تازہ ترین  
پیر‬‮   21   جنوری‬‮   2019

بدکلامی، بدسلوکی اور معافیاں


٭صحافیوں کے ساتھ بدکلامی، پھر معافیاں !O..لاہور: پتنگ بازی ، ایک اور بچہ جاں بحق ،44 افرادپتنگ بازی کے شکار ہو چکے ہیں !O..بھارتی فائرنگ، آزاد کشمیر کی ایک اور خاتون شہید !O..، 10کمپنیوں کو بجلی کی فراہمی کے بغیر ایک ارب60 کروڑ روپے کی ادائیگی، سپریم کورٹ کانوٹس !O..شہبازشریف ، کمر کی تکلیف بڑھ گئی، چل پھرنہیں سکتے !O..گیس پمپوں پر سی این جی کی فراہمی 15 جنوری تک بند !O..پنجاب میں سریلی آوازوں کا مقابلہ !O.. حاکم علی زرداری کی ویڈیو ، قائداعظم کے خلاف ہرزہ سرائی !O..
٭وفاقی اورصوبائی وزرا کی صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی اور پھر معافی مانگنے کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔ دووفاقی وزرا کے بعد ہر موقع پر سخت کلامی کرنے والے پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن نے صحافیوں سے جماعت اسلامی کے مرحوم امیر قاضی حسین احمد اور قائداعظم کا موازنہ کرتے ہوئے ایک صحافی کے سوال پرمشتعل ہوکر صحافیوں کے بارے میں سخت ناروا باتیں کیں ۔ اس پر صحافیوں نے وزیر اطلاعات کی تقریبات اورپنجاب اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔ وزیر اطلاعات کو اپنے الفاظ کی معافی مانگنا پڑی، اس پر مسئلہ ختم ہوگیا۔ یہ محض پہلا واقعہ نہیں، پہلے بھی اس طرح کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ پہلے بدسلوکی پھر معافیاں! اس بارے میں فیس بک پر ایک خاتون شاعرہ (غالباً شبِینہ نام) کی پڑھی جانے والی ایک دلچسپ غزل کے دو اشعار کسی تبصرہ کے بغیر پڑھئے، شعر ہیں:۔
جو خاندانی رئیس ہیں وہ مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا
تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے
ذراسا قدرت نے کیا نوازا کہ آئے بیٹھے ہو پہلی صف پر
ابھی سے اُڑنے لگے ہو ا میں، ابھی تو شہرت نئی نئی ہے
٭سپریم کورٹ میں تین رکنی بنچ کے جج یہ سن کر حیران رہ گئے کہ سابق حکومت نے بجلی کی دس کمپنیوں کو ایک ارب59 کروڑ روپے ادا کردیئے جب کہ کسی کمپنی نے بجلی کا ایک یونٹ بھی فراہم نہیںکیا ۔ وفاقی سیکرٹری واٹر اینڈ پاور نے عدالت کوبتایا کہ ان کمپنیوں کے ساتھ سابق حکومت نے معاہدے کیے ہوئے ہیں کہ وہ بجلی بالکل فراہم نہ کریں تو بھی انہیں فی کمپنی 15 کروڑ90 لاکھ روپے ادائیگی کی جاتی رہے گی۔اس طرح سالانہ ایک ارب59 کروڑ روپے ادا کیے جاتے ہیں اور تقریباً بارہ ارب روپے ادا ہو چکے ہیں۔ یہ معاہدے ختم کرنے پر بھاری ہر جانہ ادا کرنا پڑے گا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار، جسٹس اعجاز الحسن اورجسٹس فیصل عرب نے اس پر حیرت اور برہمی کااظہار کیا۔ چیف جسٹس نے یہ معاملہ نیب کو بھیجنے کا اعلان کیا۔ قارئین سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ملک دشمن معاہدے کرنے والے سرکاری مگرمچھوں کو کتنا کمیشن ہاتھ آیا ہوگا اورکتنے لوگوں کی تجوریاں بھر گئی ہوںگی! ملک کولوٹنے کے حرام معاہدے، دونوں طرف حرام کی کمائی۔ ملک کھربوں کے قرضوں میں جکڑا گیااور حرام خوروں کو کوئی شرم ، خدا کا خوف نہ آیا!
٭لاہور کے علاقہ جوہر ٹاؤن میں 177 کنال 10 مرلے زمین پر سفید سنگ مرمر کے ساتھ وائٹ ہاؤس کے نام سے وسیع وعریض کھوکھر ہاؤس تعمیر کیاگیا۔ اس کے لیے سات مختلف افراد کی زمینوں کے ساتھ خَسروں( زمینی ریکارڈ کی اصطلاح) پر قبضہ کرکے ایک خَسرہ کی شکل دی گئی اس سکینڈل میں لاہور کے ترقیاتی ادارہ، ایل ڈی اے کے متعدد افسر شریک تھے۔اس وائٹ ہاؤس میں 10 کنال سرکاری زمین پر قبضہ کا بھی انکشاف ہوا ۔ سپریم کورٹ کے حکم پر اس دس کنال زمین پر متعدد تعمیرات مسمار کردی گئیں۔ مزید تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ سارا محل ہی غیر قانونی طورپر ناجائز قبضہ کی زمین پر بنایاگیا ہے۔ امکان ہےکہ اب اس پورے محل کو مسمار کردیاجائےگا۔ اس محل کی قیمت کروڑوں نہیں ، اربوں میں بیان کی جاتی ہے۔ بددیانیتی اور زمینوں کی لوٹ مار کی یہ صرف ایک شہر کی ایک مثال ہے۔ کراچی میں بلاول ہاؤس کے اردگرد کی عمارتوں کے مالکان سے کس طرح یہ عمارتیںخالی کرائی گئیں؟ سینکڑوں کنالوں کی سرکاری زمین پر بحریہ ٹاؤن والوں نے کس طرح قبضہ کیا؟ اسلام آباد اورکراچی کے پارکوں اورریلوے اوردوسرے محکموں کی سرکاری زمین پر قبضوں اورناجائز تعمیرات کی ہوش ربا داستانیں چھپ رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سابق حکومتوں کے دور میں یہ سب کچھ کیوں ہوتا رہا؟ ان وارداتوں میں یہ حکومتیں بھی یکساں مجرم قرار پاتی ہیں! ان کے خلاف کون سی نیب کارروائی کرے گی؟
٭نااہلی ! وزارت بجلی و پانی کے ذمہ دار وزرا اور افسروں کی نااہلی اور غفلت کے باعث ملک بھر میں سی این جی کے گیس کے سٹیشنوں پر گیس کی فراہمی 15 جنوری تک بند کر دی گئی ہے۔سپریم کورٹ میں بتایاگیا ہے کہ ملک بھر کے لیے گیس کی درآمد کے لیے تین ماہ پہلے بیرون ملک آرڈر دیئے جاتے ہیں مگرایسا نہیں کیاگیا اور اب ایک دوسرے کو کوس رہے ہیں۔ ان لوگوں نے وزیراعظم کے اجلاس میں 100 دنوں کی اعلیٰ کارکردگی کا ریکارڈ پیش کرکے وزیراعظم کو خوش کردیااور شاباش لے لی۔ اور جب گیس کے ذخائر خالی ہوگئے، مزید گیس کی فوری فراہمی کا کوئی انتظام نہ ہوسکا تو ذمہ داری سابق حکومت پر ڈال دی۔ حکمرانی کے تقریباً پانچ ماہ میں برسراقتدار ان لوگوں نے کیا کیا؟ وہی بات کہ تقریبات میں اگلے صوفوں پر بیٹھنے کی شان و شوکت تو حاصل ہوگئی مگر!!
٭میں نے بہت گریز کیا کہ انتہائی ناگوار مذموم باتوں کا ذکر نہ کیا جائے جو آصف زرداری کے والد حاکم علی زرداری کے حوالے سے فیس بک وغیرہ پر قائداعظم اور انتہائی قابل احترام مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے بارے میں سامنے آرہی ہیں۔ یہ اتنی مکروہ ، دل آزار اور ناقابل برداشت باتیں ہیں کہ کوئی محب وطن شخص انہیں سننا یا پڑھنا گوارانہیں کرسکتا، مگر ملک کے نہائت محب وطن بزرگ صحافی محترم اثر چوہان نے کھلے الفاظ میں قائداعظم، ان کے والد جیناپونجا اور محترمہ مادر ملت کے بارے میں حاکم علی زرداری کے ایک پرانے ویڈیو انٹرویو پر سامنے آنے والی باتوں کو صریح ’’زبان درازی ، ہذیان گوئی، دریدہ دہنی، الزام تراشی، بہتان اور تہمت‘‘ قرار دیا ہے۔ میں حاکم علی زرداری کی ان عظیم ہستیوں کے بارے میں انتہائی غلیظ باتوں کو دہرانے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ مجھے حیرت ہے کہ یہ باتیں عام ہوجانے پرایک متنازعہ وصیت کی آڑ میں ملک کا صدر بن جانے والے حاکم علی زرداری کے فرزند آصف علی زرداری نے اپنے والد کی ان مذکورہ باتوں پرخاموشی کیوں اختیار کرر کھی ہے؟
٭’’ چھوٹی سی دلچسپ باتیں:گلاب جامن کو قومی مٹھائی قراردیئے جانے پر مختلف شہروں کی مٹھائیوں کے بارے میں احتجاج بڑھتاجارہاہے۔ ڈیرہ غازی خاں سے ایک قاری منشا آفریدی نے فون کیا ہے کہ کبھی ڈیرہ سے 20 کلو میٹر دور قصبہ ’داجل‘ کے’ کھیر پیڑے ‘کھاکردیکھیں، ان کے سامنے گلاب جامن کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ ادھر بنوں سے ایک عزیز ایم اقبال نے شکائت کی ہے کہ میں نے بنوں کا حلوہ کھائے بغیر ڈیرہ اسماعیل خان کے حلوے کی تعریف کر دی ہے۔ ایم اقبال نے مجھے بنوں کاحلوہ بھیجنے کی پیش کش کردی ۔میں نے محبت کے ساتھ اسے منع کردیا ہے۔ بہاول پور سے وہاں سے رس ملائی کھانے کی دعوت ملی ہے۔ یہ ساری جگہیں جانے کے لیے کم ازکم 24,22گھنٹے کا دوطرفہ سفر، پانچ چھ ہزار روپے کا کرایہ یا اتناہی پٹرول درکار ہے! کوئی چیز کھائے بغیر کیسے کوئی فیصلہ کیا جاسکتا ہے؟ سوچ رہاہوںکیاکیا جائے؟
٭ایک اور دلچسپ خبر: بھارت کے شہر ناگپور کے ایک نوجوان نے تھانہ میں ایک تحریری شکائت جمع کرائی ہے کہ ایک خوبصورت لڑکی نے اس کادل چرالیا ہے، اس سے دل برآمد کرکے اسے دلایاجائے! پولیس والوں نے جواب دیا ہے کہ بھارت کے کسی قانون میں ایسی چوری کے بارے میں کوئی ذکر نہیں ملتا،اس لیے وہ کچھ نہیں کرسکتے! دل کی چوری تو صدیوں سے ہورہی ہے، شاعروں نے بہت کچھ لکھا ہے۔ بہت سے گانے بھی آچکے ہیں مثلاً ’’چوری ہوگیا دل متوالا، ساجن ڈھونڈ کے لادونا!‘‘ یا یہ کہ’’ اس دنیا میں سب چور، چور، کوئی گورا چور، کوئی کالا چور، کوئی لاٹ صاحب کاسالاچور اور کوئی ہے دل کا چور ‘‘۔ یہ وارداتیں دنیا بھر کے ہر ملک کے ہر محلے ، ہر گلی میں ہمیشہ سے ہورہی ہیں مگر کہیںبھی ان کی روک تھام کا کوئی قانون موجود نہیں! حیرت ہے!




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved