نوجوان نسل کواسلام دشمن تحریکوں سے دوررکھناہوگا،پیرعبدالقادرگیلانی
  14  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     یورپ

لوٹن(پ ر) مرکزی جماعت اہل سنت یو کے اینڈ اوورسیز ٹرسٹ کے بانی و سرپرست اعلیٰ مفکر اسلام ڈاکٹر پیر سید عبدالقادر گیلانی نے کہا کہ یہ مادیت زدہ دور طرح طرح کے فتنوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے اس میں کفر و الحاد اور ظلم و تعدی کی تندو تاریک آندھیاں اُمڈ اُمڈ کر آرہی ہیں اور وہ بندہ مومن کے دل سے نور ایمان کے چراغ کو گل کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہیں اور اس کو دوبارہ کفر و الحاد کی تاریکیوں میں دیکھنے کی سر توڑ کوششیں کر رہی ہیں۔ اس دور میں ایمان کی حفاظت کرنا بہت ہی مشکل نظر آتا ہے۔ آج برطانیہ و یورپ میں جہاں نئے نئے فتنے جنم لے رہے ہیں اور فحاش و عریانی سر راہ دعوت گناہ دے رہی ہے اس کا سدِباب کرنے کا فلسفہ سید الانبیاء و مرسلین رحمت الالعالمین نے چودہ سو سال پہلے ہی بتاکر اپنی امت کی رہنمائی فرمادی تھی۔ فرمایا کہ اے علی ایسے فتنوں کے دور میں قرآن کا دامن تھام لینا اس کتاب و ہدایت نور کی وابستگی اور اس کی تعلیمات پر جب کوئی بندہ مومن عمل پیرا ہوگا تو رب کی رحمت کے دروازے کھل جائیں گے اور کامیابی و کامرانی کی منزل حاصل ہوجائے گی۔وہ آج لوٹن میں الحاج محمد خلیل قادری کی دعوت پر منعقد ہونے والی درس قرآن اور شان اولیاء کی تقریب سے صدارتی خطاب فرمارہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نبی رحمت کا ارشاد ہے کہ ایسا وقت آئے گا کہ انسان شام کے وقت مومن ہوگا اور وہ جب صبح اٹھے گا تو اس کے ایمان کا نور بجھ چکا ہوگا۔ اور صبح کے وقت مومن ہوگا لیکن شام کو نور ایمان سے محروم ہوگا۔ آج کے دور میں مختلف قسم کی تحریکیں سرگرم عمل ہیں جو بالخصوص نوجوان نسل کو گمراہی کی دلدل میں دھکیل رہی ہیں اور اسلام کے مقدس نام پر دہشت گردی کی لعنت میں مبتلا کرکے نہ صرف ان کی زندگیوں کو تباہ کر رہی ہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کر رہی ہیں ہمیں اپنی نوجوان نسل جو ہمارا قیمتی اثاثہ اور ہمارا مستقبل ہیں انہیں ایسی اسلام دشمن تحریکوں سے جن کا مسلمانوں کی (MAIN STREAM) سے کوئی تعلق نہیں اس سے دور رکھنا ہے اور اس کیلئے علمائے کرام، مشائخ اور والدین کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم گھر گھر میں درس قرآن کے حلقے قائم کریں اور قرآن کے آفاقی پیغام اور اسلام کے پیغام امن و محبت کو برطانیہ و یورپ کے ہر شہر میں پہنچاکر اپنی مذہبی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں اولیائے کرام کی آمد اور ان کی تعلیمات سے اسلام پھیلا ہے اور ان کی پاکیزہ زندگیوں نے پاک و ہند کے گھر گھر کو نور اسلام سے منور کیا ہے اور ہر بڑے سے بڑے فتنے کا قلع قمع کیا۔حضرت داتا گنج بخش سید علی ہجویری۔ خواجہ مجدد الف ثانی۔ شیخ احمد سرہندی، رئیس المجددین سیدنا پیر مہر علی شاہ گولڑوی اعلیٰ حضرت مجددین ملت مولانا الشاہ احمد رضا خان بریلوی وہ تاریخ اسلام کے روشن ستارے ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں اسلام کی ترویج و اشاعت میں وقف کرکے پاک و ہند کو اسلام کا گہوارہ بنادیا۔ شاہ جی نے مرکزی جماعت اہلسنت کے جنرل سیکرٹری علامہ قاضی عبدالعزیز چشتی کو شاندار اور کامیاب چالیسویں خاتم النبیین کانفرنس کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس یورپ کیلئے مینار نور ثابت ہوئی ہے اور یہ وقت کی اہم ضرورت اور پکار تھی جس کیلئے آپ مبارکباد کے مستحق ہیں۔مفکر اسلام نے کہا کہ قرآن پاک نے انبیائے کرام، صدیقین، شہدائ، صالحین کو انعام یافتہ گروہ قرار دیا ہے جن پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں، برکتوں اور نوازشوں کا نزول ہوتا ہے اور جو بھی بندہ مومن ان پاکیزہ صفات ہستیوں سے اپنی نسبت و تعلق قائم کرتے ہوئے ان کے نقشِ قدم پر چلتا ہے تو اللہ کریم اسے صراط مستقیم کی منزل سے آشنا کردیتا ہے۔ قرآن پاک کا ارشاد ہے کہ اولیائے کرام کو نہ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ صاحب ایمان ہیں اور ہمیشہ ہمیشہ تقویٰ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ولی اللہ بننے کیلئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ۖ کی رضا حاصل کرنا پڑتی ہے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کیلئے خالقاً اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا ہونا پڑتا ہے۔ ولی اللہ ہونا آسان نہیں یہ قدسی صفات اور بوریا نشین دنیا کی ہر نعمت کو ٹھکرا دیتے ہیں یہ ایسے فقیر ہوتے ہیں جن کی خانقاہوں میں بادشاہ وقت برہنہ پا حاضر ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم اور ان کی دعاؤں سے حاجت مندوں کی جھولیاں مرادوں سے بھر دیتے ہیں۔ یہ اپنے لئے کچھ نہیں مانگتے ان کے ہاتھ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حضور دوسروں کے لئے پھیلتے ہیں۔ انہیں جب اللہ کی جناب سے کوئی نعمت ملتی ہے تو اس کے احسان کا شکر ادا کرتے ہیں اور آزمائش آتی ہے تو صبر کرتے ہیں۔ مرکزی جماعت اہل سنت یو کے اینڈ اوورسیز ٹرسٹ کے مرکزی سیکرٹری جنرل خطیب ملت علامہ قاضی عبدالعزیز چشتی نے کہا کہ اولیائے کرام نے دین اسلام کی خدمت کے ساتھ ساتھ اصلاح معاشرہ میں بھی بہت اعلیٰ اور مثبت کردار ادا کیا ہے۔ حضرت سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش نے کفر کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں اسلام کی شمع کو روشن کیا اور رام رام کہنے والوں کو رحمٰن کے حضور سربسجود کرادیا۔ شرک و بدعت کی دلدل سے نکال کر نور حق کی شمع کا گامزن بنادیا۔ حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی نے دین اکبری کی تباہ کاریوں سے امت مسلمہ کو روشناس کراکے اللہ وحدہ لاشریک کی توحید کا درس دیکر غلامی مصطفی کا گرویدہ بنادیا۔ اعلیٰ حضرت رئیس المجددین سید پیر مہر علی شاہ نے منکرین ختم نبوت پر ضرب کاری لگاکر فتح و کامرانی کے ڈنکے بجائے اور امت مسلمہ کی رہنمائی کرتے ہوئے عقیدہ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کا حق ادا کیا۔ اعلیٰ حضرت عظیم البرکت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلوی نے سرزمین پاک و ہند میں عشق و محبت رسول کی وہ شمع روشن کی جس کی روشنی سے پورا ہند منور ہوگیا۔ مرکزی جماعت اہلسنت کے مرکزی رہنما اور الحرا سنٹر کے امام علامہ قاری واجد حسین چشتی نے کہا حضرت داتا گنج بخش عالم اسلام کی وہ عظیم روحانی ہستی ہے جن کی نگاہ فیض بارے ناقصوں کو کامل اور کاملوں کو رہنما بنادیا اور جن کے مزار اقدس پر چالیس دن چلہ کشی کرنے کے بعد اور حصول فیض کے بعد خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی نے ہند کے ظلم کدہ کو منور کردیا۔ آج ہم اولیائے کرام کے پاکیزہ مشن اور ان کے نظریات و افکار کے نقیب ہیں۔ جن دیگر نے اظہار خیال کیا ان میں مولانا حافظ اشتیاق حسین قادری، مولانا انعام الحق قادری، مولانا محمد مشتاق قادری و دیگر شامل ہیں جبکہ الحاج راجہ منشی خان، حاجی کرامت حسین قادری، صوفی نذیر حسین، حافظ محمد سعود، ٹھیکیدار محمد یٰسین، چوہدری سجاد حسین قادری، صوفی راجہ فرید خان قادری نے خصوصی شرکت کی۔ آخر میں بارگاہ رسالت مآب میں درود و سلام کے بعد مفکر اسلام علامہ ڈاکٹر پیر سید عبدالقادر گیلانی نے خصوصی دعا کی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved