پیرعبدالقادرگیلانی کاروحانی فیض تاقیامت جاری رہے گا،غوث اعظم کانفرنس
  10  جنوری‬‮  2018     |     یورپ

لوٹن(اوصاف نیوز) مرکزی جماعت اہلسنت یو کے اینڈ اوورسیز ٹرسٹ کے بانی و سرپرست اعلیٰ مفکر اسلام علامہ ڈاکٹر پیر سید عبدالقادر گیلانی نے جامعہ اسلامیہ غوثیہ 23 ویسٹ بورن لوٹن میں 32 ویں سالانہ غوث الاعظم کانفرنس المعروف بڑی گیارہویں شریف کے ایک بڑے اجتماع سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سید السادات شیخ المشائخ، تاج العارفین، راہبر اکابرین، وارث کتاب اللہ، نائب رسول اللہ پیران پیر، دست گیر، قطب ربانی غوث حمدانی،محبوب سبحانی محی الدین ابو محمد سید عبدالقادر گیلانی غوث اعظم نے اپنے سیرت و کردار اور علم و فراست تقویٰ و طہارت اور بارگاہ رسالت مآب اور بارگاہ مولائے کائنات سے حاصل کئے گئے فیض سے پورے عالم اسلام کو علمی اور روحانی طورپر فیض یاب کرتے ہوئے دین کو از سر نو حیات جاودانی بخشی، اسی لئے آپ کا مشہور لقب محی الدین ہے یعنی دین کو زندہ کرنے والا یہ لقب اور اعزاز بھی آپ کو بارگاہ رسالت مآب سے روحانی طورپر عطا کیا گیا تھا۔سیدنا غوث اعظم عبدالقادر گیلانی کی روشن آنکھوں سے عالم مثال میں دین کو جس خستہ و خراب حالت میں دیکھا تھا دراصل اور درحقیقت تمام عالم اسلام میں دین کی کمی وہی حالت زار تھی۔ ہرجگہ بدی کے اندھیروں کا راج تھا۔ نیکی کا نور معدوم ہو رہا تھا۔ شرافت کے اجالے دم توڑ چکے تھے۔ انسانیت کا خون ہو رہا تھا۔ اخلاق کا دیوالیہ نکل چکا تھا۔ ایسے پراگندہ ماحول میں اصلاح بھلا کیسے ہوسکتی تھی۔ یہ محض کسی ایک فلسفی، عالم یا فقیہ کے بس کا کام نہ تھا بلکہ اس کیلئے کسی ایسے عارف کامل کی ضرورت تھی جو پورے طورپر عشق الہیٰ اور اتباع و محبت رسول سے سرشار اور علمی اور روحانی قوتوں سے سرشار ہو جس کی نگاہ فیض سے ہر کوئی فیض یاب ہو۔ اور تمام شیطانی قوتیں دم توڑ دیں جس کی نظر کیمیا سے تاریک دل نور سے معمور ہوجائیں اس مقصد عظیم کو حاصل کرنے کیلئے قدرت کاملہ نے اپنے محبوب بندے سیدنا عبدالقادر غوث اعظم کو پیدا فرمایا اور آپ نے اپنی روحانی قوت سے تمام شیطانی حربوں کو ناکارہ کرکے باطل قوتوں کو پاش پاش کردیا۔ آپ کے نعرہ حق سے فضائیں گونجنے لگیں آپ کے روحانی فیض و برکات سے تاریک سینے نور معرفت کے خزینے بننے لگے۔ آپ سرتاج اولیاء ہیں اور آپ سے تمام سلاسل طریقت کے اکابرین نے حصول فیض کیا ہے آپ منبع ولایت اور سراپا کرامت ہیں اور آپ کا روحانی فیض و تعرف آج بھی جاری ہے اور صبح قیامت تک جاری رہے گا۔ بلاشبہ غوث اعظم قدرت کا انتخاب لاجواب ہیں جن کی زندگی کا ہر لمحہ اسلام کی ترویج و اشاعت اور انسانیت کی خدمت میں گزرا۔ مفکر اسلام نے مزید کہا کہ سیدنا غوث اعظم نے ملحدوں کو توحید ربانی کا سبق پڑھایا۔ سرکشوں کو عشق رسول سکھایا۔ لوگوں کو بدعت سے نفرت دلائی۔ جاہ پرستوں کو دنیا سے برغربتی سکھائی۔ اللہ کی مخلوق کو صراط مستقیم پر چلنے کی رہنمائی کی۔اخلاق کی اصلاح کی اور شریعت کی تعلیم دی۔ آپ کی نورانی شخصیت کے فیوض و برکات تمام عالم اسلام میں جاری و ساری ہیں۔ آپ کی نورانی تعلیمات برعہد پر حاوی ہیں آپ کی ذات بابرکات ہر دور کیلئے مینار نور ہے۔کانفرنس کے مہمان خصوصی پیر سید بلال حسین چشتی سجادہ نشین دربار عالیہ اجمیر شریف نے کہا کہ سرکار غوث پاک کا ارشاد ہے کہ میرا قدم ہر ولی کی گردن پر ہے اور جب یہ میرے آقا نعمت مسند ولی عطائے رسول سلطان الہند نے آپ کا یہ اعلان سنا تو عرض کیا کہ میرے سر اور آنکھوں پر آپ کی اس عقیدت و محبت نے آپ کو سلطان الہند اور غریب نواز بنادیا۔ آج پوری دنیا میں آپ کا وہ فیض جاری ہے جو آپ کو سرکار غوث پاک اور داتا گنج بخش سید علی ہجویری کی بارگاہ سے حاصل ہوا ہے اور غریب نواز کے عقیدت مندوں میں لاکھوں غیر مسلم بھی شامل ہیں جو آپ کو غریب نواز کہہ کر پکارتے ہیں۔ اور آپ کے روضے مزار انور پر تمام مذاہب کے لوگ حاضری دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 32ویں سالانہ غوث اعظم کانفرنس کی شاندار کامیابی غوث اعظم اور غریب نواز کے فیضان کا مظہر ہے جس کیلئے علامہ چشتی اور لوٹن کے مسلمان مبارکباد کے مستحق ہیں۔ مرکزی جماعت اہلسنت یو کے اینڈ اوورسیز ٹرسٹ کے جنرل سیکرٹری جامعہ غوثیہ کے مہتمم اور کانفرنس کے میزبان خطیب ملت علامہ قاضی عبدالعزیز چشتی نے کہا کہ اس کانفرنس کے انعقاد کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم سرکار غوث اعظم کے نظریات و افکار اور آپ کے عقائد کو یورپ کے گھر گھر میں پہنچائیں۔ گیارہویں شریف تبلیغ دین اور احیائے دین کی وہ زندہ جاوید تحریک ہے جسے غوث پاک کی براہ راست سرپرستی حاصل ہے اور بغیر کسی بیرونی فنڈنگ کے پوری دنیا میں جاری ہے۔ سرکار غوث پاک کی سیرت سنّت رسول کا عکس جمیل تھی آپ ہمیشہ ناداروں کمزوروں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اور غریبوں مسکینوں کی دل جوئی فرماتے مہمانوں کی تواضح کرتے آپ خود فرماتے ہیں کہ ساری دنیا کی دولت اگر میرے قبضے میں ہو تو بھوکوں کو کھانا کھلادں۔آپ کی زندگی کا ہر لمحہ خدمت خلق کیلئے وقف تھا۔ مدرسہ قائم تھا خانقاہ کھلی ہوئی تھی۔ ہر وقت لنگر جاری تھا، تعلیم و تربیت کے حلقے قائم تھے۔ ایک ایک دن میں چالیس چالیس ہزار تک کی نذر آتی لیکن شام تک غریبوں، مساکین میں تقسیم کردی جاتی اپنی ذات پر کچھ بھی خرچ نہ کرتے خود روزے رکھتے مگر بھوکوں کو خوب کھانا کھلاتے سرکار غوث پاک فرماتے ہیں ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنا اور سب کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے سے بہتر کوئی عمل نہیں۔ علامہ چشتی نے کہا کہ آج دنیا میں دہشت گردوںنے جو امن عالم کو تباہ کرنے کا پروگرام بنارکھا ہے اس کا فقط حل یہ ہے کہ اولیائے کرام اور غوث اعظم کے پیغام امن و محبت کو عام کیا جائے اور اُن کی سیرت و کردار کو اپناکر اس دنیا کو امن و آشتی کا گہوارہ بنادیں۔نوجوان اسلامک سکالر اور مہریہ سکول کے ہیڈ صاحبزادہ قاضی ضیاء المصطفیٰ نے کہا کہ غوث اعظم محبت و شفقت کا نورانی پیکر تھے سب سے بڑے عالم شریعت اور امام طریقت ہونے کے باوجود آپ سب سے بڑے کریم النفس اور خوش اخلاق اور رقیق القلب اور عجز و انکسار کے پیکر تھے آپ کی نسبت و تعلق خاتمہ بالخیر کی ضمانت ہے۔ سرکار غوث پاک خود فرماتے ہیں کہ میرا مرید استقامت دین پر داعی اجل کو لبیک کہے گا آج آئیے ہم تجدید عہد کریں کہ ہم غوث پاک کے مشن کے نقیب بن جائیں اور اپنی سیرت و کردار کو اُن کا مطیع کرلیں تو انشاء اللہ دونوں جہانوں کی عزتیں اور سرفرازیاں حاصل ہوجائیں گی۔جامع مسجد الحراء لوٹن کے امام علامہ واجد حسین چشتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سرکار غوث اعظم کا علمی مقام اتنا بلند تھا کہ آپ حلقہ درس میں بسا اوقات ستر ہزار سے بھی زائد لوگ شامل ہوتے اور آپ کی یہ زندہ جاوید کرامت تھی کہ دور اور نزدیک بیٹھنے والے یکساں سماعت کرتے تھے آپ نے ہمیشہ سچ بولا اور جھوٹ سے نفرت کی اور آپ کی سچائی کے ایک واقعہ نے ڈاکوؤں کے سردار سمیت پورے قافلے کو توبہ کی توفیق عطا کردی۔مولانا علامہ قاضی عبدالرشید چشتی نے کہا کہ سرکار غوث اعظم کے مجاہدے کا یہ عالم تھا کہ خود فرماتے ہیں کہ چالیس سال تک عشاء کے وضو سے صبح کی نماز ادا کی ہے۔ آپ نے ہمیشہ حق و صداقت کے عَلَم کو بلند رکھا اور شریعت مطہرہ کی بالادستی کو برقرار رکھا۔کانرنس کا آغاز حافظ محمد شعیب کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا جبکہ پاکستان سے آئے ہوئے ممتاز و معروف نعت خوانوں جن میں صاحبزادہ سید الطاف حسین کاظمی، حافظ احمد رضا قادری، محمد ذوالفقار حسینی، طارق محمود ہمدانی، سید عباس شاہ نے اپنی خوبصورت آوازوں میں بارگاہ رسالت مآب میں اور بارگاہ غوثیہ میں ہدیہ تبریک پیش کیا۔ جن دیگر نے خطاب کیا ان میں علامہ حافظ عاصم حسین مرزا، علامہ انعام الحق قادری، حافظ اشتیاق حسین شامل میں۔سابق میئر والتھم سٹو چوہدری لیاقت علی، چوہدری شوکت علی شرکت و اظہار خیال کرنے والوں میں۔ سابق میئر کونسلر راجہ وحید اکبر سابق میئر کونسلر محمد ریاض بٹ، کیبنٹ ممبر کونسلر راجہ محمد اسلم، ملک محمد شبیر، پروفیسر محمد ممتاز بٹ، ملک محمد آزاد، راجہ منشی خان قادری، صوفی کرامت حسین قادری، صاحبزادہ قاضی عطاء الکبریا، ڈاکٹر احمد میر، چوہدری محمد توصیف و دیگر شامل تھے۔ آخر میں شرکاء نے ملکر بارگاہ رسالت مآب میں ہدیہ درود و سلام پیش کیا جبکہ مفکر اسلام علامہ ڈاکٹر پیر سید عبدالقادر گیلانی نے اجتماعی دعا کرائی۔کانفرنس کے میزبان خطیب ملت علامہ قاضی عبدالعزیز چشتی نے تمام شرکاء کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور اس کانفرنس کی کامیابی پر اپنی ٹیم کے تمام احباب بالخصوص نوجوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved