فرانس میں 11 سالہ طالبہ سے زیادتی کے الزام میں گرفتار نوجوان بری
  13  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     یورپ

پیرس(آئی این پی)فرانس میں ایک جیوری نے ایک شخص کو گیارہ سالہ سکول طالبہ کی عصمت ریزی کے الزام سے بری کردیا ہے اور کہا ہے کہ اس کو ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ اس نے اس بچی کو زبردستی جنسی تعلق کے لیے مجبور کیا تھا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق دارالحکومت پیرس کے نواح میں واقع علاقے سین ایت میرن کی ایک فوجداری عدالت کی جیوری کے ارکان نے اس مقدمے کی دو روز تک سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا ہے۔پبلک پراسیکیوٹر ڈومینیک لورنز نے کہا ہے کہ جبری آبروریزی کے مشمولہ عناصر مثلا زور زبردستی ، دھمکی ، تشدد اور اچانک فعل کے ثبوت نہیں ملے ہیں۔فرانسیسی روزنامے لی پارسین کی رپورٹ کے مطابق پراسیکیوٹرز نیاس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی ہے۔استغاثہ کے مطابق و اقعے کے وقت مشتبہ ملزم کی عمر بائیس سال تھی اور اس نے سنہ 2009 میں ایک پارک میں اس لڑکی سے منھ کالا کیا تھا۔اس بچی کے والدین کو واقعے کا اس وقت پتا چلا تھا ،جب وہ حاملہ ہوگئی تھی۔اس کے ہاں پیدا ہونے والے بچے کی عمر اب سات سال ہے اور اس کو بچوں کی نگہبانی کے ایک ادارے کے ہاں منتقل کردیا گیا تھا۔اس شخص نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس نے لڑکی سے اس کی رضا ورغبت سے جنسی فعل کا ارتکاب کیا تھا اور اس نے اپنی عمر کے بارے میں جھوٹا بولا تھا۔اس وقت اس لڑکی کی عمر چودہ سال تھی اور وہ بہت جلد پندرہ سال کی ہونے والی تھی۔فرانس میں فرد کا اپنی رضا و منشا کا مالک ہونے کی عمر پندرہ سال ہے۔پراسیکیوٹرز کو ابھی یہ ثابت کرنا ہے کہ اس جنسی فعل میں لڑکی کی رضا شامل نہیں تھی۔اس صورت ہی میں مشتبہ ملزم کے خلاف جبری عصمت ریزی کی فردِ جرم عاید کی جاسکتی ہے۔پراسیکیوٹر ملزم کو جبری آبروریزی کے الزام میں آٹھ سال قید دلوانے کے خواہاں تھے جبکہ فرانس کے ضابطہ فوجداری کے

تحت کسی کم عمر سے جنسی ملاپ پر مجرم کو پانچ سال قید اور 75 ہزار یورو جرمانے کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔قبل ازیں ستمبر میں بھی اسی قسم کا واقعہ پیش آیا تھا اور اس کے بعد اس قانون کو سخت بنانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔اس کیس میں پراسیکیوٹر نے اٹھائیس سالہ ملزم کے خلاف گیارہ سالہ لڑکی پر جنسی حملے کا الزام عاید کیا تھا اور اس کے خلاف جبری عصمت ریزی کا الزام عاید نہیں کیا تھا کیونکہ تفتیش کار رضا مندی سے جنسی تعلق کے ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے تھے۔متاثرہ خاندان نے دو بچوں کے باپ اس ملزم کے خلاف جبری زنا کے الزام میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا تھا اور بتایا تھا کہ واقعے کے بعد لڑکی اس شخص کے ساتھ گھر پہنچی تھی۔اس وقت اس کی حالت غیر ہوچکی تھی۔ وہ گھبرائی ہوئی تھی اور اس خوف میں مبتلا تھی کہ وہ گھر والوں کے سامنے اپنا دفاع نہیں کرسکے گی۔بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ نے اس کیس کے بعد کہا تھا کہ اگر کم سن بچیوں سے جبری زیادتی کی جاتی ہے تو اس معاملے میں رضا مندی یا بغیر رضا مندی کا تو سوال ہی نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved