تازہ ترین  
منگل‬‮   13   ‬‮نومبر‬‮   2018

پاکستان بدلے گا!


میرے ذہن میں چند سوالات ہمیشہ کلبلاتے رہتے ہیں’ کیا پاکستان کا انتظام یونہی چلتا رہے گا؟ معاشی طور پر محتاج’ سماجی لحاظ سے تقسیم شدہ’ معاشرتی اعتبار سے بے ہنگم اور ذات پات میں بٹی ہوئی’ قانونی وآئینی موشگافیوں میں الجھی ہوئی’ غربت کی ماری اور کرپشن اور لوٹ مار کلچر میں گھٹنے گھٹنے دھنسی ہوئی پاکستانی سوسائٹی کا آخر کیا بنے گا؟ کب ہمارے حالات بدلیں گے؟ کیا ہمارا شمار کبھی دنیا کی باوقار اور خوشحال اقوام میں ہو گا؟ کیا ہماری قسمت میں سدا رونا دھونا ہے یا ہم ترقی کریں گے اور اوپر اٹھیں گے؟ جمہوریت کی راہ پر چلتے ہوئے ہمیں منزل تک پہنچنا نصیب ہوگا یا پھر کوئی ڈکٹیٹر بے رحم احتساب اور معاشرتی تطہیر کرتے ہوئے پاکستان کو آگے لے جائے گا؟جہاں تک پاکستانی سیاست مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان شٹل کاک بنی رہی مجھے پاکستان کا مستقبل تاریک ہی دکھائی دیا۔ اس کی بنیادی وجہ ان جماعتوں کی قیادت کا طرز حکمرانی اور پاکستان کے بارے میں غیر سنجیدہ رویہ ہے۔
میثاق جمہوریت پر دستخط کر کے پاکستانی عوام کو ایک نئے مستقبل کی نوید سنانے والی ان دو بڑی جماعتوں نے عملی طور پر چند آئینی درستگیوں کے سوا کچھ نہ کیا’ ان کے تیور اور اطوار ماضی جیسے رہے۔ مسائل کو عوام کی جھولی میں ڈال کر یہ شادمان حکومت کرنے میں مصروف رہے’ ان کا عوام کیساتھ تعلق آقا اور رعایا جیسا دکھائی دیتا۔ غربت کی لکیر سے نیچے زندگیاں گزارنے والے کیڑے مکوڑے کی مانند اور دوسری جانب شاہانہ لچھن’ جمہوریت سیاسی جماعتوں کی مرہون منت اور سیاسی جماعتیں ”مافیا” کے روپ میں جمہوریت کی روح کا گلا گھونٹنے میں مصروف عمل۔ یہ سب دیکھ کر میں نے رائے قائم کر لی کہ اس نام نہاد میثاق جمہوریت کے بطن سے کبھی بھی کچھ برآمد ہونے والا نہیں ہے حالانکہ میں ان لوگوں میں شامل ہوں جنہوں نے میثاق جمہوریت کو تھیوری کے اعتبار سے ایک تاریخی دستاویز قرار دیا۔
میثاق جمہوریت اس کی روح کے مطابق کیا جاتا تو پاکستان بدل جاتا لیکن مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنما خود کو تبدیل کرنے کیلئے تیار نہ ہوئے۔ ان کی خود غرضانہ سیاست نے عوام کو ان دونوں جماعتوں سے بیزار کیا اور وہ کسی تیسری سیاسی جماعت کی جانب دیکھنا شروع ہوئے۔ دریں حالات عمران خان کی مقبولیت بڑھنا شروع ہوئی’ وہ سٹیٹس کو مخالف بیانئے کیساتھ آگے بڑھے اور ملکی سیاست پر بتدریج چھا گئے۔ آج مرکز اور تین صوبوں میں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور لوگ عمران خان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ماضی سے مختلف طرز حکمرانی اپنائیں گے اور معاشرتی وسماجی ترقی کے حوالوں سے اپنے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کریں گے۔ عمران خان کو عوام نے اپنے مسائل کے حل کیلئے ”مسیحا” جان کر ووٹ دیئے اور اب عوام منتظر ہیں کہ جبر واستبداد پر مبنی مکروہ نظام کا خاتمہ کب ہوگا؟عمران خان اور ان کے ہم عصر سیاستدانوں کے مابین ایک بنیادی فرق ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت کی طرح ان کے اندرون وبیرون ملک کوئی ”اسٹیکس” نہیں ہیں۔ کوئی قدم اٹھاتے وقت وہ ان جماعتوں کے قائدین کی طرح یہ سوچنے والے نہیں کہ اس سے ان کے پاکستان میں کاروبار یا پاکستان سے باہر ان کے مفادات پر کیا اثر پڑیگا؟ یہ ایک انتہائی اہم فرق ہے جس کی اہمیت عمران خان کے اقدامات سے واضح ہونا شروع ہوگئی۔
عمران خان نے شاہانہ انداز کو ترک کر کے سادگی اور بچت کی ابتدا اپنی ذات سے کی ہے’ لہذا ہمیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے کہ نچلی سطح تک اس کا اثر جائیگا۔ عمران کے مزاج میں لوگوں کو غلام بنانا نہیں ہے چنانچہ ہم دیکھیں گے کہ عام پاکستانی باوقار ہوگا اور وہ ادارے جو عوام کو دبا کر رکھنے میں استعمال ہوتے تھے بتدریج ختم ہو جائیںگے ,عمران خان نے بار بار سبز پاسپورٹ کی عزت کی بات کی ہے چنانچہ عمران خان ایک لمحے کیلئے یہ کیسے فراموش کر سکتے ہیں کہ انہوں نے پاکستانی قوم کے معاشی اور معاشرتی معیار کو بلند کرنے کیلئے کام کرنا ہے۔ حکومت سنبھالنے کے بعد انہوں نے جس طرح دن رات ایک کیا ہوا ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی کو اس بدگمانی میں مبتلا نہیںہونا چاہئے کہ ہمیشہ کی طرح پاکستان میں کچھ نہیں ہونا ہے۔
جمہوریت کی راہ پر پاکستان کی تقدیر بدلنے کا یہ آخری موقع ہے اور اس کا عمران خان کو بذات خود احساس ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے کے بعد عمران خان نے قوم سے اپنے خطاب میں اپنا دل کھول کر پاکستانی عوام کے سامنے رکھ دیا۔ یہ ایک ایسا خطاب تھا جو عام آدمی خواہ اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے تھا کے دل میں اتر گیا۔ پاکستان کا یہ پہلا حکمران تھا جس نے روبوٹ کی طرح لکھی ہوئی تقریر نہ پڑھی بلکہ عوام سے وہ باتیں کیں جو آج سے پہلے کسی حکمران سے نہ کی تھیں۔ آج سے پہلے کسی حکمران نے قوم سے ”رحمدلی” کی بات کبھی نہیں کی۔ یہ عمران خان ہے جس نے قوم کو ترغیب دی کہ انسانوں کیساتھ ساتھ جانوروں سے بھی رحمدلی کا مظاہرہ کریں۔
عمران جن خطوط پر پاکستانی معاشرے کو استوار کرنا چاہتا ہے ان سے ایک ماڈل معاشرے کی تعمیر ہوگی۔ عمران خان کے مخالفین چند روزہ حکومت پر بے جا تنقید کرنے میں مصروف ہیں حالانکہ ابھی تو پوری طرح حکومت سازی کا عمل ہی مکمل نہیںہوا۔ میں مطمئن ہوں کہ بتدریج تمام شعبوں کی اصلاح کیلئے کام شروع ہو جائے گا۔ ناکامی کا شور مچانے والے دراصل لوگوں کو بددل کر کے پاکستان کو اسی دلدل میں دھکیلنا چاہتے ہیں جس سے ہم بمشکل نکلنے میںکامیاب ہوئے ہیں۔ میرا یقین ہے کہ پاکستان بدلے گا اور اس تبدیلی کا سہرا عمران خان کے سر ہوگا کیونکہ وہ اس تبدیلی کیلئے پرعزم ہے۔ پاکستان اس کیلئے پارٹ ٹائم سبجیکٹ نہیں ہے بلکہ کل وقتی جاب ہے اسلئے ہم عمران خان کو اٹھارہ بیس گھنٹے کام کرتا ہوا دیکھ رہے ہیں،آج کے حکمران کی ترجیح صرف پاکستان اور بس پاکستان ہے۔ پاکستان کو اگر کوئی شخص تبدیل کر سکتا ہے تو اس کا نام عمران خان ہے’ عمران خان کی ناکامی خدانخواستہ پاکستان کی ناکامی ہوگی۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved