تازہ ترین  
اتوار‬‮   20   جنوری‬‮   2019

اصغر خان کیس کی سنسنی خیز کہانی جنرل درانی کی زبانی


٭ایف آئی اے کی سپریم کورٹ میں رپورٹ کہ اصغر خان کیس میں23 سال کی تحقیقات میں کسی جرم کا کوئی سراغ نہیں ، جنرل اسددرانی نے اپنی کتاب میں متعددسنسنی خیز ثبوت پیش کردیئے !O..عمران خا ن کے خلاف ہیلی کاپٹر کیس بند کیاجائے، وزیراعظم کی توہین ہورہی ہے: وزیر اطلاعات !O..چل چلاؤ، چیف جسٹس ثاقب نثار کی الوداعی دعوتیں شروع، کل لاہور ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن الوداعی عشائیہ دے رہی ہے !O..متعدد زیر سماعت ملزموں نے چیف جسٹس کی 17 جنوری کو ریٹائرمنٹ کے بعد کی تاریخوں کے لیے ضمانتیں کرالیں !O..بلاول، زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ کے نام آئی سی ایل سے نکالنے پر پیپلز پارٹی کااظہار مسرت !O..مہمند ڈیم کی کھدائی کی افتتاحی تقریب ملتوی، چیف جسٹس شامل نہیںہوسکیں گے !O.. پنجاب، وزیراعلیٰ کی سکیورٹی پر گورنر کی سکیورٹی پر 111 ، اہلکار متعین!
٭قارئین، حاضرین، سامعین، خواتین وناظرین! آپ سب نے پڑھ لیا ہوگا کہ 23سال قبل ایئر مارشل اصغر خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ 1990 میں اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اسلم بیگ کی ہدائت پر آئی ایس آئی کے چیف جنرل حمید گل اور ملٹری انٹیلی کے چیف جنرل اسد درانی نے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کوہرانے کے لیے سندھ کے مہران بنک سےزبردستی 14 کروڑ روپے(اب 64 کروڑ) لے کر مسلم لیگ ، جماعت اسلامی وغیرہ اور بہت سےصحافیوں میں تقسیم کیے تھے۔ سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا۔ ایف آئی اے کے چھوٹے افسراتنے بڑے سیاست دانوں اور فوجی جرنیلوں کے خلاف کیسے کوئی تحقیقات کر سکتے تھے۔ عدالت میں جنرل اسد درانی نے بہت سے حقائق کااعتراف کیا مگر ایف آئی اے کوکسی تحقیقات کی جرأت نہ ہوسکی۔ اس نے 23 برس کے بعد عدالت میں رپورٹ پیش کردی کہ حضور! کسی جرم کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ مہران بنک سے14 کروڑ روپےضرورنکلے مگر پتہ نہیں لگ سکا کہاں گئے؟ کوئی مانتا ہی نہیں کہ پیسے لیے تھے! اس لیے یہ کیس بندہی کردیاجائے ۔ فاضل عدالت نے یہ کیس جائزہ کے لیے وزارت قانون کو بھیج دیا ہے۔ دوسری طرف جنرل اسد درانی نے اپنی کتاب پاکستان اے ڈرفٹ (PAKISTAN ADRIFT) میں بہت سے سنسنی خیز انکشافات کردیئے ہیں۔ ADRIFTکا لفظ سمندری طوفان سے بے قابو ہونے والے کشتی یا کسی سمت کے بغیر سفر کرنے والے سفر وغیرہ کے لیے استعمال ہوتاہے۔ اس کتاب کے ہوش ربا انکشافات پڑھ کر ذہن چکرانے لگتا ہے۔ موصوف نے اس کتاب میں لکھا ہے کہ حقائق کتنے بھی چھپائے جائیں ،ایک نہ ایک دن ضرورسامنے آجاتے ہیں۔جنرل اسد درانی نے دلچسپ بات لکھی ہےمعاملہ یہ ہے کہ جنرل اسلم بیگ نے 1990 کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کو ہرانےکے لیے جنرل حمید گل اور میرے ذریعے مسلم لیگ اور جماعت اسلامی کے آئی جے آئی اتحاد اورصحافیوں میں 14 کروڑ روپے تقسیم کیے۔ یہ بات کسی طرح باہر نکل آئی پھر جنرل آصف نواز نے بے نظیر بھٹو کو مدد کرنے کا پیغام بھیجا جو پکڑاگیا۔ پھر جنرل آصف نواز کا پیغام موبائل فون کے ذریعے بے نظیر کوبھیجا۔ ان باتوں کی تفصیل آگے آئے گی۔ ہم نے مسلم لیگ، جماعت اسلامی اور دائیں بازو کا اتحاد آئی جے آئی کے نام سے قائم کیا اور پیپلزپارٹی کوہرانے کے لیے ان سیاست دانوں کے علاوہ متعدد صحافیوں میں14 کروڑ روپے کے چیک تقسیم کیے (نواز شریف اورجماعت اسلامی نے تردید کردی تھی)۔ آئی ایس آئی کے کمانڈر جنرل حمید گل نے پریس سے بات چیت کرتے ہوئے اس اتحاد کے قیام کا اعتراف کیا تھا۔1996 میں ایئر مارشل (ر) اصغرخان نے سپریم کورٹ میں ان معاملات کی تحقیقات کے لیے درخواست دائر کردی۔ یہ کیس ایف آئی اے کے سپرد کردیاگیا۔ ایف آئی اے میں اتنی سکت نہیں تھی کہ جرنیلوں سے پوچھ گچھ کرے۔اصغر خان باربار عدالت سے رجوع کرتے رہے بالآخر23 سال تک عدالت کے چکر کاٹنے کے بعد 88 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ایف آئی اے نے بھی سکھ کا سانس لیااوراس کیس کو بند کرنے کی سفارش کردی۔ فاضل چیف جسٹس کے ریمارکس تھے کہ کیس میں کوئی ثبوت ، کوئی سراغ ہی پیش نہیں کیا گیا تو عدالت کیا کرسکتی ہے ؟تاہم انہوں نے کیس ختم کرنے کی بجائے اسے مزید جائزہ کے لیے وزارت قانون کو بھیج دیا ہے۔ اب جنرل اسد درانی کے اعترافات کی داستان شروع ہوتی ہے۔
٭اپنی کتاب کے آخری باب میں وہ لکھتے ہیں کہ ایک نہ ایک دن سچ کو سامنے آنا ہی تھا۔ میں نے بڑی غلطی کی تھی کہ جنرل اسلم بیگ کے کہنے پر سیاستدانوں میں 14 کروڑ روپے تقسیم کی بات مان لی تھی۔جنرل اسلم بیگ نے مجھے کہا کہ کراچی کے کچھ سیاستدان الیکشن فنڈ دینا چاہتے ہیں، ان سے رابطہ کریں۔ جنرل اسلم بیگ نے یہ بات صحافیوں کو بھی بتادی، میں نے اس پر احتجاج کیا۔ جنرل بیگ نے کہا کہ بعض صحافیوں نے ایسے سوالات کیے کہ مجھے یہ کچھ بتاناپڑا۔ جنرل عبدالحمیدکاکڑ سے پہلے جنرل آصف نواز اور وزیراعظم نوازشریف میں چپقلش شروع ہوگئی۔ نوازشریف نے آصف نواز کو فرمانبردار بنانے کے لیے بی ایم ڈبلیوکار کی چابی پیش کی، آصف نواز نے انکاردیا اس پر چپقلش بڑھ گئی۔ جنرل درانی کے مطابق جنرل آصف نوازنے میرے ذریعے بے نظیر بھٹو سے رابطہ کیا اور نوازشریف کی حکومت ختم کرنے کی مدد پیش کی۔ مجھ سے پھر غلطی ہوگئی کہ یہ باتیں موبائل فون پر بے نظیر بھٹو کو بتائیں۔ جو آئی بی کے بریگیڈیئر انچارج امتیاز احمد نے ریکارڈ کرکے نوازشریف کو پہنچادیں۔ اس کے ایک ہفتے بعد جنرل آصف نواز کا پراسرارانتقال ہوگیا( کبھی تحقیقات نہ ہوئی، ان کا خاندان اب تک احتجاج کر رہا ہے) ۔ جنرل آصف نواز کے بعد جنرل عبدالوحید کاکڑ نے لندن میں بے نظیر بھٹو کو ایک خط میں یہ ساری باتیں بھیج دیں۔ یہ خط قومی اسمبلی میں بے نظیر بھٹو کے معتمد خاص جنرل(ر) نصیر اللہ بابر نے پڑھ کر سنایاتھا۔ جنرل وحید کاکڑ نے مجھے ریٹائر کردیا ۔ مجھے آج احساس ہو رہاہےکہ میں نے یہ سب کچھ غلط کیا تھا۔ قارئین کرام! اس داستان میں تھوڑا سااضافہ یہ ہے پیپلز پارٹی نے برسر اقتدار آکر اپنے مخالف جنرل درانی کو جرمنی میں سفیر بنادیااور جنرل وحید کاکڑ نے آپس میں لڑنے والے صدر غلام اسحاق خان اوروزیراعظم نوازشریف دونوں کو ’ریٹائر‘ کردیا۔
٭وزیر اطلاعات فواد چودھری نے مطالبہ کیا ہے کہ پختونستان حکومت کے سرکاری ہیلی کاپٹروں پر نجی دورے کرنے پر عدالت میں عمران خاں کے خلاف کیس ختم کیا جائے۔ اس سے وزیراعظم کی ہتک ہورہی ہے۔ وزیر اطلاعات صاحب کو کیا کسی نے بتایا کہ اسی ملک کے سابق وزرائے اعظم ، حسین شہید سہروردی، ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف، بے نظیر بھٹو اور راجہ پرویز اشرف بھی متعدد بار عدالتوں میں پیش ہو ئے ان کی تو کوئی ہتک نہ ہوئی۔ تحریک انصاف کے وزیراعظم کاعہدہ آسمان سےاترا ہے جوایک کیس کے دائر ہونے پر ہتک ہو گئی؟ ۔
٭اومنی گروپ جے آئی ٹی کے ہاتھوں سے نکلا تو نیب کے شکنجے میں پھنس گیا ہے۔ منیر نیازی کا شعر کہ ’’ایک اور دریا کا سامنا تھا مجھ کو منیرؔ، میں ایک دریا کے پاس اترا تو میں نے دیکھا‘‘۔
٭سپریم کورٹ نے مختلف ایئر لائنز کے 16پائلٹوں اور طیاروں کے عملہ کے 65 ارکان کے لائسنس معطل کردیئے جویا تو جعلی تھے یا طیارہ اڑانے کے معیار سے کم تھے ، استغفار! 16 جعلی پائلٹ ہزاروں افراد کی زندگیوں کے لیے خطرہ بنے رہے! انہیں کون لایاتھا ؟ پتہ نہیں ان لوگوں کوکوئی سزا ملتی ہے یانہیں۔ انہیں جو لایاتھا، اس کا بھی تومحاسبہ ہونا چاہیے!٭ایس ایم ایس: چاراکتوبر کے اوصاف میںخبر تھی کہEOBI کے پنشنروں کو یکم جولائی2018 سے10 ہزارماہانہ پنشن ملے گی ، چھ ماہ گزر گئے، ابھی تک 5250 روپے مل رہے ہیں، جناب چیف جسٹس جاتے جاتے ہمارا یہ مسئلہ تو حل کر جائیں، متعدد پنشنر۔٭بی ایچ یو میانوالی رانجھا تحصیل بہاء الدین سے سکیورٹی گارڈوں کی اپیل ، ہمیں اتوار، عید یا کسی بھی تہوار پر چھٹی نہیں دی جاتی، 12 گھنٹے ڈیوٹی دیتے ہیں، تنخواہیں بھی بہت کم ہیں، تین تین چار چار ماہ تک تنخواہیں بھی نہیں ملتیں۔ ہماری اپیل چھاپ دیں۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved