تازہ ترین  
بدھ‬‮   14   ‬‮نومبر‬‮   2018

امیر شہر کی شاہی پہ’’ حیرت‘‘…


دعوے، وعدے، حسرتیں، خواہشیں، ضرورتیں، دُعائیں، التجائیں بن کر سسک رہی ہیں۔ 70 برسوں کے ترسیدہ عوام نے تبدیلی کے نام پر عمران خان کو ووٹ دے کر مسندِ اقتدار تک اِس لئے پہنچایا تھا کہ کشکول ٹوٹ جائے گا اور قوم زیست کی رعنائیوں سے لُطف اندوز ہو سکے گی۔ افلاس کے مارے، بھوکے پیاسے، لاچار، بے بس اور بے قرار لوگوں کو قرار آئے گا۔ وطن میں انصاف راج کرے گا۔ پیاسے ہونٹوں کو ساگر سیراب کریں گے۔ امن و آشتی کی فصلیں لہلہائیں گی۔ مگر یہ سارے خواب ادھورے ہی رہے۔ سوئی ہوئی قوم کی آنکھ کھلی تو وہ اپنی ہی تعبیر سے بچھڑ گئی۔ پاکستان تحریک انصاف برسرِ اقتدار آئی اور آتے ہی خالی خزانے کے دہانے پر بیٹھ کر آہ و بُکا کرنے لگی۔ قوم سے کئے گئے وعدے مٹی کے ڈھیر اور ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ سوئی گیس کی قیمتیں بڑھیں۔ بجلی کو بھی جھٹکا لگا۔ اب پانی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھنے کو ہیں۔ ہمیں تو عمران خان کی حکومت میں بھی یہی لگ رہا ہے کہ ہم نوازشریف کے دورِ اقتدار میں ہی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
ہمیں تو پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں بھی یہی محسوس ہو رہا ہے کہ ہم آصف علی زرداری کی ہی رعایا ہیں۔ اگر کوئی پوچھنے والا پوچھے کہ آخر آپ کو ایسا کیوں لگ رہا ہے؟ تو اِس کا تو سیدھا اور سادہ سا جواب ہے کہ ہم نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے دور میں بھی ایسی ہی بے بسی کی زندگی بسر کر رہے تھے جیسی زندگی پی ٹی آئی کے دورِ اقتدار میں بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ وہ دونوں حکومتیں بھی یہی رونا روتی تھیں کہ ہم سے پہلی حکومتو ںنے خزانہ خالی چھوڑا ہے اور ہم اِس خزانے کو بھرنے کے لئے قرض لینے پراور مہنگائی کا طوفان لانے پر مجبور ہیں۔ ہم گزشتہ پانچ برس مسلسل عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر راہنمائوں کے لبوں سے ادا ہونے والے انہی جُملوں، فقروں اور دعوئوں کو سنتے رہے کہ نون لیگ کو حکومت کرنی نہیں آتی، یہ کرپٹ لوگوں کا ٹولہ ہے جو وطن کو لوٹ رہا ہے۔ اور اِن کی اِس کرپشن اور لوٹ مار کی وجہ سے ملک قعرِ مذلت میں گرتا چلا جا رہا ہے۔ عمران خان کہا کرتے تھے کہ اِسی وجہ سے ملک میں مہنگائی بھی ہے اور وطن کا بچہ بچہ مقروض بھی ہے۔ عمران خان نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے کالے کرتوت بتا بتا کر ایک زخم خوردہ قوم کے زخموں پر نمک چھڑکا کرتے تھے اور قوم اِس نمک پاشی کی وجہ سے دُکھ میں مبتلا ہو جاتی تھی اور اِس دُکھ اور درد کی وجہ سے قوم نے 2018ء کے انتخابات میں عمران خان کی پارٹی کو ووٹ دیا۔ یقین جانئے میں تو اِس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ عوام نے قطعاً اور قطعاً عمران خان کی محبت میں پی ٹی آئی کو ووٹ نہیں دیا بلکہ صرف اور صرف نون لیگ اور آصف علی زرداری کی نفرت کی وجہ سے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا اور اب یہ عالم ہے کہ قوم کے درد میں اضافہ ہو چکا ہے۔ کوئی شہر پاکستان بھر میں ایسا نہیں جہاں کا امن برباد نہ ہو۔ کوئی شہری محفوظ نہیں۔ چوری، ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں روز بہ روز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ خاص طور پر بڑے شہروں میں تو ڈاکو راج چل رہا ہے۔ نہ جانے پاکستان میں کون سی تبدیلی آئی ہے کہ کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا۔ اور کچھ بھی تبدیل ہوتا ہوا دِکھائی نہیں دے رہا۔ ہر طرف جنگل کا قانون چل رہا ہے۔ ہر گلی میں نوازشریف لوٹ رہا ہے۔ اور ہر چوراہے پر ایک آصف علی زرداری دِکھائی دیتا ہے۔ ہر سرکاری عہدے پر کہیں احد چیمہ نظر آتا ہے تو کہیں فواد حسن فواد براجمان ہے اور اِن سب کے سربراہ کا نام عمران خان ہے۔ تبدیلی کے علمبردار عمران خان پرزیست کفِ افسوس مل رہی ہے۔ اُمیدیں دم توڑ رہی ہیں، حسرتیں نوحہ کناں ہیں۔ جذبے ماتم کر رہے ہیں۔ قاتل مقتولوں پر قہقہے لگا رہے ہیں۔ اور مقتول اپنی اپنی لاش اپنے اپنے کندھوں پر اُٹھائے سوئے لحد گامزن ہیں۔ اور وقت کا گھڑیال یہ الارم بجا رہا ہے کہ خوشیاں موت کے سپرد ہونے والی ہیں۔ بہاریں خزائوں کا ماتھا چومنے کے لئے سُبک رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔
تبدیلی کا سونامی اب مہنگائی کے طوفان میں بدل رہا ہے۔ اب بجلی، پانی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات ہی مہنگی نہیں ہو رہی ہیں بلکہ آٹا، دالیں، گھی، چینی اور روٹی کے نوالے تک مہنگے ہونے جا رہے ہیں۔ عمران خان جیت چُکے ہیں۔ اور اقتدار کی مسند پر براجمان ہیں، شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری، اسد عمر، عارف علوی، عثمان بزدار، علیم خان،فیاض الحسن چوہان، چوہدری پرویز الٰہی سمیت سینکڑوں سیاستدان تبدیلی کا سُہانا سپنا دِکھا کر اقتدار کے مزے لُوٹ رہے ہیں۔ کابینہ آئے روز اجلاس کر رہی ہے۔ ٹاسک فورسز بن رہی ہیں۔ مگر ٹاسک کوئی بھی نہیںہے۔ یہ حکومت مہنگائی کا خاتمہ کرنے کے وعدے پر معرضِ وجود میں آئی تھی۔ اب ارزانی کا خون بہا ادا کیا جا رہا ہے۔ کیا طُرفہ تماشا ہے؟ وہی ہسپتال، وہی جیلیں، وہی سرکاری دفاتر، وہی تھانے، وہی کچہریاں، وہ سرکاری افسر اور وہی سرکاری خزانہ ہے جو پہلے بھی خالی تھا جو آج بھی خالی ہے۔ وہی چوراور وہی سپاہی کاکھیل جاری ہے۔ پٹواری بھی وہی ہے اور پٹوار خانہ بھی وہی۔ کمشنر بھی وہی ہے اور ڈپٹی کمشنر بھی وہی۔ ایک تبدیل ہوا ہے تو پاکپتن شہر کا ڈی پی او تبدیل ہوا ہے۔ کیونکہ اُس ڈی پی او کے ضلع میں محترمہ بشریٰ بی بی کی بیٹی کی توہین کی گئی تھی۔ عمران خان کے چہیتے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو تو کبھی اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ لاہور شہر میں ہونے والی روزانہ کی بنیاد پر ڈکیتیوں اور چوریوں کی وارداتوں کا ہی حساب پوچھ لیں اور کھوج لگائیں کہ لاہور پولیس آخر کس نشے میں مخموررہتی ہے کہ چوری، ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں پر قابو پانے میں ناکام دِکھائی دیتی ہے۔ عمران خان اور اُن کے وزراء کو کون سمجھائے کہ بھائی جب تم کابینہ کے اجلاس میں بیٹھ کر بجلی، گیس، پٹرول، پانی اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھانے کی سمری پر دستخط کرتے ہو تو تمہارے ہاتھ کیوں نہیں کانپتے؟ اِن وزراء اور اُمراء کو کیا پتہ کہ مہنگائی کیا چیز ہوئی ہے اور افلاس کس بلا کا نام ہے؟ اگر اِن کروڑ پتی وزیروں، امیروں اور مشیروں کی جیب میں بجلی اور گیس کا بل ادا کرنے کے پیسے نہ ہوتے تو پھر دیکھتا کہ یہ کس طرح اِن بلوں پر دستخط کرتے جن بلوں پر دستخط کے نتیجہ میں گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ اسد عمر تو ایک لاکھ روپے کی ایک روٹی کی قیمت بھی ادا کر سکتے ہی۔ اُنہیں کیا پتہ کہ غربت کس کو کہتے ہیں؟
اُن کے تو کُتّے بھی غریب کے بچوں سے مہنگا کھانا کھاتے ہیں۔ جناب عمران خان صاحب! تب تک تبدیلی نہیں آ سکتی جب تک غریبوں کے بچے اسمبلیوں تک نہیں پہنچ جاتے۔ جب تک ایک محنت کش کا بچہ وزیر نہیں بنے گا تب تک تبدیلی نہیں آئے گا۔ کیونکہ جب محنت کش کا بچہ گیس اور بجلی کی مہنگی سمری پر دستخط کر کے گھر لوٹے گا تو اُس کی غریب ماں اُس کا گریبان پکڑ کر اُس کے منہ پر دو طمانچے رسید کرے گی کہ جس سمری پر دستخط کر کے آئے ہو اُس کے نتیجے میں جب اگلے ماہ زیادہ بل آئے گا تو تمہارا محنت کش باپ اُس بِل کو کس طرح ادا کرے گا؟ اورجب محنت کش کا بیٹا اپنی غریب اور مفلس ماں کو یہ جواب دے گا کہ یہ رئیس سلطنت کا فیصلہ تو وہ ماں یہ کہنے پر مجبور ہو جائے گی کہ۔
امیر شہر کی شاہی پہ حیرت
بھرے دربار کی ایسی کی تیسی




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved