تازہ ترین  
پیر‬‮   21   جنوری‬‮   2019

تھرمل اور کول پاور منصوبے ہمیشہ کیلئے ختم کئے جائیں تو ملک ترقی کرے گا


چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جہاں بدعنوانی نظر آئی اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی،سپریم کورٹ میں نجی بجلی گھروں انڈی پینڈنٹ پاور پروڈیوسرز آئی پی پیز کو اضافی ادائیگیوں سے متعلق کیس کی سماعت،سیکرٹری توانائی ڈویژن عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ملک میں 10 آئی پی پیز کو 159 ملین (15 کروڑ 90 لاکھ روپے)فی کس اضافی دئیے گئے، شکایت یہ ہے کہ بجلی پیدا ہی نہیں ہوئی لیکن ادائیگیاں کردی گئیں۔سیکرٹری پاور ڈویژن نے جواب دیا کہ حکومت نے آئی پی پیز سے معاہدہ کر رکھا ہے اوربجلی نہ خریدیں تب بھی ادائیگی کی جاتی ہے۔
ہم اوصاف کے اداریوں میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور چیف جسٹس پاکستان کی توجہ بارہا اس طرف دلا چکے ہیں کہ ایک انٹرنیشنل مافیا کا پاکستان میں پانی و بجلی کے معاملات میں گہرا عمل دخل ہے اور یہ مافیا نہیں چاہتا کہ پاکستان خودکفالت کی منز ل حاصل کرے اور اپنے پائوں پر کھڑا ہو۔ اس مافیا کی جڑیں ہماری ہر حکومت کے اندر ہمیشہ رہی ہیں اور اب بھی موجود ہیں۔ ماضی کے حکمرانوں نے ملک کو اس مافیا کے ہاتھوں گروی رکھتے ہوئے سال دو ہزار دومیں انٹرنیشنل پاور پروڈیوسرز سے ایسے آئی پی پیز معاہدے کئے جن کی وجہ سے یہ ہمارے لئے پھندہ ثابت ہوئے ۔پاکستان میں فی یونٹ بجلی کے نرخ بھی یہی مافیا مقرر کرتا ہے اور بجلی خریدی جائے یا نہ ہمیں قومی خزانے سے ہر حال میں معاہدے کے مطابق انہیں اربوں روپے کی رقم ادا کرنا پڑتی ہے اور یہ آئی پی پیز جب چاہیں ملک کو بجلی کے بحران کا شکار بنادیتی ہیں۔ عقل کے اندھوں نے یہ معاہدے کرکے قوم کو عذاب میں ڈال دیا ہے ۔
ہم وزیر اعظم اور چیف جسٹس سے وسیع تر قومی مفاد میں یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ماضی میں جن حکمرانوں اور انکے چیلے چانٹوں نے بھی یہ معاہدے کئے تھے انکے اثاثوں کو ضبط کیا جائے اور انکے خلاف قومی جرائم میں ملوث ہونے پر مقدمات قائم کرکے انہیں مثال عبرت بنادیا جائے ۔آئی پی پیز سے ہونے والے یہ معاہدے قوم سے صریح غداری کے مترادف ہیں ۔ ملک میں کوئلے اورتیل سے بجلی پیدا کرنے کےتھرمل منصوبوں کو ممنوع قرار دیا جائے اور صرف پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔
فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں ہی تربیلا اور منگلا ڈیم سمیت چھ سات چھوٹے بڑے ڈیم بنائے گئے جوکہ پاکستان کی لائف لائن ہیں اسکے بعد کوئی ڈیم نہیںبنایا گیا۔ یہ ڈیمز قوم کا ایک پیسہ لئے بغیر بجلی فراہم کررہے ہیںاور دنیا بھر میں ہائیڈرل پاور منصوبے ہی سستے ترین ہیں ۔بدقسمتی سے ملک میں سابق حکمرانوں اور منصوبہ سازوں نے اپنی کک بیکس،کمیشن اور شرمناک لوٹ مار کیلئے پن بجلی کا کوئی منصوبہ نہیں لگنے دیا اور رکاوٹیں کھڑی کیں ۔کالاباغ ڈیم کو بھی متنازعہ بنایا گیا اور ایک دو سیاسی جماعتوں کے خوف سے اس منصوبے کو ترک کردیا گیا ۔ہائیڈرل منصوبے خواہ ایک سو میگا واٹ بھی بجلی پیدا کریںیہ قومی مفاد میں ہیں۔ملک بھر میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کے چھوٹے بڑے منصوبے لگائے جائیںاور انکی حوصلہ افزائی کی جائے۔ جن ملکی سرمایہ کاروں نے اس شعبے میں سرمایہ کاری کررکھی ہے انکی حوصلہ شکنی نہ کی جائے اور بیوروکریسی و غیر ملکی کنسلٹنٹس کی رکاوٹوں کو دور کیا جائے ۔ اب جبکہ اگلے سال ان آئی پی پیز کے معاہدے ختم ہورہے ہیں تو ان سے ہمیشہ کیلئے جان چھڑائی جائے تاہم فوری کارروائی کی صورت میں یہ خون چوسنے والی جونکیںبیرون ملک پاکستان کیخلاف کیسز کرکے اربوں روپے کے جرمانے وصول کرکے قوم کا خون نچوڑیں گی ۔ملک میں سال بھر بہنے والے دریائوں اور ندی نالوں پر پن بجلی کے منصوبے بلاتاخیر شروع کئے جائیں ۔مقامی سرمایہ کاروں کو پرکشش مراعات دی جائیں اور سولر انرجی کے منصوبوں کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ ملک خودکفالت کی منزل پاسکے۔ ملک سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے تھرمل اور کول پاور منصوبوں کو ختم کیا جائے۔
بھارت کی بڑھتی ہوئی جنگی جارحیت:سخت سبق سکھانے میں کوئی تاخیر نہ کی جائے
بھارتی فوج کی کنٹر ول لائن پرجنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ، وادی نیلم میں ایل او سی کے شاہکوٹ سیکٹر پر شہری آباد ی کو نشانہ بناڈالا ، بلااشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک خاتون شہید اور دوسری زخمی، یہ گزشتہ دو ہفتے کے دوران دوسرا موقع ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے اٹھمکام میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔31 دسمبر کو بھی بھارتی فوج کی جانب سے آزاد کشمیر میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق اور دو کانسٹیبل سمیت 9 افراد زخمی ہو گئے تھے۔
آئی ایس پی آر نے حالیہ بھارتی جارحیت پرکہاہے کہ ا س قسم کی کارروائیوں سے مقبوضہ کشمیر میں بہادر کشمیریوں کی آزادی کی منصفانہ جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا ۔امر واقع یہ ہے کہ بھارتی فوج غیر پیشہ ورانہ طرزعمل جاری رکھے ہوئے ہے اورمقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کی کارروائیوں کے علاوہ وہ کنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کر رہی ہے اس قسم کی کارروائیاں مقبوضہ کشمیر میں بہادر کشمیریوں کی آزادی کی منصفانہ جدوجہد کو دبا نہیں سکتیں ۔پاک فوج نے جوابی کارروائی کی اور بھارتی فوج کے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جہاں سے فائرنگ ہورہی تھی ۔فائرنگ کے بعد تعلیمی ادارے بند کردئیے گئے اور طلبا کو بحفاظت ان کے گھروں کو بھیج دیاگیا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت محض ایک دو جوابی اقدامات سے باز نہیں آئے گا بلکہ اسے جب تک انتہائی سخت اور ہلاکت آفرین جواب نہیں ملے گا وہ جارحیت سے ترک نہیں کرے گا۔ کبھی وہ سرجیکل اسٹرائیکس کا ڈرامہ رچارکر دنیا کو گمراہ کرتا ہے اور کبھی وہ پاکستان پر عسکریت پسندی کے الزامات گاکر دنیا کو گمراہ کرتا ہے لیکن اس کا اصل چہرہ اسکے حامیوں کے سامنے بھی بے نقاب ہوچکا ہے ۔ سی آئی اے کی سالانہ رپورٹ میں بھی بھارت کی مقبوضہ کشمیر میںجارحیت اور وہاں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ امریکی صدر ٹرمپ بھی بھارت کے افغانستان میں گھنائونے کردار پر وزیر اعظم مودی کیخلاف سخت ریمارکس دے کر ان پر عدم اعتماد کا اظہا رکرچکے ہیں ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ بھارتی برسراقتدار ٹولہ ایک بار پھر اقتدارحاصل کرنے کیلئے کسی ایسے موقع کی تلاش میں ہے جب وہ جنگ کا دائرہ بڑھائے اور پاکستان پر حملہ آور ہو تاہم اسی صورت میںاس کو چند ہی گھنٹوں میں ایسا جواب ملے گا جو بھارتی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ دوسری طرف چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور وہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے ویژن کے مطابق امن کا خواہاں ہے۔ پاکستان ملک کے اندر اور باہر بھی امن کا خواہاں ہے۔ پاک فوج ایک جنگجو فوج ہے، پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ ہماری رائے میں بھارت امن کی طرف نہ آیا تو اسکی شدت پسند قیادت کروڑوں بھارتیوں کو خطرات میں ڈال دے گی ۔ وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ بھارتی کرکٹ ٹیم کی ستائش کی بجائے بھارتی ہم منصب کی گوشمالی کی طرف توجہ دیں اور فون کرکے انہیںسنگین نتائج سے باخبر کردیں۔
کچی آبادیوں کا خاتمہ اور قبضے چھڑانے کیلئے بے رحمانہ آپریشن ناگزیر ہے
وزیر اعظم عمران خان نے وزیر قانون کو تصدیق شدہ املاک کو بروئے کار لانے کے حوالے سے قانونی پہلوئوں کا جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ بڑے شہروں میں قائم غیر قانونی کچی آبادیوں اور قبضہ شدہ سرکاری اراضی کو خالی کراتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ غریب لوگوں کو متبادل اور معیاری رہائش گاہیں فراہم کی جائیں۔
ہماری رائے میں اسلام آباد، لاہور، کراچی، ملتان، ایبٹ آباد و دیگر بڑے شہروں میں اربوں کی سرکاری پراپرٹیز کو استعمال میں لا کر نہ صرف ان کا صحیح مصرف یقینی بنایا جا سکتا ہے بلکہ ان کو کثیر آمدنی کا مستقل ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ کراچی سمیت مختلف شہروں میں سرکاری املاک و اراضیوں پر غیر قانونی قبضوں پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ ہم اوصاف کے اداریوں میں وزیراعظم کو سرکاری کمرشل زمینیں بالخصوص انتظامیہ افسران کی کنالوں پر محیط سرکاری رہائش گاہیں ختم کرکے یہ کمرشل اراضی نیلام کرنے کی تجویز دے چکے ہیں۔
یہ درست ہے کہ بڑے شہروں میں قائم غیرقانونی کچی آبادیوں اور قبضہ شدہ سرکاری اراضی کو خالی کراتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ غریب لوگوں کو متبادل اور معیاری رہائشگاہیں فراہم کی جائیں گی تاہم وزیر اعظم کو یہ بات پیش نظر رکھنی ہوگی کہ ماضی میں بے گھر افراد بالخصوص جھگی نشینوں کو متبادل رہائش دی گئی تھی لیکن یہ لوگ اسے اونے پونے داموں بیچ کر پھر شہروں میں واپس آگئے ہیں صرف حقیقی مستحق بے گھروں کو ہی متبادل رہائش گاہیں دی جائیں اور ان لوگوں کو مختلف ہنر بھی سکھائے جائیںتاکہ جرائم بھی کم ہوں بعض قبضہ گروپ ان جھگی نشینوں کے ذریعے اربوں کی سرکاری زمینوں پر قبضے جمالتے ہیں اور راتوں رات پلازے کھڑے کردئیے جاتے ہیں ۔ وزیر اعظم ان سرکاری افسران اور اہلکاروں کیخلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم دیں جوکہ سرکاری اراضی پر قبضے کرانے اور ایسی آبادیاں قائم کرنے میں ملوث ہیں ایسی آبادیوں میں بجلی اور گیس کے کنکشن تک موجود ہیں آخر یہ سب کچھ کس قانون کے تحت ہوا ہےجن بدعنوانوں نے اس ذریعے سے اربوں کا مال کمایا ہے انکے اثاثے ضبط کیے جائیں اور انہیں برابر کا مجرم قرار دیا جائے ۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved