عالمی برادری مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیاں بندکروائے،برسلزمیں مذاکرہ
  7  دسمبر‬‮  2017     |     یورپ

برسلز (پ ر)بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں ایک مذاکرے کے دوران مقررین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیاہے کہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں کو بند کروائے۔مذاکرے کا اہتمام کشمیرکونسل ای یو نے یورپین پریس کلب برسلز میں انسانی حقوق کے عالمی دن کے حوالے سے کیا۔ مذاکرے میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ایک فراموش شدہ تنازعے کے متاثرین کے عنوان سے مباحثے کے پینل میں یورپی پارلیمنٹ میں فرینڈز آف کشمیر گروپ کی شریک چیئرپرسن مس آنتھیا میکنٹائر، رکن یورپی پارلیمنٹ جولی وارڈ، بلجیم کے مشہور فوٹو جرنلسٹ سیدریک گربیہائے، چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید اور یورپی یونین کے سابق سفیر انتھونی کرزنر شامل تھے۔ فوٹو جرنلسٹ سیدریک گربیہائے نے مقبوضہ کشمیرکے اپنے حالیہ دورہ کے دوران لی گئی تصاویر سلائیڈ پر دکھائیں اور ان کے بارے میں وضاحت کی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ کشمیریوں کے دکھ کو محسوس کرتے ہیں اور ان کے مصائب سے متاثر ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ وہ کوئی سیاستدان نہیں اور نہ کوئی سیاسی بیان دے رہے ہیں بلکہ یہ بتاناضروری سمجھتے ہیں کہ کشمیریوں کی ذہنی اذیت بہت تکلیف دہ ہے۔ وہاں نہ ہی ذہنی تشدد سے متاثر ہونے والوں کا کوئی علاج ہورہا ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ کس طرح ان لوگوں کی مدد کی جائے تاکہ وہ ذہنی اذیت سے باہر نکلیں۔ اس موقع پرکشمیرپر ایک دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی۔فرینڈز آف کشمیر گروپ کی شریک چیئرپرسن مس آنتھیا میکنٹائرنے بتایاکہ وہ کوشش کررہی ہے کہ آئندہ سال ایک وفد کشمیر لے کر جائیں تاکہ حقائق سے آگاہی حاصل کی جاسکے۔ انھوں نے کہاکہ یورپ میں کشمیر پر مزید آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ایم ای پی جولی وارڈ نے کہاکہ اس وقت فلسطین کے مسئلے کو زیادہ اہمیت مل رہی ہے۔ اس کی وجوعات کیا ہیں؟ حالانکہ مسئلہ کشمیر اس سے مشابہت رکھتاہے۔ مشرق وسطی میں اسرائیل واحد جمہوری ملک ہونے کا دعوی کرتاہے اور جنوبی ایشیا میں بھارت سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار ہے۔ مسئلہ کشمیر کی وجوعات سامنے لانی ہوں گی تاکہ اس کا منصفانہ حل تلاش کیا جاسکتاہے۔ دونوں اراکین یورپی پارلیمنٹ ( ایم پی پیز) نے کشمیرکونسل ای یو کے کام سراہتے ہوئے کہاکہ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکل جانے کے بعد بھی مسئلہ کشمیرپر یورپ میں کوششیں جاری رہنی چاہیں۔ اس کے لیے زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔ اس کام کی مضبوط بنیاد رکھ دی جائے تاکہ یہ سلسلہ جاری رہے۔مقررین نے کہاکہ مسئلہ کشمیر سات دہائیوں سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے اور گذشتہ اڑھائی عشروں سے مقبوضہ خطے میں سترہزار افراد شہید، آٹھ ہزار سے زائد لاپتہ ہوچکے ہیں اور چھ ہزار سے زائد گم نام قبریں دریافت ہوئی ہیں۔اس دوران تشدد بشمول جنسی، جسمانی اور ذہنی تشدد، جبری طور پر لاپتہ ہونے کے بے شمار واقعات ہوئے ہیں اور گذشتہ سال سے پیلٹ گن کے استعمال سے کم از کم تین سو افراد سری نگر میں زخمی ہوکر ہسپتال پہنچے جن میں سے سولہ افراد ایسے ہیں جو اپنی آنکھوں کی بینائی سے مکمل محروم ہوچکے ہیں۔مقررین نے مزید کہاکہ افسوس ہے کہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں، قتل عام، جبری گم شدگی، تشدد، جنسی تشدد اور ظلم و ستم کے دیگر واقعات جاری ہیں۔ بھارتی فوجی نہتے مظاہرین پر بندوق چلانے سے بھی اجتناب نہیں کرتے، لوگوں کو پرامن مظاہرہ کرنے اور اپنے حق میں آواز بلند کرنے کی بھی اجازت نہیں۔عالمی برادری مقبوضہ کشمیرکی گھمبیرصورتحال کا فوری نوٹس لے۔ وادی کی صورتحال روزبروزخراب ہوتی جارہی ہے۔اس موقع پر چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے کہاکہ قابض حکام انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہورہے ہیں۔ بڑاافسوس ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بڑی شدت سے جاری ہیں لیکن بھارت کو کوئی روکنے والانہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیرمیں بھیانک کاروائیوں میں ملوث ہے اوریہ کاروائیاں انسان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔ علی رضا سید نے کشمیرکے تنازعے کے منصفانہ حل پر زوردیااور اس سلسلے میں کشمیریوں کی خواہشات پرعمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہم عالمی برادری خصوصا یورپین کو مقبوضہ کشمیرکی صورتحال کو آگاہ کرتے رہیں گے۔ ہمارا فرض ہے کہ دنیاکے سامنے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کریں ۔ علی رضا سید نے انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے مقبوضہ کشمیرکے عوام کے ساتھ بھی مکمل یکجہتی کا اظہارکیا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved