عام انتخابات میں ترقی پسند امیدواروںکی امداد کیلئے 10رکنی کمیٹی کا قائم
  8  جنوری‬‮  2018     |     یورپ

راچڈیل(پ ر) برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد ترقی پسندوں کا اجلاس، الیکشن 2018 میں ترقی پسند امیدواروںکی امداد کے لئے 10رکنی کمیٹی کا قیام، عوامی ورکرز پارٹی کے پرویز فتح کمیٹی کے کوآرڈی نیٹر مقرر، کمیٹی ترقی پسند امیدواروں کے الیکشن منشور کی تیاری، سلوگن، لیف لیٹ کی سادہ اور لوکل زبانوں میں تیاری میں مدد کے علاوہ مالی معاونت شامل ہوگی۔ کمیٹی صرف ایسے امیدواروں کی حمایت کرے گی جو ملک میں کینسر کی طرح پھیلی ہوئی مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی کے خلاف پرعزم ہوں۔ ملک میںصدیوں پرانے اور فرسودہ جاگیرداری نظام کے خلاف اور ملک کو ایک فلاحی ریاست بنانے کے لئے سرگرم ہو۔ راچڈیل میں ہونے والے اس اجلاس کی صدارت معروف ترقی پسند ادیب، افسانہ نگار اور صحافی احمد نظامی اور عوامی ورکرز پارٹی نارتھ برطانیہ کے جنرل سیکرٹری پروفیسر محسن ذوالفقار نے کی۔ جبکہ اظہار خیال کرنے والوں میں ذاکر حسین ایڈووکیٹ، پرویز فتح، شاہین بٹ، محمد ضمیر بٹ، لالہ محمد یونس، نصرت علی طور، انیس حیدری زیدی، اور سعید احمد شامل تھے۔ اجلاس میں پاکستان کی سیاسی، سماجی، معاشی اور ریاستی معاملات میں مذاہب اور دفاعی اداروں کی مداخلت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان قائد اعظم کے انتقال کے ساتھ ہی امریکی امداد اور اسلحہ کے حصول کے لئے امریکی غلامی میں چلا گیا تھا۔ جاگیرداروں نے مسلم لیگ پر قبضہ کرلیا جبکہ اسٹیبلشمنٹ نے سیاسی معاملات میں مداخلت اور حکومت پر قبضہ کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔ملک کو ایک آزاد، خودمختار اور ایک رفاعی ریاست بنانے کی بجائے ایک سیکیورٹی سٹیٹ بنالیا جس کی بدولت بیوروکریسی کی حکومتی معاملات میں مداخلت بڑھتی ہی گئی۔ دوسری طرف سیاسی محاذ پر پاکستان کے قیام کی حمایت کرنے والی کمیونسٹ پارٹی کو ملک دشمن قرار دے دیاگیا جبکہ مخالفت کرنے والی اور قائد اعظم کو کافرِ اعظم کہنے والی مذہبی جماعتوں کو ملک دوستی کے سرٹیفکیٹ جاری ہونے لگے۔ ملک میں ایک متوازن سیاسی ماحول پیدا کرنے کی بجائے مذہبی رجحانات کو بھارا گیا اور مذہبی سیاسی جماعتوں کو بیوروکریسی کی بی ٹیم کے طورپر تحفظ فراہم کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک طرف مذہبی شدت پسندی کو ہوا ملتی گئی تو دوسری طرف بیوروکریسی کی حکومتی معاملات میں مداخلت بڑھتی گئی اور پاکستان کی افواج اقتدار پر براہ راست قبضہ کرنے لگیں۔ ملک میں سیاسی ماحول اور مذہبی ہم آہنگی کی بجائے فرقہ پرستی پنپنے لگی جو وقت کے ساتھ ساتھ مذہبی انتہا پسندی کی شکل اختیار کرنے لگی۔ جنرل ضیاء کا دور سیاہ ترین دور تھا جس میں امریکی سی آئی اے اور سعودی فنڈنگ سے مدرسوں کا جال بچھایا گیا، دنیا بھر سے جہادی بھرتی کرکے لائے گئے اور ان کی مناسب ٹریننگ کے بعد افغانستان میں جہاد کے نام پر مداخلت شروع کردی گئی جوں جوں وقت گزرتا گیا مذہبی انتہا پسند جماعتوں اور گروپوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور اب کہ ملک کے بالادست طبقات، رولنگ سیاسی جماعتوں اور دفاعی اداروں سمیت سب ان گروپوں کو اپنے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ حالیہ دھرنوں، ان میں استعمال ہونے والی زبان، ملکی اداروں کی جانب سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی روش نے ملکی سلامتی اور یکجہتی کے لئے زبردست خطرات پیدا کردئے ہیں۔ چند روز قبل پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا کہ ان پر دباؤ ڈالا جارہا تھا کہ یونیورسٹی کی جین مندر کے قریب 2 کنال زمین ایک مذہبی انتہا پسند کالعدم تنظیم کو مدرسہ بنانے کے لئے دی جائے یہ سب ملکی قیادت اور اداروں کے ذہنی دیوالیہ پن کی علامت ہے جو دن بدن ملک کے لئے خطرات پیدا کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان تماشہ بنا ہوا ہے اور ملکی شہریوں کے لئے غیر محفوظ بنتا جارہا ہے اگر اس کو کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ اپنے ہی شہریوں کے لئے جہنم بن جائے گا۔ دوسری طرف ملک کے تعلیمی اداروں میں جو نصاب پڑھایا جاتا ہے وہ نووجانوں میں وسیع النظری کی بجائے ننگ نظری اور انتہا پسندی کو جنم دے رہا ہے۔ اس سب میں افسوسناک امر یہ ہے کہ رولنگ سیاسی جماعتوں اور دفاعی اداروں میں بے حسی اور مستقبل کے بارے میں سوچنے کی بجائے باہمی لڑائیاں اور ایک دوسرے کو گرانے کے لئے کوشاں ہیں۔ مقررین نے کہا کہ ہمارے خیال میں پاکستان میں ترقی پسند سوچ کی ترویج و ترقی کے لئے برطانیہ میں مقیم ترقی پسند اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اسی لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ترقی پسند امیدواروں کی شعوری اور مالی مدد کی جائے۔ ایسی امداد کو وسیع پیمانے پر لٹریچر تیار کرنے، الیکشن منشور، پمفلٹ، پوسٹرز کی تیاری بالخصوص عوام کے لوکل مسائل اور ان کے سماجی تبدیلی کی جدوجہد سے تعلق جوڑنے کے ساتھ ساتھ وسیع پیمانے پر رابطے اور لوگوں کو سیاسی عمل میں ترقی پسند تحریک کے ساتھ جوڑنے کے لئے مخصوص ہوگی۔ اجلاس میں 10 رکنی کمیٹی بنائی گئی جس میں ذاکر حسین ایڈووکیٹ، وقاص بٹ، پروفیسر محقق ذوالفقار، ڈاکٹر حسن جاوید، ممتاز ترقی پسند ادیب احمد نظامی، خالد سعید قریشی، انیس حیدر زیدی، نصرت علی طور، لالہ محمد یونس اور پرویز فتح شامل ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved