تازہ ترین  
پیر‬‮   21   جنوری‬‮   2019

سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو ایک غیر مسلم دانشور کا خراج عقیدت


(گزشتہ سے پیوستہ)
اگرچہ انہیںکانگریس سے بھی اختلاف رائے تھا لیکن وہ دونوں سے الگ رہ کر ’’مجلس احرار‘‘ کے پلیٹ فارم سے اپنا نظریہ بیان کرتے رہے۔ 1946ء میں جب کہ مسلم لیگ کی مقبولیت اور نظریہ پاکستان کی قبولیت مسلم عوام میںاپنی آخری حدود تک پہنچ گئی۔ اُس وقت بھی مولانا سید عطا ء اللہ شاہ بخاری برصغیر کی تقسیم کے خلاف بر سر پیکار رہے۔ مولانا بخاری اورمجلس احرار نے شہید گنج کے تنازعہ میںشہید گنج کی واگزاری کی پوری کوشش کی لیکن جب پنجاب ہائی کورٹ نے اس کے گردوارہ ہونے کااعلان کردیا تو عوام الناس کوفتنہ وفساد سے بازرہنے کی تلقین کی۔ اس کے باعث ان کے سیاسی مخالفین نے ان پر سخت اتہام بازیاںکیں لیکن وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ پاکستان بننے کے بعد بھی شہید گنج مسجد نہ بن سکی اور گوردوارہ ہی رہا تو 1958ء میں لاہور کے دلی دروازہ کے باہر بخاری پھر گرج دار آواز میں پوچھا کہ بخاری پر الزام تراشی کرنے والوں نے پاکستان بننے کے بعد شہید گنج کو گوردوارہ سے مسجد کیوں نہیںبنایا؟ حکمرانوں کے پاس ا س سوال کا کوئی جواب نہیںتھا۔ تنگ نظرہندو بخاری کو کٹرمسلمان اور فرقہ پرست سمجھتے تھے اور بعض لوگ ان کے خلاف کفر کے فتوے صادرکرتے رہے۔ مولانابخاری کسی کی بھی پرواہ کئے بغیر اپنے موقف پر مضبوطی سے قائم رہے اور علامہ اقبال کے اس شعر کا مصداق بنے رہے
زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اورکافر یہ سمجھتا ہے کہ مسلماں ہوںمیں
مولانا سید عطا ء اللہ شاہ بخاری صد ق دلی اور مردانہ وار طریقہ سے تادم آخر اپنے موقف پر قائم رہے۔ نہ حکومتی جبر وتشدد انہیں مرعوب کرسکا اورنہ طمع ولالچ اُن کے پائوں میںلغزش پیدا کرسکے،نہ عوام کی کم فہمی اورتنگ نظری کے باعث کئی بار الگ تھلگ ہونے کا احساس انہیں اپنی راہ سے ڈگمگا سکا۔ شاید علامہ اقبالؔ نے ان کے ہی متعلق یہ شعر کہاتھا ۔
ہوا ہے گو تندوتیز لیکن چراغ اپنا جلا رہاہے
وہ مردِدرویش کہ جس کو حق نے دئے ہیں اندازِ خسروانہ
بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کشمیری النسل تھے۔ ان کے آباء واجداد ضلع بارہمولہ میںقصبہ پٹن کے قریب موضع کریری کے باشندے تھے اور یہیں سے جا کر انہوںنے ملک کے دیگر حصوںمیں رہائش اختیار کی تھی۔ بخاری صاحب کو کشمیر کے حالات و واقعات سے بہت دلچسپی تھی اور وہ اس خطہ کے زبردست خیر خواہوں میں سے ایک تھے۔ مولانا بخاری کی کوششوں اور اعانت کا نتیجہ تھا کہ تحریک حریت کشمیر کے ابتدائی ایام میں مجلس احرار نے تحریک کی بھر پور مدد کی اور اپنے ہزاروں رضا کارتحریک میںگرفتار کروائے لیکن شیخ عبداللہ کی قلابازیاں، تگڑم بازیوں اور موقع پرستیوں کو عطاء اللہ شاہ بخاری اور مجلس احرار کے دیگر اکابرین قبل از وقت ہی سمجھ کر یہاں کے معاملات سے دست کش ہوگئے۔ شاید عطاء اللہ شاہ بخاری پہلی شخصیت اور مجلس احرار پہلی سیاسی جماعت تھی،جس نے شیخ عبداللہ کے اصل سیاسی چہرے کو ابتداء میں بھانپ لیاتھا۔ اس سے ان کی بالغ نظری کی داد دینی پڑتی ہے۔
شیخ عبداللہ نے اپنی سوانح عمری اور دیگر تحریروں کے ذریعے جموںوکشمیر میںمجلس احرار اورمولانا عطاء اللہ شاہ بخاری کونہ صرف کم تردکھانے کی ناکام کوشش کی ہے بلکہ ان کی اصلیت کو مسخ کرنے کی بھی کوشش کی ہے لیکن جموں وکشمیر کے عوام کی بیداری اور تحریک حریت کشمیر کی آبیاری میں سید عطا ء اللہ شاہ بخاری اور مجلس احرار نے جو کردار ادا کیا ہے،جب صحیح معنوںمیں تاریخ مرتب ہوگی تو تاریخ میں اُن کے کارنامے سنہری حروف میں لکھے جائیں گے اور ان کی اہمیت کو کم کرکے دکھانے والے اوراقِ تاریخ کی دھول میںغرق ہوجائیں گے۔ اس وقت اس کا عمل جاری ہے۔ وقت کی غالب کشمیری لیڈر شپ سے بیزاری کے باوجود اس ریاست کے میر پور ضلع کے سیاسی کارکنوں کے حضرت مولانا بخاری اور مجلس احرار کے ساتھ تعلقات انتہائی پر خلوص رکھنے میں راجہ محمد اکبر، مولانا عبداللہ سیاکھوی، غازی عبدالرحمن، مولانا عبدالکریم، حاجی عبدالوہاب کے علاوہ کامریڈ کرشن دیو سیٹھی بھی شامل ہیںجنہوںنے مولانا بخاری کے زانوئے ادب میں سیاست اورخطابت کا ذوق وشوق سیکھا۔ ان حضرات کی تحریر اور تقریر میں جوروانی، شگفتگی و صفائی ہے، اس میں مولانا عطاء اللہ شا ہ بخاری کا بہت عمل دخل ہے۔ اگرچہ مولانا بخاری کوفوت ہوئے 57برس ہوگئے ہیں لیکن مولانا بخاری کی یاد ابھی تک ہمارے دلوںسے محو نہیںہوئی۔ ہم انہیں ہمیشہ ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved