عالم اسلام برمی مسلمانوں کی فوری امداد کرے ،مزید انتظار نہ کیا جائے،عبدالرزاق
  14  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     یورپ

لندن (پ ر) المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی گوجرانوالہ کے زیراہتمام ''برما میں روہنگیا مسلمانوں کے چشم دید حالات'' کے موضوع پر مقامی ہوٹل میں سیمینار ہوا جس میں المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی برطانیہ کے چیئرمین عبدالرزاق ساجد' المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالرحیم' گوجرانوالہ ایوانِ صنعت و تجارت کے صدر میاں عامر عزیز' گوجرانوالہ بار ایسوسی ایشن کے صدر نصراللہ گل' میئر گوجرانوالہ شیخ ثروت اکرام' اے ٹی آئی کے مرکزی صدر نعمان عبدالجبار' طاہر چودھری' عبدالعزیز چشتی نے خطاب کیا جبکہ تقریب میں معروف سیاسی اور سماجی شخصیات کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ برطانیہ کے چیئرمین عبدالرزاق ساجد نے سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گوجرانوالہ سے ان کی بہت پرانی یادیں وابستہ ہیں۔ وہ یہاں گرفتار ہوئے اور پولیس تشدد کی وجہ سے ڈنڈوں کے نشان آج بھی جسم پر باقی ہیں۔ المصطفیٰ دنیا کے 20 ملکوں میں کام کر رہی ہے اور اس کا تمام کریڈٹ سرپرست اعلیٰ حاجی محمد حنیف طیب کو جاتا ہے۔ برما میں میڈیا پر جو تصویریں دکھائی جاتی ہیں وہاں اس سے کئی گنا زیادہ ظلم ہو رہا ہے۔ برما میں روہنگیا مسلمانوں کو موبائل فون کی اجازت نہیں حتیٰ کہ انہیں شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی جاری نہیں ہوتا۔ انہیں شادی کیلئے 7 لاکھ برمی کیاٹ اور بچے کی پیدائش پر دو لاکھ کیاٹ کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ کاکس بازار بنگلہ دیش میں برما سے ہجرت کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد 11 لاکھ ہو چکی ہے۔ المصطفیٰ روزانہ 20ہزار مہاجر خاندانوں میں پکاپکایا کھانا تقسیم کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برما میں ہزاروں مسلمان بچیوں کی عزت لوٹ لی گئی' خواتین اور مردوں کو زندہ جلا دیا گیا جس سے ہزاروں بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ معصوم بچوں کے ہاتھ اور پائوں جلا دیئے گئے۔ برمی مسلمانوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے مہاجر کیمپوں میں انہیں صرف ترکی کے دو ادارے اور ایران کے ڈپٹی فارن منسٹر امدادی سرگرمیوں میں مصروف نظر آئے۔ المصطفیٰ مہاجر کیمپوں میں راشن کی تقسیم' پینے کے صاف پانی کے ہینڈ پمپ' میڈیکل کیمپ' ٹائلٹ قائم کر رہی ہے جبکہ مساجد کی تعمیر کے ساتھ امام مساجد کو دکھائیں قائم کر کے دی جائیں گی تا کہ انہیں تنخواہ کی پریشانی نہ ہو۔ انہوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام برما کے مسلمانوں کی فوری امداد کرے اور مزید انتظار نہ کیا جائے۔ امجد علی چشتی نے کہا کہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات اچھے نہیں جس وجہ سے مہاجرین کو امدادی سامان بھیجنے میں پریشانی ہو رہی ہے تا ہم المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ کو خراج تحسین پیش کریت ہیں کہ وہ امدادی سامان بھیجنے میں مصروف ہیں۔ اے ٹی آئی کے مرکزی صدر نعمان عبدالجبار نے کہا کہ اسلام کا فلسفہ خدمت ہے اور اسلام کی تعلیمات انسانی خدمت کے گرد گھومتی ہیں۔ ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے۔ عبدالرزاق ساجد برما کے مسلمانوں کے مسیحا ہیں اور اہیں فخر کہ وہ انجمن طلباء اسلام کے مرکزی صدر رہے ہیں اور اس وقت انسانیت کی خدمت کے لئے خود کو وقف کر چکے ہیں۔ گوجرانوالہ ایوانِ صنعت و تجارت کے صدر میاں عامر عزیز نے کہا کہ پوری دنیا میں مسلمان مظالم کا شکار ہیں جس کے لئے مسلمان حکمرانوں کو بیدار ہونا ہو گا۔ برما میں مسلمانوں کے خلاف مظالم روکنے کے لئے انسانی حقوق کے اداروں کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ میئر گوجرانوالہ شیخ ثروت اکرام نے کہا کہ وہ عبدالرزاق ساجد کے گوجرانوالہ آمد پر شکرگزار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بعض مسلمان ملکوں کو بے شمار وسائل سے نوازا ہوا ہے لیکن افسوس ہے کہ وہ برما کے مسلمانوں کو بھول گئے ہیں۔ سلطنت عثمانیہ مسلمانوں کا مرکز تھی جس کے ختم ہونے کے بعد مسلمان دربدر پھر رہے ہیں۔ کشمیر' فلسطین' شام' یمن سمیت پوری دنیا میں مسلمان ظلم کا شکار ہیں۔ المصطفیٰ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ اس نے برما میں روہنگیا مسلمانوں کی امداد جاری رکھی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو ضرور کامیاب کرے گا۔ المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالرحیم نے کہا کہ المصطفیٰ 1983ء سے خدمت انسانیت کا کام اللہ اور نبی اکرم کی خوشنودی کے لئے کر رہی ہے۔ المصطفیٰ کے زیراہتمام کراچی میں پانچ ہسپتال کام کر رہے ہیں۔ المصطفیٰ میڈیکل سنٹر گلشن اقبال کراچی میں 150 بستر ہیں جہاں ضرورت مند مریضوں کا علاج ہو رہا ہے۔ تھیلی سیمیا میں مبتلا بچے جو 20 برس کی عمر میں فوت ہو جاتے ہیں' ایسے بچوں کو پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کبھی واپس نہیں بھیجا گیا اور ان کا مفت علاج ہو رہا ہے۔ 15 ڈائیلسز یونٹ ہیں جہاں گردے کے مریضوں کا مفت علاج ہو رہا ہے۔ یتیم بچوں کے لئے یتیم خانہ ''اپنا گھر'' قائم کیا ہے۔ بے سہارا خواتین کے لئے اولڈ ہوم بنایا گیا' مزید لاوارث مرد حضرات کے لئے بھی اولڈ ہوم کھول رہے ہیں۔ کراچی میں ہر ماہ ایک ہزار خاندانوں کو راشن تقسیم کیا جاتا ہے۔ تائیوان کے تعاون سے 800 ٹن چاول تقسیم کئے گئے جن کی مالیت چار کروڑ روپے بنتی ہے۔ المصطفیٰ برما کے خلاف احتجاج کے بجائے وہاں مسلمانوں کی امداد کا فریضہ ادا کر رہی ہے۔ آل گڈز ٹرانسپورٹ نے المصطفیٰ کے کام کو دیکھنے کے بعد 20 لاکھ روپے امدا دی ہے۔ ہونٹ اور تالو کٹے بچوں کے مفت آپریشن ہو رہے ہیں جبکہ اجتماعی شادیاں بھی کی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زندگی ایک بار دی ہے اور دعا ہے کہ وہ ہم سے راضی ہو جائے۔ میرا اایمان ہے کہ دعا وہ قبول ہوتی ہے جو غریب کا آنسو پونچھنے کے بعد نکلتی ہے۔ اردو ٹائمز (یوکے) کے چیف ایڈیٹر طاہر چودھری نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مظالم کی تصاویر سامنے آنے کے بعد المصطفیٰ ان کی امداد کے لئے سرگرم ہو گئی اور بنگلہ دیش میں قانونی دشواریوں کے باوجود وہاں امدادی سامان کی تقسیم میں مصروف ہے۔ لارڈ نذیر احمد بھی ان کے ساتھ بنگلہ دیش میں برمی مسلمانوں کے کیمپوں کا دورہ کر چکے ہیں انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ میں آواز اٹھائی جس کے بعد بنگلہ دیش حکومت نے ویزوں کے اجراء میں نرمی کر دی ہے اور بہت سارے ادارے وہاں پہنچ چکے ہیں۔ المصطفیٰ برما کے مسلمانوں کو لاکھوں پونڈ امداد دے دکی ہے۔ برما کے مسلمانوں کی المصطفیٰ کے ذریعے امداد ہو سکتی ہے جس کے تعاون سے مہاجر کیمپوں میں روزانہ 20 ہزار خاندانوں کو پکا پکایا کھانا تقسیم ہو رہا ہے۔ معروف اینکر پرسن اور صحافی سہیل وڑائچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ امجد علی چشتی کے نام سے 1977ء سے واقف ہیں کیونکہ میں خود اے ٹی آئی کا سرگرم کارکن رہ چکا ہوں جس کے ہر کارکن میں عشق مصطفیٰ کی لو تڑپ پھڑک رہی ہے اور عبدالرزاق ساجد سے اسی تعلق کی وجہ سے ملتا ہوں۔ ویلفیئر کا کام عام طور پر صاف نہیں ہوتا لیکن عبدالرزاق ساجد جب بات کرتے ہیں تو ان کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں جس سے مجھے یقین ہے کہ ان کی آنکھیں خلوص اور جذبے کے بغیر نم نہیں ہوتی۔ او آئی سی مردہ گھوڑا ہو چکا ہے اور اس سے امید نہ رکھیں کیونکہ وہ استعمال کی ایکسٹینشن ہے۔ اچھی بات ہے کہ ایک سو سال پہلے کوئی مسلمان ملک آزاد نہیں تھا لیکن آج 55 اسلامی ممالک آزاد ہیں۔ سلطنت عثمانیہ کے دور میں سلطان عبدالحمید نے توہین رسالت پر اپنی تلوار میان سے نکال کر کہا کہ وہ تلوار اس وقت تک میان کے اندر نہیں رکھیں گے جب تک گستاخ رسول کہ سزا نہیں ہو گی اور آخر انگلینڈ کی حکومت گستاخ کو سزا دینے پر مجبور ہو گئی تھی۔ مسجد نبوی کی تعمیر کیلئے پتھر تھوڑنے کے لئے ہنرمندوں کو مدینہ منورہ سے باہر لے جاتے تھے اور تعمیر سے پہلے ایسے معمار لئے گئے جو حافظ قرآن تھے' پھر انہیں الگ آباد کیا گیا' ان کے بچوں کو قرآن مجید کا حافظ بنایا گیا اور پھر انہیں مسجد نبوی بھیجا گیا اور جتنی دیر کام کرتے تھے وہ تلاوت کرتے رہتے تھے۔ افسوس اس طرح کے حکمران آج عالم اسلام میں موجود نہیں۔ اچھی بات ہے کہ دنیا بھر کے مڈل کلاس مسلمانوں میں شعور پیدا ہو رہا ہے جو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر رہے ہیں۔ یہی مسلمان تبدیلی لائیں گے اور اس کے آثار نظر آرہے ہیں۔ تقریب کے آخر میں امجد علی چشتی نے برما کے روہنگیا مسلمانوں کی مالی امداد کی اپیل کی جس پر ہال میں موجود شرکا کی جانب سے چار لاکھ روپے عطیات جمع ہو گئے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved