تازہ ترین  
پیر‬‮   21   جنوری‬‮   2019

اٹھارویں ترمیم …اصلی چور بے نقاب


پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں (پی پی پی، اور مسلم لیگ ن) پر جب کرپشن کے الزامات کے پس منظر میںایف آئی اے اور نیب کی جانب سے تحقیقات شروع کی جاتی ہیں تو یہ لوگ چیخ پڑتے ہیں اور کہنے لگتے ہیں کہ ’’جمہوریت خطرے میں ہے‘‘ ’’ اٹھارویں ترمیم کو ختم کرنے کے لئے ہم پر دبائو ڈالا جارہاہے، ‘‘حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے، ملک میں جس طرز کی جمہوریت چل رہی ہے، یا رائج ہے اسکو کسی جانب سے کوئی خطرہ نہیں ہے، کیونکہ پاکستان میں جمہوریت صرف نعرے بازی کی حد تک محدود ہے، جبکہ سیاست دانوں کی اکثریت اس نعرے کے ذریعہ ان پڑھ عوام کو بے وقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کرتے رہتے ہیں اس ہی طرح ان سیاست دانوں نے اٹھارویں ترمیم سے متعلق ایسی باتیں کی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، مثلاً اگر اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کیا گیا تو صوبائی خودمختاری ختم ہوجائے گی، ون یونٹ قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وغیرہ وغیرہ، حالانکہ سیاست دانوں کی جانب سے اس قسم کی گفتگو زیب نہیں دیتی ۔ اٹھارویں ترمیم کا ’’سہرا‘‘ سینیٹر رضا ربانی کے سر جاتاہے‘ جنہوں نے انتہائی خفیہ انداز میں اسکو نیشنل اسمبلی کی کمیٹی سے منظور کراکر قانون کی حیثیت دی ہے، حالانکہ اس پر قومی اسمبلی میں کھل کر بحث ہونی چاہئے تھی، لیکن بحث تو کجا اسمبلی میں اسکا خصوصیت کے ساتھ ذکر بھی نہیں کیا گیا ، جس سے رضا ربانی اور ان کی پارٹی کی بددیانتی ثابت ہوتی ہے، جب چیف جسٹس ثاقب نثار نے رضاربانی سے پوچھا کہ آپ نے قومی اسمبلی میں اس انتہائی اہم ترمیم سے متعلق بحث کیوں نہیں کرائی تو انہوںنے اقرار کیا بلکہ اعتراف کیا کہ یہ ترمیم اسمبلی میں بحث کے لئے پیش نہیں کی گئی،دراصل بعض باشعور اور محب وطن کالم نگاروں نے اٹھارویں ترمیم کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات سے زیادہ خطر ناک ہے، اس کا بنیادی مقصد صوبائی خودمختاری کا حصول نہیں ہے، بلکہ پاکستان کو ایک کنفیڈریشن میں تبدیل کرنا مقصود ہے۔
کہا جاتا ہے کہ آئین میں اٹھارویں ترمیم متعارف کرانے کے سلسلے میں رضا ربانی کو باقاعدہ عبدالحفیظ پیرزادہ مرحوم نے بریفنگ دی تھی، کیونکہ حفیظ پیرزادہ ضیا الحق کے دور میں لندن میں بیٹھ کر اپنے بعض ساتھیوں کے اشتراک سے پاکستان کو ایک کنفیڈریشن میں تبدیل کرنا چاہتے تھے، اسوقت کے تمام اخبارات میں حفیظ پیرزادہ اور ان کے ساتھیوں کے خیالات پاکستان کو ایک کنفیڈریشن میں بدلنے سے متعلق بیانات اور خیالات ریکاڈ پر موجود ہیں، اپنے انتقال سے قبل (شنیدہے) کہ انہوںنے رضا ربانی کو اپنے اعتماد میں لے کر اٹھارویں ترمیم کے لئے آمادہ کیا تھا، جسکو نیشنل اسمبلی کی ایک کمیٹی سے منظور کرایا گیا تھا، رضا ربانی ایک زمانے میں حفیظ پیرزادہ کے اسٹینو گرافر اور پی آراو کے فرائض انجام دیا کرتے تھے، پی پی پی کے سینئر ارکان کا یہ کہنا ہے کہ رضا ربانی کی عبدالحفیظ پیرزادہ سے دور کی رشتے داری ہے، اٹھارویں ترمیم بنیادی طورپر پاکستان کے آئین سے تصادم ہے، اگر اسکو قومی اسمبلی میں بحث کے لئے پیش کیا جاتا تو یہ ترمیم موجودہ شکل میں پاس نہیں ہوتی، کیونکہ قومی اسمبلی کی اکثریت صوبائی خودمختاری کی آ ڑ میں کنفیڈریشن کی حامی نہیں ہے، اور نہ ہوسکتی ہے۔
اس ضمن میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی تعریف کرنی چاہئے کہ انہوںنے اس کو پکڑ لیا ہے، جس کااسمبلی کے اندر کبھی کوئی تذکرہ نہیں ہوا ،عوام کو پہلی مرتبہ چیف جسٹس صاحب کے کلمات سے پتہ چلا کہ اتنی اہم ترمیم کو قومی اسمبلی میں بحث کے لئے پیش ہی نہیں کیا گیا، قومی اسمبلی کی کمیٹی نے اس ترمیمی بل کوپاس کیا تھا ، اس کمیٹی میں بعض ارکان ایسے بھی تھے جو پاکستان کے نظریات کے مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ پنجاب سے خواہ مخواہ کا بیر رکھتے ہیں، انہیں شاید یہ امید تھی کہ اس ترمیم کے بعد پنجاب کا سیاست میں رول کم ہوجائے گا، اور صوبے خصوصیت کے ساتھ سندھ کو ایسے ادارے مل جائیں گے جہاں عوام کے نام پر لوٹ مار کرنا آسان ہوجائے گا، دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صوبوں کے پاس ہنرمند افراد کی شدید کمی ہے بلکہ صوبائی حکومتوں میں استعداد ہی نہیں ہے کہ وہ خوش اسلوبی سے آئین کی روشنی میں عوام کے مسائل حل کرسکیں، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سندھ کی حکومت نے جو بیڑا غرق کیا ہے اور عوام کو معاشی طورپر مفلوج ومحروم کیا ہے ایسی المناک داستان کسی دوسرے صوبے میں نہیں ملتی ہے، صوبہ سندھ کے حکمران(پی پی پی)گذشتہ دس سالوں سے حکومت کررہی ہے۔
ان دس سالوں میں صوبائی بجٹ کا نصف حصہ مبینہ طور پر آصف علی زرداری کی جیب میں چلاجاتا ہے، ان کی بہن بھی اس کار خیر میں شامل ہیں ، سندھ کے عوام ان حقائق سے واقف ہیں ، لیکن ان کے خلاف لب کشائی کرنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس ہر قسم کی طاقت موجود ہے اور با اثر ہیں، جو وہ اپنے مخالفین پر ظلم کرنے سے گریز نہیں کرتے ہیں۔
اس پس منظر میں اٹھارویں ترمیم جس خفیہ انداز میں اسمبلی کی کمیٹی سے منظور کرائی گئی اور اسکو قومی اسمبلی میں بحث کے لئے نہیں پیش کیا گیا، منکشف ہوتا ہے کہ رضا ربانی کسی اور کے ایما پر یہ سب کچھ کررہے تھے، جس کا میں نے ہلکا سا اشارہ بالائی سطور میں پیش کیا ہے، دوسری طرف رضاربانی بڑی شد و مد کے ساتھ سپریم کورٹ سے استدعا کررہے تھے، اس ترمیم کو سپریم کورٹ کے لاجر بینچ کے سامنے بحث کے لئے پیش کیا جائے، اس مضحکہ خیز درخواست سے ظاہر ہورہا تھا کہ رضا ربانی بڑی مشکل میں پھنس گئے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ سپریم کورٹ میں اس پر بحث نہیں کی جاسکتی ہے، سپریم کورٹ کا کام قانون کی تشریح کرنا ہوتاہے، کسی آئینی ترمیم میں بحث قومی اسمبلی اور اسکے بعد سینٹ میں ہوتی ہے چنانچہ پاکستان کے باشعور اور محب وطن افراد اپنی تحریروں اور ٹی وی ٹاک شوز میں جب اٹھارویں ترمیم کے خلاف گفتگو کرتے تھے تو اسکا مقصد سوائے اسکے اور کچھ نہیں ہوتا تھا،کہ اس ترمیم میں جوشقیں آئین کے خلاف ہیں ،اس پر ازسرے نو غور کرکے اس میں ضروری ترمیم کی جائیں صوبائی مختاری ایک سیاسی نعرہ ہے یہ نعرہ ان عناصر نے لگایا ہے جو صوبائی خودمختاری کی آڑ میں اپنے ذاتی مفاد کی تکمیل چاہتے ہیں، اگر یہ عناصر خصوصیت کے ساتھ سندھ کی مجموعی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لئے مخلص ہوتے تو ان کے لئے آسانیاں پیدا کرتے اور کرپشن کا ارتکاب نہ کرتے، لیکن ایسا نہیں ہوا، اس ضمن میں چیف جسٹس ثاقب نثار مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوںنے اٹھارویں ترمیم کے’’ اصلی چور‘‘ کو بے نقاب کرکے حقیقی معنوں میں پاکستانی ہونے کا ثبوت دیا ہے،۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved