نعیم شاکر نے مظلوم طبقات کیلئے جدوجہدکی مشن جاری رکھیں گے،تعزیتی ریفرنس سے مقررین کاخطاب
  12  اکتوبر‬‮  2017     |     یورپ

راچڈیل(پ ر) نعیم شاکر ایڈووکیٹ ایک مخلص انقلابی اور انسانیت کی عظمت کے علمبردار تھے وہ زندگی بھر ملک کے پسے ہوئے مظلوم و محکوم عوام کی سربلندی اور ان کے حقوق کے حصول کی جدوجہد کرتے رہے۔ اپنے 52سالہ سیاسی سفر میں وہ ہمیشہ بائیں بازو کی تحریکوں کے ہر اول دستہ میں رہے۔ انسانی حقوق بالخصوص کسانوں، مزدوروں، خواتین اور اقلیتوں کے سیاسی، سماجی اور قانونی تحفظ میں بلامعاوضہ معاونت کرتے رہے۔ سماجی تبدیلی اور استحصال سے پاک معاشرے کا خواب جو انہوں نے زمانہ طالب علمی میں دیکھا تھا، زندگی بھر اس پر کاربند رہے اور جہد مسلسل کرتے رہے۔ ان خیالات کا اظہار راچڈیل میں عوامی ورکرز پارٹی کے سینئر رہنما چوہدری نعیم شاکر کی یاد میں منعقد ہونے والے تعزیتی ریفرنس میں مقررین نے کیا۔ تقریب کا اہتمام عوامی ورکرز پارٹی نارتھ برطانیہ نے کیا جبکہ صدارت ممتاز ترقی پسند رہنما پروفیسر نذیر تبسم نے کی اور مہمان خصوصی عوامی ورکرز پارٹی پاکستان کے سینئر رہنما چوہدری طارق جاوید ایڈووکیٹ اور ڈاکٹر گلشن طارق تھے۔ تقریب سے اظہار خیال کرنے والوں میں احمد نظامی، خالد سعید قریشی، پرویز فتح، ذاکر حسین ایڈووکیٹ، افضل خان، محمد سعید غلام رسول شہزاد ایڈووکیٹ اور تقریب کے آرگنائزر محمد ضمیر بٹ شامل تھے۔ مقررین نے مرحوم کی پاکستان سے محبت اور مظلوم و پسے ہوئے عوام کے حقوق کی جدوجہد پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم اپنے زمانہ طالب علمی سے ہی ترقی پسند سیاست سے وابستہ ہوگئے تھے اور ساٹھ کی دھائی میں نیشنل عوامی پارٹی کے پلیٹ فارم سے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا بھر میں زرعی ریفارمز اور نیشلائزیشن کی جدوجہد زروں پر تھی۔بعد ازاں نیشنل عوامی پارٹی میں قوم پرستوں اور سوشلسٹوں میں اختلاف کی بدولت وہ نیشنل عوامی پارٹی بھاشانی کا حصہ بنے اور اپنے پیش رو ساتھیوں جن میں عابد حسن منٹو، سی آر اسلم، مرزا محمد ابراہیم، سردار شوکت علی، چوہدری فتح محمد، انیس ہاشمی اور کنیز فاطمہ شامل تھے کے ساتھ ملکر اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ مشرقی پاکستان کے سانحہ کے بعد مولانا بھاشانی کے پاکستان کو خیر باد کہہ دیا تو ان سب نے ملکر پاکستان سوشلسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی۔ پاکستان میں بکھرے ہوئے ترقی پسندوں کو اکٹھا کرنے اور انضمام کے مراحل سے گزرتے ہوئے 2012 میں عوامی ورکرز پارٹی کی بنیاد رکھی جس میں نعیم شاکر نے نظریاتی پختگی، سیاسی لائحہ عمل اور تنظیمی امور میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے پارٹی کے لئے مختلف دستاویزات کی تیاری اور اتفاق رائے پیدا کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ ان کی اہم ترین خوبیوں میں ہمہ وقت مطالعہ کرنے اپنے شعوری لیول کو بلند رکھا، ذاتی تنقید سے اجتناب اور دوسروں کو روکنا، انتھک محنت سے اپنے ذمہ لئے گئے کام پورے کرنا اور تمام ساتھیوں کو ساتھ لے کر چلنا شامل تھے۔ وہ ہر اجلاس اور کسانوں اور مزدوروں کے اجتماعات میں بھرپور تیاری کرکے جاتے اور ان کے نوٹس ہمیشہ دیگر ساتھیوں کی سیاسی تربیت میں معاونت کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ نعیم شاکر دو دہائیوں تک پارٹی کا اخبار مرتب کرنے کی خدمت سرانجام دیتے تھے جس کا بڑا حصہ وہ اخبار عوامی جمہوریت کے ایڈیٹر بھی رہے۔ عوامی جمہوریت کا آغاز 1969 میں سید مطلبی فرید آبادی اور سی آر اسلم نے کیا تھا جس کی اشاعت 48 برس سے مسلسل ہو رہی ہے اور اس میں نعیم شاکر کا کردار اہم رہا ہے۔ نعیم شاکر ملک کے کسی بھی حصے میں منعقد ہونے والی کسانوں یا مزدوروں کی کانفرنسز ہمیشہ اٹینڈ کرتے تھے۔ کانفرنسز میں اٹھنے والے سیاسی مسائل پر بحث کا آغاز اور تحریری رپورٹس کی تیاری میں کبھی کوتاہی نہ برتتے تھے۔ ذاتی طورپر وہ اتنے نفیس انسان تھے کہ جو ان سے ایک دفعہ ملتا وہ ان کی دوستی میں آجاتا۔ وہ لاہور اور گردونواح میں محنت کشوں اور طلبہ کے سٹڈی سرکل تواتر سے سے لیتے رہے جو نئے ترقی پسند سیاسی کارکنوں کی نظریاتی اور سیاسی پختگی، ان کے شعوری لیول کو بڑھاتے اور پارٹی کے ساتھ ان کی وابستگی میں وسعت کا سبب بنتا۔ نعیم شاکر کی جدوجہد گو کہ موجودہ فرسودہ سیاسی ڈھانچہ جو کہ جاگیرداری، سرداری اور سرمایہ داری کو توڑ کر وسائل کی منصفانہ تقسیم کی بنیاد پر تشکیل تو رہی لیکن وقتی طورپر موجود سیاسی ڈھانچہ اور جمہوری نظام میں بتدریج بہتری لانے پر یقین رکھتے تھے۔ وہ ملک کو آئین کی روح کے مطابق چلانے اور تمام اداروں کو آئین کی حدود میں رکھنے کی حمایت کرتے تھے۔ وہ سٹیٹ کے کردار کو ایک ماں جیسا بنانا چاہتے تھے جو بلالحاظ رنگ و نسل، مذہب، فرقہ اور طبقہ سب کے ساتھ برابری برتتے اور سب کے حقوق کا تحفظ کرتے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ہمیشہ منصفانہ قوانین اور ان کی ایسی تمام شقوں کا خاتمہ چاہتے تھے جو کمزور طبقات، خواتین اور مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتتے ہیں اور انکے بے جا استحصال کا سبب بنتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ ضیاء الحق کے سیاسی دور میں ہونے والی آئینی ترامیم جن سے خواتین اور اقلیتوں کے حقوق پر زد پہنچتی تھی ان کے خاتمہ کے لئے برسرپیکار رہے اور ان قوانین کے غلط استعمال کے شکار لوگوں کی مفت وکالت کرتے رہے۔ بعض مواقع پر تو انہوں نے اپنی جان خطرات میں ڈال کر ایسے مقدمات لڑے۔ انہوں نے کہا کہ نعیم شاکر کا مشن ہم سب کا مشن ہے اور ہم ان کے مشن کو جاری رکھنے کا عزم کرتے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved