فاروق حیدر کا برطانیہ اور یورپ کا دورہ سیر سپاٹے سے کم نہیں،مسلم کانفرنس
  11  اکتوبر‬‮  2017     |     یورپ

برسٹل(پ ر) حکومت آگ سے کھیلنا چھوڑدے۔ ن لیگ میں مشیر غلط مشورہ دیکر افواج پاکستان اور عدلیہ کے ساتھ لڑائی لڑنا چاہتے ہیں۔ حکومت آنے والے دنوں میں افواج پاکستان اور عدلیہ کو نکیل ڈالنے کیلئے جو قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ اس سے اداروں میں اختلافات بڑھنے کا خطرہ ہے۔ حکومت اور فوج ایک پیج پر نہیں ہیں۔ سیاسی درجہ حرارت عروج پر ہے۔ حالات و واقعات بتارہے ہیں کہ آنے والے کچھ دنوں میں ہفتوں میں ٹیکنوکریٹ کی حکومت کی حکومت تین سال کیلئے بننے جارہی ہے۔ جسکی سرپرستی افواج پاکستان اور سپریم کورٹ کے جج صاحبان کریں گے۔ اور سخت قسم کا احتساب ہوتا ہوا نظر آرہاہے۔ حکومتی منشا بھی یہی ہے کہ سیاسی شہید ہونا اور ن لیگ میں پھوت بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مسلم کانفرنس کے مرکزی رہنماؤں چوہدری زیارت حسین اور ملک ساجد علی نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ راجہ فاروق حیدر کا برطانیہ اور یورپ کا دورہ سیر سپاٹے سے کم نہیںہے۔ متاثرین زلزلہ کی برسی کے موقع پر ان کا وہاں ہونا ضروری تھا جبکہ انہوںنے کشمیریوں کے دکھوں دردوں پر میاں صاحب کو ملنا ترجیح سمجھا۔ کیا پاکستان میں میاں صاحب کو مل نہیں سکتے تھے۔ جو خزانے کو چونا لگایا گیا۔ اپنے سیر سپاٹے کے لئے کیا وہ یہی پیسہ زلزلہ متاثرین کی آبادکاری کیلئے دے دیتے تو کتنا اچھا ہوتا۔ دونوں رہنماؤں نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر ریاستی لیڈر کب تک کشمیری قوم کے ساتھ مذاق کرتے رہیں گے۔ یہ غیر ریاستی پارٹی الیکشن کے ذریعے نہیں بلکہ سلیکشن کے ذریعے اسی لئے آگئی تھی کہ خزانے کو بے دردی سے لوٹیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ راجہ فاروق حیدر کشمیری قوم کا مجرم ہے جنہوں نے مودی یار کو خوش کرنے کیلئے ایکٹ 74 کی خلاف ورزی کی اور کشمیری قوم کی منزل جو کہ پاکستان ہے اپنا بیان دیکر نفی کی ہے۔ حکمران عوام کے مشکل کے وقت کے ساتھی نہیں تو اقتدار سے علیحدہ ہوجائیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved