حکومت مسئلہ کشمیرکے حل کیلئے ٹھوس اورمثبت پالیسی اختیارکرے،پروفیسرلیاقت
  3  دسمبر‬‮  2017     |     یورپ

ہائی ویکمب (مسرت اقبال) جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے مرکزی رہنما پروفیسر لیاقت علی خان نے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کشمیر میں امن مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کے ساتھ وابستہ ہے'پروفیسر لیاقت علی خان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا عالمی برادری تسلیم کرتی ہے کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے۔ بھارت کی مودی گورنمنٹ اپنے اندرونی مسائل اور کشمیر کے مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لئے کشمیریوں کے خلاف پروپیگنڈہ کررہی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس میں ہونے والی آسیان کانفرنس کے مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کے لئے پاکستان بھارت اور کشمیری قیادت پر مشتمل سہ فریقی کانفرنس کا انعقاد کا مطالبہ کریں۔ یہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ہونی چاہئے۔ پروفیسر لیاقت علی خان نے مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی مذاکرات کاردنیشور شرما کی ریاسست امن مذاکرات کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور نہ ہی یہ اقوام متحدہ کی طرف سے بھیجا گیا نمائندہ ہے۔ بھارت حکومت اس سے قبل بھی امن مذاکرات کے نام پر کئی بار ڈرامے کرچکا ہے اور نہ بھارت شملہ معاہدہ' اعلان لاہور کو تسلیم کرتا ہے۔ جب بھارت پر عالمی دبائو بڑھتا ہے تو وہ ان معاہدوں کی بات کرتا ہے۔ پروفیسر لیاقت علی خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں عوام وطن کی آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہے۔ بھارت کے حکمران بوکھلاہٹ کے عالم میں کشمیریوں کو دہشت گرد کہہ رہا ہے۔ پروفیسر لیاقت علی خان نے مقبوضہ کشمیر میں مقامی انتظامی سطح پر ہونے والے انتخابات کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کا نعم البدل نہیں۔ اقوام متحدہ آج بھی کشمیر کو ایک متنازعہ ریاست تسلیم کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے خاصی شرمندگی اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ پروفیسر لیاقت علی خان نے بھارت مسئلہ کشمیر کو ایک متنازعہ ریاست تسلیم کرنے کے باوجود تیسرے فریق کی شمولیت سے کیوں بھاگ رہا ہے جس کی واضح مثال سندھ طاس معاہدہ ہے جو 1962 میں دونوں ملکوں کے درمیان تیسرے فریق کے تعاون اور شمولیت کے باعث ہوا۔ عالمی ثالثی بینک نے اس معاہدے میں بحیثیت فریق بنیادی کردار ادا کیا۔ پروفیسر لیاقت علی خان نے کہا کہ بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث مسئلہ کشمیر ایک سلگتا ہوا خطے میں ایٹمی فلش پوائنٹ بن چکا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان گورنمنٹ مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کے لئے سکیورٹی اور اقوام متحدہ کا اجلاس طلب کرے وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سہ فریقی کانفرنس بلائے۔ بھارت کے حکمرانوں نے دو طرفہ مذاکرات کو ہمیشہ سبوتاژ کیا کشمیری عوام آج بھی مذاکرات کی دلدل میں کھڑے ہیں انہیں کس جرم کی سزا دی جارہی ہے۔پروفیسر لیاقت علی خان نے پاکستان کی توجہ چاہتے ہوئے کہا کہ یہ کونسا انصاف ہے کہ پاکستان نے بھارت کی ہٹ دھرمی کے جواب پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر خاموشی اختیار کرلی۔ پروفیسر لیاقت علی خان نے کہا کہ پاکستان اگر مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا ہے تو وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ٹھوس و مثبت پالیسی اختیار کرے انہوں نے کہا تمام کشمیری جماعتوں کو چاہئے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے آزاد کشمیر اسمبلی کے سامنے لانگ اور دھرنے کی تحریک شروع کریں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved