امریکہ بزورطاقت اپناسفارتخانہ بیت المقدس قائم نہیں کرسکتا،پروفیسرلیاقت
  6  دسمبر‬‮  2017     |     یورپ

ہائی ویکمب(مسرت اقبال) جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے مرکزی رہنما پروفیسر لیاقت علی خان نے امریکہ کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے متوقع اعلان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی برادری کی رائے عامہ کا احترام کرکے کسی بھی انتہا پسندی کا اعلان کرنے سے باز رہیں جس سے عالمی سطح پر دہشت گردی و انتہا پسندی میں اضافہ ہو۔ پروفیسر لیاقت علی خان نے کہا بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے جس پر اسرائیل نے طاقت کے زور پر 1976 کی جنگ کے دوران زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔انہوںنے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا بیت المقدس کا ذرہ ذرہ فلسطینیوں کا ہے۔ پروفیسر لیاقت علی خان نے کہا بیت المقدس سمیت فلسطین پر اقوام متحدہ اور سیکورٹی کی قراردادیں واضح ہیں کہ ان علاقوں پر اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ ہے۔ اسرائیل اقوام متحدہ کی قراردادوں کا احترام کرتے ہوئے بیت المقدس سمیت تمام فلسطینی علاقہ جات فلسطینیوں کو واپس کرے۔امریکہ طاقت کے زور پر اپنا سفارتخانہ بیت المقدس میں قائم نہیں کرسکتا۔ اس اقدام سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات اور ایک الگ فلسطینی ریاست کے قیام کو شدید نقصان ہوگا۔ پروفیسر لیاقت علی خان نے کہا یہ امریکہ کا دوہرا معیار ہے ایک طرف وہ افغانستان اور شام میں امن کے قیام کی حمایت کرتا ہے جبکہ وہ یہودی ازم کی حمایت کرتے ہوئے اپنا سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرتے ہوئے امت مسلمہ کے جذبات سے کھیل رہا ہے۔ انہوںنے کہا امریکی پالیسیوں سے ایسا لگ رہا ہے امریکہ طاقت کے زور پر خطے میں امن نہیں چاہتا۔ پروفیسر لیاقت علی خان نے عرب ملکوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ امریکہ کے کسی بھی منفی اقدام کے جواب میں بیت المقدس کے مسئلے کو عالمی عدالت انصاف میں لے جائیں۔ نیز امریکہ کیساتھ ہر طرح کے سیاسی و سفارتی تعلقات کو منقطع کریں اور مسئلہ فلسطین کے حل ہونے تک اسرائیل کے ساتھ ختم کریں۔ پروفیسر لیاقت علی خان نے کہ اسرائیل امریکہ کی ایک آرمی چھاؤنی ہے جہاں سے وہ عرب ملکوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوںنے کہا بھارت کے حکمران بھی امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں پر نقش قدم پر چلتے ہوئے کشمیر میں ریاستی دہشت گردی قائم کر رکھی ہے۔ پروفیسر لیاقت علی خان نے کہا امریکہ بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ اسلامی ملکوں میں ایسے نازک وقت میں اپنے تمام اختلافات بھلاکر متحد ہوجانا چاہئے۔ انہوںنے کہا یہ بہت بڑا المیہ ہے عرب ممالک بیت المقدس کی آزادی کی خاطر آپس میں متحد نہ ہوسکے۔ حالانکہ ان کے پاس انتہائی وسائل ہیں۔ پروفیسر لیاقت علی خان نے عرب لیگ، او آئی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیت المقدس کے مسئلے پر فوری اجلاس بلاکر متفقہ لائحہ عمل طے کریں۔ پروفیسر لیاقت علی خان نے کہا امریکہ اور بھارت نے مسئلہ کشمیر پر عالمی سطح پر توجہ ہٹانے کیلئے امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے اور کشمیر کی سنگین ترین صورتحال کے حوالے سے اقوام متحدہ کا اجلاس طلب کرے۔ امریکہ پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کے صیہونی منصوبے بے باز رہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved