دھرنوں اوراحتجاج کی سیاست سے گریزکیاجائے،راجہ شبیرخان
  11  جنوری‬‮  2018     |     یورپ

لیوٹن (پ۔ر) سابق وزیر اعظم پاکستان اور مسلم لیگ پاکستان (ن) کے صدر محمد نواز شریف کی عدل تحریک سے پاکستان کے عوام عدل و انصاف اور بر وقت فیصلوں سے مستفید ہو سکتے ہیں ۔ بشر طیکہ ایک منظم مہم کے تحت 2018 کے انتخابات کا حصہ بنایا جائے اور الیکشن میں کامیابی کے بعدعدالتی نظام میں بہتری لانے کے لیے قومی مفادات کے مطابق عدالتی نظام میں بہتری لائی جائے اور بالخصوص دوران تعیناتی ججز سفارشی کلچر اور جیالہ نوازی سے اجتناب کرتے ہوئے میرٹ کے مطابق ججز کا چناو کیا جائے تاکہ عدالتی نظام میں بہتری لا کر پاکستان کے عوام کو صاف شفاف اور قانون کے مطابق فیصلے دے کر قومی امنگوں کی ترجمانی کی جائے اور نچلی سطح کے نظام سے لے کر اوپر تک رشوت ستانی کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کے لیے اعلیٰ اوصاف کے مالک افراد پر مشتمل عدلیہ میں مانیٹرنگ سیل قائم کیا جائے تاکہ عدالتی نظام کو صاف اور شفاف بنایا جا سکے اور بالخصوص فیصلوں کے لیے ٹائم فریم دیا جائے جسکا وقت زیادہ سے زیادہ دو سال مقرر ہو۔ اور اپیل کی مدت بھی زیادہ سے زیادہ ایک سال مقرر ہو تاکہ قوم کو بر وقت اور زیادہ سے زیادہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ پاکستان کے چاروں صوبوں وفاق اور آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی سپیشل کورٹس مقرر کر کے تارکین وطن کو جلد اور سستا انصاف فراہم کیا جائے ۔ تاکہ پاکستان کی معیشت میں ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے کشمیری اور پاکستانی اوور سیز زر مبادلہ میں مذید بہتری لا سکیں ۔ان خیالات کا اظہار یورپ اینڈ ایشیاء ہیومین رائٹس کمیشن کے چیئر مین راجہ محمد شبیر خان ایڈوکیٹ نے اپنے ایک بیان میں کیا ۔ انھوں نے کہا کہ عدلیہ کے عزت و احترام سے قوم و ملک کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے ا نہو ں نے کہا کہ قومی انتخابات 2018 اور مارچ میں ہونے والے سینٹ کے انتخابات میں رخنہ ڈالنے کے لیے شاید ایک اور یحیٰ خان تیار کیا جا رہا ہے جس کے پاکستان کے عوام متحمل نہیں ہوسکتے اس سے قبل 1971 کے انتخابات میں بے انصافی اور جانب داری کے اقدامات کر کے ملک دو لخت ہو گیا اور پاکستان کے عوام ایک بڑے سانحہ سے دو چار ہو گئے اور پاکستان کو دنیا میں رسوائی سے دوچار ہونا پڑا ۔اور پاکستانی قوم جنرل نیازی کی غیر دانشمندانہ حکمت عملی اور یحیٰ خان کی غلط پالیسی اور پیپلز پارٹی کی وجہ سے آج بھی پاکستانی عوام اس سیاہ تاریخ کو ابھی تک نہیں بھولے اور اگر اندرونی اور بیرونی سازشوں کا حصہ بن کر کچھ لوگ پاکستان کو پھر ایک مشکل میں ڈالنا چاہتے ہیںجو پاکستان اور پاکستان کی عوام اب کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے ا ب دھرنوں اور احتجاج کی سیاست نہ کی جائے جس سے ملک غیر مستحکم ہو اور جمہوری نظام ڈی ریل ہو ، راجہ محمد شبیر خان نے کہا کہ مسلم لیگ ،پیپلز پارٹی اور پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ اور رہنماوں کو آزادانہ طور پر قومی الیکشن میں حصہ لینے کی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ اعلیٰ اوصاف کے مالک اور تعلیم یافتہ لوگ قوم کی اصل نمائندگی کر سکیں کسی ادارے یا افراد کو ایسی منفی سرگرمیوں سے گریز کرنا ہو گا جس کی وجہ سے پاکستان کے قومی مفادات کو نقصان پہنچے اور ملک کی سلامتی اور بقاء دائوپر لگے۔ پاکستان کی موجودہ اور مستقبل کی حکومتوں کو چین ،ترکی،سعودی عرب کی طرح برطانیہ یورپ اور امریکہ سے بھی بہتر اور دوستانہ تعلقات رکھنے کے لیے بہترین سفارت کاری کے زریعے اقدامات کرنے چاہیے تاکہ پاکستان کے لیے بہتری آ سکے بالخصوص امریکہ کو بھارت کے چنگل سے نکل کر برابری کی سطح پر پاکستان سے تعلقات رکھنے چاہیے جو دونوں ممالک کے مفادت میں ہیں ۔ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اور بالخصوص مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے خلاف اقوام عالم بین القوامی قوانین کے مطابق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت بھارت کے خلاف اقدامات کیے جائیں ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved