تازہ ترین  
بدھ‬‮   14   ‬‮نومبر‬‮   2018

سنگین مجرم کو پھانسی…… عبرت!


٭بدترین مجرم‘ وحشی درندہ بالآخر پھانسی چڑ ھ گیا !O.. پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بدترین ہنگامہ، ن لیگ کے ارکان نے فرنیچر، مائیک اور ریکارڈنگ کرنے والی مشینیں توڑ دیں۔ ایک دوسرے سے ہاتھا پائی، گریباں پکڑ لیے !O..آئی ایم ایف سے 16 ارب ڈالر قرضہ مانگا جائے گا !O..پنجاب کے بجٹ میں اعلیٰ پر تعیش قیمتی گاڑیوں پرایک لاکھ روپے تک ٹیکس ختم، موٹرسائیکلوں، لوڈر گاڑیوں پر پانچ ہزار روپے تک اضافہ !O..بیرون ملک سے 6233 ووٹوں پر ساڑھے نوکروڑ روپے کے اخراجات، فی ووٹ 15 ہزار روپے میں !O..غریب محنت کش کے نام اکاؤنٹ، ساڑھے چار ارب روپے جمع !O..آصف علی زرداری کا مفت پانی بند کردیاگیا !O..بجلی کی مہنگائی ایک ہفتے کے لیے ملتوی !O..شہبازشریف کی قومی اسمبلی میں حاضری !O..
٭میں چاردن ہسپتال میں رہاہوں۔ تفصیل بتانے سے دل گھبراتا ہے صرف یہ کہ شدید ڈائریا ، بے ہوشی، ہسپتال، بہت سی ڈرپ بوتلیں،اینٹی بایوٹک،بہت سے ٹیکے، ڈاکٹر دن رات مسلسل کوشش سے واپس لے آئے۔ ان کا بے حد شکریہ ،ان بہت سے محبت فرما محترم قارئین کا بھی شکریہ جن کے دودن کالم نہ چھپنے پر فون آرہے ہیں ، آپ سب سلامت رہیں!
٭قصور شہر کے ایک وحشی درندے کو پھانسی دے دی گئی، خَس کم جہاں پاک۔اس کے انتہائی گھناؤنے بدترین جرائم کا ذکرکرتے ہوئے قلم لرز جاتا ہے، کچھ کہنے کی ہمت نہیں پڑتی۔اسے21 ہولناک جرائم میں 21 بار پھانسی کاحکم ہوا تھا۔ یہ سزا بھی کم دکھائی دیتی ہے،بہر حال یہ گھناؤنا باب بند ہوا۔ ایک بات یہ کہ بعض حلقوں نے سرعام پھانسی کامطالبہ کیا۔ صرف ایک دن میں ایسا انتظام ممکن نہیں تھاویسے بھی کہنا آسان ہے، ایسا منظر دیکھنابہت مشکل ہوتاہے، کسی بھی شخص کو اپنے سامنے موت بہت پریشان کرتی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور کے پپوکیس میں ایسے ہی تین بدخصلت افراد کو جیل کے باہر سرعام پھانسی دی گئی ، تو یہ منظر دیکھنے والے بہت سے لوگ نفسیاتی پیچیدگیوں کے شکارہوگئے تھے!
٭پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف کی گرفتاری پراپوزیشن کے بلائے جانے والے قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں سپیکر کے حکم پر میاں شہبازشریف کو اسمبلی میں پیش کردیاگیا۔ ظاہرہے انہوں نے بھرپور گرم تقریر ہی کرنا تھا۔ تقریر کی تفصیل اخبارات میں موجود ہے، ان کی ایک بات خاص طورپر قابل توجہ ہے کہ سیاست دانوں کو ہتھکڑیاں لگا نا تو عام اور قابل برداشت بات ہے مگر یونیورسٹیوںکے وائس چانسلروں اور اساتذہ کو ہتھکڑی لگانے کا اقدام برداشت نہیں کیاجا سکتا، اساتذہ قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ یہ بات پھر سامنے آئی کہ نیب نے میاں شہبازشریف کو ایسے تنگ و تاریک کمرے میں بند رکھا ہواہے جس میں ہوااور روشنی کا کوئی انتظام نہیں۔ پتہ نہیں نیب کا کیا مسئلہ ہے، انگریزوں کے دور پر عمل پیرا ہے جو باغی رعایا کو تنگ و تاریک کمروں میں بند رکھتے تھے۔ نیب کسی ملزم کوروشنی اور ہوا سے محروم کمروں میں بند کرکے کن اذیت انگیز جذبوں کو تسکین دیتی ہے!ایسے کسی کمرے میں روشنی اورہوا کے آنے سے کیا قیامت آجائے گی۔ بات محض شہباز شریف کی نہیں،دوسرے ملزموں کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جاتا ہے۔ میاں شہبازشریف پر جو مرضی مقدمہ چلائیں ، عدالت سے سزا دلائیں مگر خود عدالت لگا کر ایسی سزائیں نہ دیں، کل کو کسی کے ساتھ بھی یہی اقدام پیش آسکتا ہے۔ دلچسپ بات کہ میاں شہبازشریف نے کہا کہ میں اپنے اوپر الزامات کی صفائی دینے نہیں آیااور پھر سارے الزامات کی بھرپور صفائی دی!
٭دنیا بھر کی اسمبلیوں میں ہنگامےہوتے رہتے ہیں مگر ہمارے ہاں ان کی نوعیت کچھ اور ہی قسم کی ہے۔ یہاں ہر سیاسی پارٹی نے اپنا فرض سمجھ لیا ہے کہ اپوزیشن میں ہوگی تو ہنگامہ آرائی سے اسمبلی نہیںچلنے دے گی اور اگرحکومت میں آئے گی تو اپوزیشن کو نہیں چلنے دے گی۔ اپوزیشن میں آتے ہی ہر سیاسی پارٹی ماردھاڑ، توڑ پھوڑ، ہاتھا پائی، گالم گلوچ کو اپنا آئینی فریضہ سمجھ لیتی ہے، گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں یہی کچھ ہوا۔ بجٹ پیش کرنے کے لیے اجلاس بلایاگیا تھا۔ قانون کہتا ہے کہ بجٹ تقریر کے دوران کسی قسم کا پوائنٹ آف آرڈر پیش نہیںکیا جاسکتا، مگر اس قانون کی کوئی پروا نہیں کی جاتی۔ ن لیگ کی حکومت تھی تو یہ فریضہ تحریک انصاف انجام دیتی تھی، اب تحریک انصاف کو اقتدار ملا ہے تو یہ کام ن لیگ نے سنبھال لیا ہے۔ وزیرخزانہ نے ابھی تقریرکے ابتدائی الفاظ ہی کہے تھےکہ اپوزیشن نے پوائنٹ آف آرڈر پیش کردیا۔ سپیکر نے قانون کا سہارالے کر اسے مسترد کردیا۔ اس پر ایسا ہنگامہ شروع ہوگیا کہ خدا کی پناہ! اپوزیشن اورحکومتی ارکان، ہاتھا پائی، گتھم گتھا، گالی گلوچ، ایک دوسرے کےگریباں پکڑلیے پھر توڑ پھوڑ شروع، مائیک ، فرنیچر اورریکارڈنگ مشینیں توڑ دی گئیں، دستاویزات پھاڑ دی گئیں، دھکم پیل میں کچھ ارکان فرش پر گر گئے، ایک زخمی ہوگیا!ملک کے سب سے بڑے صوبے کی اسمبلی کسی جنگی محاذ کی شکل اختیار کر گئی!! وہ لوگ جنہیں اسمبلی میں آنے کے لیے کسی تعلیم، تجربے، تہذیب کی ضرورت نہیں ہوتی!
٭اعلان ہوا کہ آئی ایم ایف کے پاس جاکر خودکشی نہیں کریں گے، دوست ممالک نے 10 ارب ڈالرکی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔ دوسرا اعلان آیا کہ ایشیا بنک سے رابطہ ہواہے وہ ہماری ضرورت پوری کرے گا۔ تیسرا اعلان ، آئی ایم ایف سے 16 ارب ڈالرمانگنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔ 16 ارب ڈالر، پورے قومی بجٹ کا تیسرا حصہ !16 ارب ڈالر سے قرضوں کی بہت سی ادائیگی ہو جائے گی مگر پھر یہ 16 ارب ڈالر(22 کھرب روپے) کیسے واپس ہوں گے؟اس بارے میں کچھ نہیں بتایاگیا۔ یہی اعتراض سابق حکومتوں پر تھا کر قرضے لیتی رہیں، واپسی کا کچھ نہ سوچا اور سارا بوجھ موجودہ حکومت پر ڈال دیا اور یہی کچھ اب بھی ہورہاہے!
٭بجٹ میں غیر ملکی فرنیچر، روشنیوں، چاکلیٹوں اور آرائش و زیبائش کے سامان کی درآمدپر ٹیکس بڑھادیئے گئے ہیں۔ میں اس کی حمائت کرتاہوں بلکہ ان ساری چیزوں کی درآمد پر مکمل پابندی کامطالبہ کرتا ہوں۔ ہماری 80 فیصد آبادی پسماندہ دیہات کی غریب آبادی پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کو ایسی چیزوں کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ یہ صرف شہروں کے امیر طبقوں کے لیے ہوتی ہیں جواپنے ملک کی مصنوعات کی حقارت سے دیکھتے ہیں ۔ قوم تین چار سال کروڑوں کے درآمدی چاکلیٹ نہ کھائے گی، چند مخصوص طبقوں کی فیشن زدہ خواتین کروڑوں اربوں کا سرخی پاؤڈر، لپ سٹکیں، پرفیوم اور غازے استعمال نہیں کریں گی توکوئی قیامت آجائے گی۔ دیہات میں اب بھی غریب عورتیں دانت صاف کرنے کے لیے کیکر کی چھال استعمال کرتی ہیں، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم ایک طرف قرضوں کی بھیک مانگتے رہتے ہیں دوسری طرف یہی قرضے فضولیات درآمد کرنے پر اجاڑ دیتے ہیں۔ ہم اربوں کے تو سگریٹ پی کر دھواں ہوا میں اڑا دیتے ہیں! میں نے عمربھر سگریٹ نہیں پیا، پتہ نہیں مجھ میں کیاکمی رہ گئی ہو!
٭سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثارنے ہلکے پھلکے اندازمیں کہا ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو الیکشن میں ووٹ ڈالنے کا اہتمام سپریم کورٹ نے لیا مگر اس کاکریڈٹ وزارت اطلاعات لے رہی ہے!! الیکشن کمیشن کے مطابق بیرون ملک آباد 6233 پاکستانیوں نے آن لائن ووٹ ڈالے ہیں۔ اس سہولت پر 9 کروڑ50 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں۔ ہمارے یہ انتہائی محب وطن لوگ وطن عزیز کو ہر سال 20 ارب ڈالر تک کا زرمبادلہ فراہم کرتے ہیں، اس سے ہی پاکستان کی معیشت چلتی ہے۔ ان کی خاطر چند کروڑ روپے کے اخراجات کوئی بات نہیں جب کہ پاکستان کے عام الیکشن پر 25 ارب روپے خرچ ہوتے ہیں۔
٭ 82 سنگین مقدمات میں ملوث ملزم منشا بم نے کہا ہے کہ سارے الزامات غلط ہیں، میں بالکل بے قصور ہوں! یہی بات آج (بدھ) پھانسی پانے والے ناقابل بیان سنگین جرائم والے مجرم نے کہی کہ وہ بے گناہ ہے! استغفار!




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved