روسی سوشلسٹ انقلاب نے قوموں کے حق خودارادیت کے جذبے کو مضبوط کیا،مقررین
  12  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     یورپ

نیوکاسل(پ ر) روسی سوشلسٹ انقلاب نے دنیا میں آزادی کی تحریکوں کو تقویت پہنچائی اور قوموں کے حق خودارادیت کے جذبے کو مضبوط کیا۔ سماج میں عورتوں کو برابر مقام دیا اور ان کی تعلیم و تربیت، سماجی حیثیت اور ملازمت میں برابری کے درجے کو تسلیم کیا۔ تعلیم اور صحت کو انسان کا بنیادی حق تسلیم کیا اور اسے ریاستی ذمہ داری بنایا۔ یہیں سے سرمایہ دار دنیا میں سوشل سیکورٹی کے نظام اور سوشل ڈیموکریسی کی تحریکیں ابھریں اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک اسے ماننے پر مجبور ہوئے ان خیالات کا اظہار برطانیہ کے ممتاز سوشلسٹ رہنما اور کمیونٹی ریویو کے ایڈیٹر مارٹن لیوی، عوامی ورکرز پارٹی پاکستان نارتھ برطانیہ کے جنرل سیکرٹری پروفیسر محسن ذوالفقار، پیپلز اسمبلی کی محترمہ مولی براون، اولٹن کیکن، این لووری، ٹریسا ایسٹون، انقلابی شاعر پال سومیسرز اور پال ایلن نے نیو کاسل کے وال سینڈ میموریل ہال میں منعقد ہونے والے سیمینارز سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار کا عنوان مزدور تحریکیں۔ خواتین کے حقوق اور قومی آزادی کی تحریکوں پر روسی سوشلسٹ انقلاب کے اثرات اور آج کی دنیا تھا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا میں سامراجی ممالک بے لگام ہوچکے ہیں۔ سوویت یونین کے انہدام سے طاقت کا توازن بگڑ گیا ہے اور سامراجی ممالک اپنی معاشی لوٹ کو بڑھانے اور ترقی پذیر ممالک کے وسائل کو لوٹنے کے لئے غریب ممالک پر جنگیں مسلط کر رہے ہیں ایک ملک میں جنگ ابھی کم نہیں ہوتی، وہ دوسرے ملک میں شروع کردیتے ہیں۔ لوٹ مار کا بازار گرم ہے جبکہ دنیا بھر میں ترقی پسند تحریکیں باہمی اختلافات کی وجہ سے محدود ہوچکی ہیں جنگ مخالف عوام اور تحریکوں کو رہنمائی فراہم کرنے اور دنیا میں ایک بھرپور اور منظم تحریک ابھارنے میں کامیاب نہیں ہو رہی ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ سامراجی ممالک اور ان کے حواریوں کی جانب سے مذہبی کارڈ کا کامیابی سے استعمال ہے جس نے ترقی پذیر ممالک میں عوامی قوتوں کو تقسیم کردیا ہے۔مقررین نے کہا کہ 1917 سے قبل روس ایک پسماندہ ملک تھا۔ جہاں کی زراعت پاکستان سے بھی پسماندہ تھی اور زارِ روس کی بادشاہی تھی جو عوام پر ظلم جبر اور دہشت طاری رکھتا تھا۔ صنعت نہ ہونے کے برابر تھی۔ پہلی عالمی جنگ نے عوام کو معاشی طورپر دیوالیہ کردیا تھا۔ نین کی سربراہی میں جب زار روس کی حکومت کا تختہ الٹا گیا کو ملک کو چلانے کے لئے وسائل نہ تھے جبکہ دنیا نے جو کہ سامراجی تسلط میں تھی اور دوسرے ممالک پر قبضے اور اپنی کالونیاں بنانے میں مصروف تھی، سوویت یونین کا معاشی بائیکاٹ کردیا تھا جس سے ملک میں قحط کی صورت پیدا ہوگئی تھی لیکن وہاں کے محنت کش عوام نے اپنے پیٹ پر پتھر رکھ کر اپنے انقلاب کا دفاع کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سوویت یونین صنعتی ترقی کی طرف تیزی سے بڑھا اور ایک دھائی میں افرادی قوت کو تربیت دے کر حکومت نے بنیادی صنعت لگانا شروع کی جس نے روزگار کے مواقع فراہم کئے اور بنیادی ضرورتوں کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگلی دھائی میں ہر میدان میں صنعت لگنے لگی۔جوں جوں صنعت لگتی گئی روزگار اور بنیادی سہولت کی ریاستی ضمانت یقینی ہوتی گئی توں توں عوام کا اپنے ملک اور عوامی حکومت پر اعتماد بڑھتا گیا اور ان میں اپنی قومی آزادی کے تحفظ کا جذبہ بڑھتا گیا۔ 50برس میں سوویت یونین اس قدر ترقی کرچکا تھا کہ وہ سامراجی دنیا کے مقابلے پر کھڑا ہوگیا۔ 100فیصد تعلیم اور روزگار کی ضمانت کو یقینی بنادیاگیا اور سامراجی ممالک کی 300 برس کی ترقی کے مقابلے میں آگیا۔پروفیسر محسن ذوالفقار نے پاکستان میں ترقی پسند تحریک اور روسی سوشلسٹ انقلاب کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آزادی سے قبل متحدہ ہندوستان میں ترقی پسند تحریک اور کمیونسٹ پارٹی پر روسی انقلاب کے واضح اثرات تھے۔ ان کے بڑے رہنماؤں میں مسلمان انقلابی سرگرم تھے جنہوںنے ہندوستان کی برطانوی سامراج سے آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔ انجمن ترقی پسند کی بنیاد رکھنے والوںمیں بھی سجاد ظہیر، فیض احمد فیض، ساحر لدھانوی جیسے رہنماؤں نے اہم کردار ادا کیا اور آزادی کی تحریک اور وطن سے محبت کو ادب کا موضوع بنایا اور عوام کے شعور کو بیدار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آزادی کے بعد ملک دو حصے ہوگیا تو سب سے پہلے ترقی پسندوں بالخصوس کمیونسٹ پارٹی نے اس کی حمایت کی جبکہ مذہبی عناصر پاسکتان بنانے کے مخالف تھے اور قائد اعظم کو کافر اعظم کہتے تھے۔ لیکن آزادی کے بعد جلد ہی ملک امریکی سامراج کے شکنجے میں چلا گیا جس نے ترقی پسند تحریک کو کچلنے کے لئے راولپنڈی سازش کیس بناکر ترقی پسند تنظیموں کو غیر قانونی قرار دے دیا، ملک میں پہلے سوال بیوروکریسی اور بعد ازاں ملٹری بیوروکریسی کا قبضہ ہوتا گیا جو اب تک جاری ہے۔ ترقی پسندوںنے چھپ چھپ کو پہلے آزاد پاکستان پارٹی اور پھر نیشنل عوامی پارٹی بنائی جو بعد ازاں متحد نہ رہ پائی۔ 80 کی دھائی میں ترقی پسندوں نے اپنی بکھری ہوئی طاقت کو یکجا کرنا شروع کیا اور متعدد انضمام کرنے کے بعد 15 سے زائد ترقی پسند جماعتوں کو یکجا کیا اور 2012ء میں عوامی ورکرز پارٹی کی بنیاد رکھی، جو آہستہ آہستہ قوت پکڑ رہی ہے اور مذہبی انتہا پسندی اور ملک میں جاگیرداری سرداری نظام اور سرمایہ داروں کی لوٹ کھسوٹ کے خلاف ایک متبادل پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ ملک میں مجموعی طورپر بالادست طبقات کی سیاسی جماعتیں، باہمی لڑائی اور ایک دوسرے پر الزامات میں مصروف ہیں اور اس سب میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ دن بدن دوبارہ قوت پکڑ رہی ہے اور اختیارات پر قابض ہوتی جارہی ہے۔ تقریب کے دوسرے حصے میں مختلف ورکشاپس ہوئے جن میں نسل پرستی اور انقلاب، سامراجی استحصال، جنگی جنون، قومی آزادی کی تحریکیں، سوشل سیکورٹی اور محنت کش شامل تھے۔ تقریب کے تیسرے حصے میں مشاعرہ ہوا جس میں مختلف زبانوں کے شاعروں نے اپنے انقلابی کلام سنائے جبکہ آخری حصے میں رنگا رنگ موسیقی کا پروگرام ہوا جس میں انقلابی نغمے اور گیت سنائے گئے۔ 11 گھنٹے طویل جاری رہنے والا پروگرام رات 11 بجے اختتام پذیر ہوا اور لوگ سامراجی مردہ باد، عالمی جنگیں بند کرو، امریکہ کو لگام دو، انقلاب زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے اپنے اپنے سفر پر نکل گئے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved