لندن اوربنگلورفضائی آلودگی سے نمٹنے کیلئے عالمی پارٹنرشپ کی قیادت کرینگے
  7  دسمبر‬‮  2017     |     یورپ

لند ن ( پ ر )میئر لندن صادق خان اور میئر بنگلور سمپتھ راج نے اعلان کیا ہے کہ لندن اور بنگلور عالمی فضائی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے دنیا کے بیس دیگر شہروں کی عالمی پارٹنرشپ کی قیادت کریں گے۔ اس مہم پر ''سی 40 کلائمیٹ لیڈرشپ گروپ'' کام کرے گا۔ لندن میں ساڑھے ساتھ لاکھ پائونڈ (دس لاکھ ڈالر) مالیت سے فضائی معیار کی نگرانی کے ایک جدید ترین نظام کا آزمائشی تجربہ بھی کیا جائے گا جو سکولوں، ہسپتالوں، تعمیراتی مقامات اور مصروف سڑکوں سمیت زہریلے مواد کی زد میں آنے والے شہر کے ایک ہزار تک مقامات پر ضرررساں آلودگی کے تجزیہ کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ میئر لندن ان دنوں بھارت اور پاکستان کے چھ روزہ تجارتی دورے پر ہیں۔ انہوں نے یہ اعلان میئر بنگلور کے ہمراہ دہلی میں ایک ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات کے بعد میئر نے مہاراجہ آگرہ سائیں پبلک سکول میں بچو ں سے ملاقات کی جو سنسرز کے ذریعے اپنے سکول کے اردگرد آلودگی کی سطح کی پیمائش کے لئے ایئرکوالٹی سائنس کلاس میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ سنسر ایک فلاحی تنظیم ایف آئی اے فائونڈیشن کے زیراہتمام فضائی معیار پر آگاہی کے ایک پراجیکٹ کا حصہ ہیں۔ اس پراجیکٹ پر دہلی، لندن اور نیروبی کے سکولوں میں کام کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں لندن سسٹین ایبلٹی ایکسچینج نے لندن کے سکولوں میں استعمال کرنے کے لئے ایک ٹول کٹ تیار کی ہے۔ فضائی آلودگی ایک عالمی مسئلہ ہے جو لوگوں کی صحت پر اثرانداز ہوتا ہے اور دنیا کے ہر شہر میں قبل از وقت اموات کا سبب ہے۔ میئر کی طرف سے پچھلے دنوں عالمی ادارہ صحت کے وہ اعدادوشماربھی منظرعام پر لائے گئے جو ظاہر کرتے ہیں کہ لندن کے تمام باسی ایسے علاقوں میں رہ رہے ہیں جہاں یہ سطح قانونی حد سے تجاوز کر چکی ہے۔ بھارتی شہروں کو بھی بالخصوص موسم سرما میں فضائی معیار کی مشکلات کا سامنا ہے جب فصلوں کا بھوسا جلانے اور موسمی حالات کی وجہ سے آلودگی بڑھ جاتی ہے جبکہ ٹرانسپورٹ، گھریلو صارفین اور بجلی پلانٹس سے ہونے والا اخراج اپنی جگہ موجود ہے۔ پچھلے دنوں اس کی وجہ سے نئی دہلی شدید سموگ کی لپیٹ میں رہا جس کی وجہ سے سکولوں میں بعض ہنگامی اقدامات کرنا پڑے۔ فضائی معیار کے نیٹ ورک کا انتظام شہروں کا عالمی الائنس سی 40 چلائے گا جو تبدیلی آب وہوا کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے سرگرم عمل ہے اور دونوں شہر اس کے رکن ہیں۔ میئر بنگلور اور میئر لندن اس نیٹ ورک کے شریک سربراہ ہوں گے جو فضائی آلودگی کے عالمی بحران کے حل نکالنے کے لئے بیس دیگر عالمی شہروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ لندن کی طرف سے سنسر کے ذریعے فضائی معیار کی نگرانی کے آزمائشی پروگرام کے نتائج سے آگاہ کیا جائے گا جس پر بعد میں بنگلور، دہلی اور دیگر شہروں میں بھی کام کیا جا سکتا ہے۔ نیٹ ورک کا پہلا اجلاس 2018 میں بنگلور میں ہو گا۔ نئی پارٹنرشپ کے تحت لندن میں اس نئے ٹیکنالوجی پراجیکٹ کا آزمائشی تجربہ کیا جائے گا جس کی بدولت ایک سو سے ایک ہزار کے لگ بھگ نگرانی کے مقامات پر فضائی معیار کی نگرانی کے نیٹ ورک میں ڈرامائی طور پر بہتری آئے گی۔ اس آزمائشی پراجیکٹ میں نگرانی کے موبائل آلات بھی شامل ہوں گے تاکہ پورے شہر کے لاکھوں مقامات سے اعدادوشمار حاصل کئے جا سکیں۔ اس آزمائشی پروگرام کے لئے فنڈز چلڈرنز انوسٹمنٹ فنڈ فائونڈیشن کی طرف سے فراہم کئے جائیں گے۔ صادق خان فضائی معیار کی قانونی حدود سے تجاوز کرنے والے علاقوں کی زیادہ بھرپور طریقے سے نگرانی چاہتے ہیں جن میں بدترین آلودگی کا شکار لندن کے 438 سکول بھی شامل ہیں جو سب ایسے علاقوں میں ہیں جہاں فضائی معیار قانونی حدود سے متجاوز ہے۔ وہ اس پراجیکٹ کو پی ایم 2.5 سمیت آلودگی پھیلانے والے بعض انتہائی خطرناک اجزاء کو پوری طرح سمجھنے اور ان علاقوں کی نشاندہی کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں جہاں آلودگی کی سطح کم کرنے کے لئے مخصوص فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے ممکنہ اقدامات میں سکولوں کے گرد سڑکوں کو پیدل چلنے کے لئے مخصوص کرنا، پیدل چلنے اور سائیکل چلانے کی حوصلہ افزائی کرنا اور ٹریفک کی پابندیاں شامل ہیں۔ اس بات کا جائزہ لینے کے لئے پروکیورمنٹ کا کام آج سے شروع ہو رہا ہے کہ کون کون سی سنسر ٹیکنالوجیز اور موبائل نگرانی کے طریقے اس آزمائشی پروگرام کے سلسلے میں استعمال کئے جائیں گے جن کی فراہمی 2018 میں متوقع ہے۔ میئر لندن صادق خان نے کہا کہ فضائی آلودگی ایک عالمی مسئلہ ہے جو لاکھوں افراد کی زندگیوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ صرف مل کر کام کرتے ہوئے ہم صحت کے اس عالمی بحران پر قابو پا سکتے ہیں اور لوگوں کو آلودہ ہوا میں سانس لینے سے محفوظ رکھ سکتے ہیں جو ان کے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا رہی ہے اور بیماریوں کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ لندن اور بنگلور فضائی معیار پر ایک نئی پارٹنرشپ کی قیادت کریں گے اور امید ظاہر کی کہ اس سلسلے میں ہم پوری دنیا اور بھارت کے اہم شہروں اور دہلی میں اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں لندن کی جان لیوا ہوا کو صاف کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہوں جن میں زیادہ آلودگی پھیلانے والی کاروں کو جرمانہ کرنے اور ''الٹرا لو ایمیشن زون'' قائم کرنے سے لے کر بسوں اور ٹیکسیوں کی صفائی تک ہر طرح کے اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ان اقدامات میں مزید بہتری لانے کے لئے جدید ترین سنسر ٹیکنالوجی جلد حاصل کر لی جائے گی جس سے زہریلی آلودگی پر جامع ترین اعدادوشمار حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ میئر بنگلور سمپتھ راج نے کہا کہ بنگلور شہر بھارت اور عالمی جنوب میں بڑھتی شہری آبادی کی ایک علامت ہے۔ شہر کی آبادی 1985 میں 3.5 ملین تھی جو آج 11 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ اس تیز رفتار افزائش نے جہاں بنگلور کو خطے میں معاشی افزائش کا محرک بنا دیا ہے اور روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا کئے ہیں وہیں ٹریفک کے رش اور تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافہ سے فضائی معیار میں بھی بگاڑ آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے میئر کی حیثیت سے میں شہر کے معیار زندگی پر کڑی نظر رکھتا ہوں اور فضائی معیار ایسا ہی ایک اشاریہ ہے جو ہمارے شہریوں کی صحت اور فلاح پر براہ راست اثرانداز ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی 40 سٹیز کلائمیٹ لیڈرشپ پروگرام سالہاسال سے بروہاتھ بنگلور مہاناگرہ پالائک (بی بی ایم پی) کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور لندن کے ساتھ مل کر سی 40 کے فضائی معیار کے نیٹ ورک کی قیادت ہمارے لئے انتہائی خوشی کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ لندن کے میئر صادق خان کے ساتھ مل کر ہم دنیا بھر کے میئر صاحبان کو یکجا کریں گے اور اپنے شہروں میں فضائی معیار کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے اپنے تجربات سے ایک دوسرے کو آگاہ کریں گے۔ خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت فضائی آلودگی کی وجہ سے 6.5 ملین قبل ازوقت اموات ہو رہی ہیں اور تقریباً ہر براعظم کے شہر فضائی آلودگی سے دوچار ہیں جو صحت کے رہنما اصولوں کے منافی ہے۔ اس نیٹ ورک کو سی 40 سٹیز کلائمیٹ لیڈرشپ گروپ چلائے گا جس میں دونوں شہر شامل ہیں اور صادق خان اس کے وائس چیئر ہیں۔ 2018 میں بنگلور میں ہونے والے پہلے اجلاس میں سی 40 نیٹ ورک میں شامل 91 شہروں کو اس پارٹنرشپ میں شمولیت کی دعوت دی جائے گی۔ سی 40 کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مارک واٹس نے کہا کہ فضائی آلودگی کا باعث بننے والے زہریلے اخراج تبدیلی آب وہوا میں بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں جس سے دنیا کے شہروں کو تباہی کے خطرے کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میئر صاحبان اپنے شہروں میں ہوا کو صاف کرنے کے اقدامات کی فوری ضرورت کا اعتراف کرتے ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ لندن اور بنگلور ان اقدامات کو تیز کرنے کے لئے شہروں کا یکجا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی 40 ایئر کوالٹی نیٹ ورک دنیا بھر میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کے طریقوں کو بدلنے میں مدد دے گا۔ میئر لندن شہر کو آلودگی سے پاک کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں مثلاً بسوں کو صاف کیا جا رہا ہے، سنٹرل لندن میں اخراج کا سخت ترین معیار ٹی چارج متعارف کرا دیا گیا ہے اور یو ایل ای زیڈ اپریل 2019 میں اصل منصوبے سے سترہ ماہ پہلے متعارف کرانے کی تصدیق بھی کر دی گئی ہے۔ صادق خان نے یو ایل ای زیڈ کے معیارات کو توسیع دے کر اس میں ضرررساں پی ایم 2.5 کو بھی شامل کر دیا ہے۔ وہ مزید ایسی پالیسیوں کی تشکیل کے لئے دیگر شہروں کے تجربات سے سیکھنے میں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں جن سے لندن کے فضائی معیار میں مزید بہتری لائی جا سکے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved