تازہ ترین  
جمعرات‬‮   15   ‬‮نومبر‬‮   2018

ڈیموں کے خلاف احتجاج کیوں؟


ساری دنیااس حقیقت سے واقف ہے کہ آئندہ سالوں میں پانی کی شدید کمی محسوس کی جائے گی، جس میں پینے کاپانی اور زرعی استعمال کا پانی دونوں شامل ہیں، پاکستان بھی پانی کی قلت سے دوچار ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آئندہ چند سالوں میں اگر پانی کو محفوظ کرنے اور بچانے کے سلسلے میں کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے تو سارا پاکستان صحرا میں تبدیل ہوسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب پاکستان کے ارباب حل عقد ڈیم بنانے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں، اس سلسلے میں چیف جسٹس آف پاکستان عزت ماب ثاقب نثار نے بھاشا ڈیم بنانے کے لئے دس لاکھ روپے کاعطیہ دے کر اس کی تعمیر کیلئے پیش رفت کی ہے، وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان بھی ڈیموں کی تعمیر کیلئے چیف جسٹس کی تحریک سے اتفاق کرتے ہوئے اس میں شامل ہوگئے ہیں، اور عوام سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ وہ دل کھول کر مجوزہ ڈیموں کی تعمیر کیلئے عطیات دیں اور پاکستان کو مضبوط بنایں، پاکستان کے عوام چاہئے کہ وہ بیرونی ممالک میں قیام پذیر ہوں یا پھر پاکستان کے اندر وہ ان ڈیموں کی تعمیر کے لئے اپنی مالی وسماجی حیثیت کے مطابق عطیات دینے چاہیں، اس تحریک میں غریب کسان اور مزدور بھی شامل ہیں، جن کی روزی روٹی زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے، افواج پاکستان نے بھی ڈیموں کی تعمیر کے سلسلے میں عطیات دینے میں کسی سے پیچھے نہیں رہے ہیں، چیف آف آرمی اسٹاف نے اس سلسلے میں ایک ارب سے زائد عطیہ دیاہے، ان عطیات میں ایک عام سپاہی کا پیسہ بھی شامل ہے۔
افسوس کا مقام ہے کہ سندھ میں بعض ایسے عناصر بدرجہ اتم موجود ہیں جو ان مجوزہ ڈیموں کی تعمیر کے خلاف آہستہ آہستہ جاہل اور نا خواندہ افراد کو اپنے ساتھ ملا کر اسکی مخالفت کررہے ہیں، یہ وہی عناصر ہیں جنہوںنے کالا باغ ڈیم کی نفرت انگیز مخالفت کرکے اسکی تعمیر کو رکوا دیاہے، حلانکہ عالمی بینک نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں مالی مدد کا بھی وعدہ کیا تھا، اور کہا تھا کہ اس ڈیم کی تعمیر سے پاکستان کو زبردست فائدہ پہنچے گا، لیکن سندھ کے بعض سیاست دانوں نے بھارت کی مبینہ مالی مدد کے ذریعہ کالا باغ ڈیم کے خلاف ’’مہم‘‘ چلائی جسکے نتیجہ میں اس ڈیم کی تعمیر کھٹائی میںپڑگئی ، بلکہ سیاست کی نذر ہوگئی ہے، اب یہی عناصر بھاشا اور مہمند ڈیموں کی تعمیر کے سلسلے میں جاہل عناصر کو اپنے ساتھ ملا کر اسکے خلاف مہم چلارہے ہیں، حلانکہ اسوقت پانی کی کمی اور قلت کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان سندھ کے زرعی شعبے کو ہورہاہے، اسوقت بھی سندھ کے Coastal Beltمیں پانی کی اتنی کمی ہے کہ اس علاقے میں گذشتہ دوسالوں سے کوئی معقول فصل نہیں پیدا ہوسکی ہے، ڈیموں کے خلاف مظاہرہ کرکے یہ خود اپنے عوام کے لئے بے پناہ مالی مسائل اور مشکلات پیدا کررہے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ سندھ کے یہ ’’بھارتی دوست‘‘مقبوضہ کشمیر میں تعمیر ہونے والے ڈیموں پر کسی قسم کا احتجاج یا ناراضگی کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں، حالانکہ مقبوضہ کشمیر میں تعمیر ہونے والے ڈیموں بگلیہار اور کشن گنگا ڈیموں کے بننے سے پنجاب کا زرعی شعبہ شدید متاثر ہورہاہے، اس سلسلے میں پاکستان کی موجودہ حکومت نے شدید احتجاج کیا ہے بلکہ عالمی بینک سے استدعا کی ہے کہ وہ اس معاملے کو حل کرانے میں پاکستان کی مدد کرے ، کیونکہ عالمی بینک نے1963میں بھارت اورپاکستان کے درمیان سندھ طاس کا معاہدہ کرایا تھا، اس تاریخی معاہدے پر مرحوم صدر ایوب خان اور بھارت کے آہنجانی وزیراعظم پنڈت نہرو نے دستخط کئے تھے، اس معاہدے کے ذریعہ تین مشرقی دریا بھارت کو ملے تھے، جبکہ تین مغربی دریا پاکستان کے حصے میں آئے تھے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی ڈیم بنا کر پاکستان کے مغربی دریائوں کا پانی روک رہاہے، اس مسئلہ کو حل کرنے کے سلسلے میں آجکل بھارت اور پاکستان کے آبی ماہرین کے درمیان بات چیت چل رہی ہے، پس پردہ عالمی بینک بھی ان مزاکرات میں مدد کررہاہے، تاکہ کوئی معقول حل نکل آئے۔
میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ سندھ کے بعض سیاست دان جو بھارت نواز ی کیلئے خاصے مشہور ہیں وہ اب ایک بار پھر فعال ہوکر مجوزہ ڈیموں کی تعمیر کے سلسلے میں احتجاج کررہے ہیں،حلانکہ احتجاج کرنے والوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ ڈیم کہاں بن رہے ہیں؟ اور ان ڈیموں سے پاکستان کے عوام خصوصیت کے ساتھ زرعی شعبے کو کتنا فائدہ پہنچے گا، عوام کی اکثریت ڈیموں کی تعمیر کے سلسلے میں مخالفت نہیں کررہی ہے، بلکہ خصوصیت کے ساتھ سندھ کے ہاریوں اور چھوٹے کاشت کاروں کو اس ضمن میں کبھی کوئی شکایت یا اعتراض نہیں ہے، صرف چند سیاست دان اپنی سیاست کی بجھتی ہوئی شمع کو چمکانے کے سلسلے میں پہلے کالا باغ ڈیم اور اب بھاشا ڈیم کی تعمیر کے خلاف چند ناداں اور جاہل عناصر کے اپنے ساتھ ملکر یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ سندھ کے عوام ان ڈیموں کی تعمیر کے خلاف ہیں، حلانکہ ان چند بھارت نواز ناداں سیاست دانوں کو یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ یہ ان ڈیموں کی تعمیر پاکستان کی بقا کے لئے بہت ضروری ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے عوام کی اکثریت بڑے والہانہ انداز میں ان ڈیموں کی تعمیر کے سلسلے میں عطیات دے رہے ہیں، انہیں اس بات کا احساس اور ادراک ہے کہ اگر پاکستان کو ضرورت کے مطابق پانی دستیاب نہیں ہوا تو ملک کی بقا اور سا لمیت خطرے میں پڑجائے گی بھارت یہی چاہتاہے کہ سندھ کے چند ناداںسیاست دانوں کو اپنے ساتھ ملاکر ان ڈیموں کی تعمیر کو روکوانے کی کوشش کرنی چاہئے جیسا کہ ماضی میں ان عناصر نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں کیا تھا ، جس کا سب سے زیادہ نقصان خود سندھ کے زرعی شعبے کو ہواہے، جس کا ذکر میں نے بالائی سطور میں کیاہے، پاکستان میں آبی ذخائر کو بچانے اور ان میں اضافہ کرنے کے سلسلے میں آبی ماہرین کا ایک سمینار اسلام آباد میں منعقد ہورہا ہے، جس میں تمام تر سیاق وسباق کی روشنی میں پاکستان میں آبی ذخائر کا جائزہ لے کر اسبات کا تعین کیا جائے گا کہ پاکستان کو مزید کتنے چھوٹے بڑے ڈیموں کی ضرورت ہے، امریکہ اور چین بھی اب تک ہزاروں ڈیم بنا چکے ہیں، جن کی مدد سے زراعت کے شعبے کو غیر معمولی فائدہ ہواہے، بلکہ یہ دونوں ممالک زرعی پیداوار میں نہ صرف خود کفیل ہوگئے ہیں بلکہ تیسری دنیا کے ملکوں کو بھی امداد کے طور پر زرعی اجناس بھیج رہے ہیں، پاکستان بھی ایک زرعی ملک ہے ، اسکی اکانومی کا تعلق بھی زرعی شعبے سے وابستہ اور پیوستہ ہے اگر ہم نے اس سلسلے میں ذرا دبرابر کوتاہی کی اور ڈیموں کی تعمیر میں تاخیر کی تو آئندہ نسلیں پانی کی قلت کے سلسلے میں ہمیں کبھی معاف نہیں کرینگی، جہاں تک سندھ کے چند ناداں سیاست دانوں کی مخالفت کا تعلق ہے تو ان کی اس حرکت سے کوئی فرق نہیں پڑیگا،کارواں چلتا رہے گا۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved