تازہ ترین  
پیر‬‮   21   جنوری‬‮   2019

ہم عالمی ریکارڈز بنا سکتے ہیں!


مدت ہوئی کھیلوں کے میدان میں کوئی خاص ریکارڈ پاکستان کی جانب سے سامنے نہیں آیا ! کبھی کبھار کوئی کر کٹر عالمی رینکنگ میں نمایاں مقام حاصل کرلے تو دل کو کچھ تسلی ہوتی ہے ۔ گذشتہ دنوں ایک خاتون کرکٹر کا نام بھی عالمی رینکنگ میں نمایاں ہونے کی وجہ سے خبروں کی زینت بنا رہا جو کہ قومی ٹیم کی کپتان بھی رہ چکی ہیں ۔ مردانہ کر کٹ ٹیم اور اُس کے کپتان کے بُرے دن چل رہے ہیں ۔ نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ سے پے در پے دو سیریز ہارنے کے بعد مردانہ ٹیم ماہر تجزیہ نگاروں اور سینئر کھلاڑیوں کی غیر ماہرانہ تنقید کی زد میں ہے ۔ کمال یہ ہے کہ کرکٹ یا ہاکی میچ میں شکست کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ تجزیہ کار ایسا لب و لہجہ اختیار کر لیتے ہیں کہ جیسے قومی ٹیم کوئی میچ نہیں بلکہ جنگ ہار گئی ہے ۔ ہمارے یارِ خاص تبریز میاں ایک مشہور سپورٹس اینکر سے بے حد الرجک ہیں ! یہ اینکر ٹیم کی شکست کے اسباب پہ تبصرہ کرنے کے بجائے بد مزاج ساس کی طرح بورڈ کے عہدیداروں اور سلیکشن کمیٹی کے چال چلن میں کیڑے نکالنا شروع کر دیتے ہیں ۔
موصوف نے شائد گلی محلے کی سطح پہ بھی کرکٹ یا ہاکی نہیں کھیلی لیکن ڈان بریڈ مین کی بیٹنگ تکنیک کی خامیوں ، سر گیری سوبرز کے ایک اوور میں چھ چھکوں کے پیچھے فکسنگ کے امکانات اور رچرڈ ہیڈلی کے رن اپ اور بولنگ ایکشن کا پوسٹ مارٹم فی البدیہہ کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں ۔ ان خود ساختہ ماہرین کی رائے سن کر مرحوم پطرس بخاری کے مشہور مضمون ( میبل اور میں ) کے وہ کردار یاد آ جاتے ہیں جو بنا کتاب پڑھے اُس پہ تبصرے کر کر کے ایک دوسرے کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
میڈیائی بقراطوں کا ذکر رہنے دیجیے ! بات کھیلوں کے میدان میں ناقص کارکردگی کی ہو رہی تھی کہ پاکستان طویل عرصے تک ہاکی اور سکواش میں عالمی اعزازات جیتتا رہا ۔ کر کٹ اور سنوکر کا معاملہ بھی ایسا ہی رہا ۔ فٹ بال ، والی بال باکسنگ اور تن سازی کا بیش بہا ٹیلنٹ سرکاری عدم توجہی اور نالائقی کی بدولت ضائع ہو رہا ہے ۔ نکموں اور نکھٹوئوں کو نوازنے کی ناقص پالیسی کی بدولت اُن کھیلوں میں بھی کارکردگی کا معیار گر تا جا رہا ہے جن میں کبھی پاکستانی کھلاڑیوں کا سکہ چلتا تھا ۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ کر کٹ ، ہاکی ، سکواش اور سنوکر جیسے کھیلوں میں ملک کا نام روشن کرنے والے عالمی پائے کے بیشتر کھلاڑی ذاتی محنت اور قسمت کی مہربانی سے بین الا قوامی میدانوں تک پہنچے ۔ سرکاری منصوبہ بندی اور سر پرستی کا دور دور تک کبھی کوئی عمل دخل نہیں رہا ۔ نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے ۔ قومی کھیل ہاکی کی بر بادی کا سہرا کلیتاً تمام سابقہ حکومتوں کے سر ہے ۔ ایشین چیمپپنز ٹرافی میں حالیہ عبرت ناک شکست کے بعد ہاکی ٹیم کے کوچ اولیمپیئن حسن سردار کا یہ تبصرہ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے کہ ٹیم کی تربیت کے لیے مطلوبہ فنڈز ہی دستیاب نہیں تھے ۔ قومی کھیل ہاکی کے معاملے میں سب سے زیادہ کوتاہی برتی جا رہی ہے ۔
مدت ہوئی ملک میں نہ تو نئے آسٹرو ٹرف بچھائے گئے اور نہ ہی منظم انداز میں نئے کھلاڑیوں کی تربیت کا کوئی نظام وضع کیا گیا ۔ سہولیات کا فقدان اور شرمناک حد تک معمولی معاوضہ رہی سہی کسر پوری کر دیتا ہے ۔ منصوبہ بندی ، تربیت ، مناسب خوراک اور معاوضے کے بغیر قومی ٹیم کو عالمی مقابلوں میں خانہ پری کرنے کے لیے بھیج کر ملکی پرچم کو بے توقیر کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے ۔ خیر سے موجودہ وزیر اعظم خود عالمی سطح کے کھلاڑی رہ چکے ہیں اور کرکٹ کا عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان بھی ۔ آج سیاسی میدان میں اُن کی مقبولیت اور جیسی تیسی کامیابی کے پیچھے بھی پاکستانی قوم کی کر کٹ کے کھیل سے دیوانگی کی حد تک وابستگی کا بڑا عمل دخل ہے ۔ قوم امید کرتی ہے کہ کھیلوں کے معاملے میں وزیر اعظم ذاتی دلچسپی لے کے نقائص سے پاک نظام وضع کر کے ملک بھر سے باصلاحیت کھلاڑیوں کے چنائو اور تربیت کا اہتمام کر یں ۔ ناقص کارکردگی دکھانے والے نکمے سفارشی اہلکاروں سے بورڈز اور فیڈریشنز کو پاک کروائیں ۔ راقم کا ذاتی مشاہدہ ہے کہ پاکستان میں کر کٹ اور ہاکی کے علاوہ والی بال ، فٹ بال ، باکسنگ ، ایتھلیٹکس (Field and track events )، تن سازی اور دیسی کشتی کا بے پناہ ٹیلنٹ دستیاب ہے ۔
غریب با صلاحیت کھلاڑیوں کو سرکاری سرپرستی دستیاب ہے ۔ جن گھرانوں میں دو وقت کی روٹی اور صاف پانی کا حصول بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہو وہاں کھیلنے کودنے اور پڑھنے لکھنے کی عمر میں نوجوانوں کی صلاحیتیں معاش کی چکی میں پس جاتی ہیں ۔ تعلیمی اداروں سے شروع کر کے تحصیل ضلعے اور شہروں کی سطح پہ کھیلوں کا انعقاد نہ صرف قومی ٹیموں کے لیے با صلاحیت کھلاڑی بھی فراہم کرے گا اور دہشت گردی کے آسیب سے خوف زدہ شہریوں کو صحتمند تفریح بھی مہیا ہو گی ۔ بات عالمی ریکارڈ سے شروع ہوئی تھی لہٰذا تبریز میاں کے دلچسپ مشورے کا ذکر نہ کرنا بھی زیادتی ہو گی ! اُن کی رائے میں اگر کرپشن یا منی لانڈرنگ کا ٹورنامنٹ ہو تو یقینا ہمارے بیشتر سیاسی نابغے عالمی اعزاز بھی با آسانی جیت لیں گے اور بہت سے ریکارڈ بھی قائم کر لیں گے ۔ تبریز میاں ایک منفرد ریکارڈ کے متعلق بے حد پر جوش ہیں ! وہ ریکارڈ ہے ایک ہی دن میں اخبار کے فرنٹ پیج پر زیادہ سے زیادہ کرپشن کیسز کی خبریں شائع کرنے کا ۔ بلاشبہ یہ عالمی ریکارڈ فی زمانہ ہم بنا سکتے ہیں ۔ بس مسئلہ اتنا ہے کہ ان ریکارڈز اور عالمی اعزازت پہ خوشی منانے کے بجائے ہم دنیا بھر سے منہ چھپاتے پھریں گے!




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved