہوںمیں
مولانا سید عطا ء اللہ شاہ بخاری صد ق دلی اور مردانہ وار طریقہ سے تادم آخر اپنے موقف پر قائم رہے۔ نہ حکومتی جبر وتشدد انہیں مرعوب کرسکا اورنہ طمع ولالچ اُن کے پائوں میںلغزش پیدا کرسکے،نہ عوام کی کم فہمی اورتنگ نظری کے باعث کئی بار الگ تھلگ ہونے کا احساس انہیں اپنی راہ سے ڈگمگا سکا۔ شاید علامہ اقبالؔ نے ان کے ہی متعلق یہ شعر کہاتھا ۔
(جاری ہے)




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved