بڑے یورپی ملک کی عدالت کامعروف مسجدمنہدم کرنے کاحکم۔۔عالم اسلام میں تشویش
  7  فروری‬‮  2018     |     یورپ

لندن (ویب ڈیسک )مشرقی لندن میں واقع مسجدAbbey Mills جو "مسجد الیاس" کے نام سے بھی جانی جاتی ہے، اس مسجد کو یورپ کی سب سے بڑی مسجد بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ تاہم اب اسے انہدام کا سامنا ہے۔ منگل کے روز برطانیہ کی سپریم کورٹ نے مسجد کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس زمین پر مسجد تعمیر کی گئی بلدیہ کے مطابق وہ کسی اور مقصد کے لیے مخوص تھی۔مشرقی لندن کے علاقے اسٹریٹفورڈ میں واقع اس مسجد میں ہفتہ وار نمازیوں کی اوسط تعداد 2000 کے قریب ہے۔ اس کی تعمیر ایک عارضی اسلامی مرکز کے طور پر جس اراضی پر ہوئی اسے 1996 میں تبلیغی جماعت سے وابستہ کارکنان نے خریدا تھا۔ اس سے قبل یہاں ایک کیمیکل فیکٹری قائم تھی۔متنازع مسجد کے انہدام سے متعلق عدالتی حکم کی خبر کو متعدد مقامی ذرائع ابلاغ نے شائع کیا۔ ان میں "دی ٹائمز" اخبار نے بدھ کی اشاعت میں بتایا کہ تبلیغی جماعت نے مسجد کی تعمیر کے وقت ہی اس کی توسیع کی منصوبہ بندی کر لی تھی تا کہ یہاں "ہزاروں افراد" نماز ادا کر سکیں۔ لہذا مقامی میڈیا نے اپنی للچائی نظریں اس "عظیم الشان" مسجد کے منصوبے پر لگا دیں۔بہرکیف اندیشوں اور تشویش کو کم کرنے کے لیے تبلیغی جماعت نے مسجد کی گنجائش 9310 نمازیوں تک کم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ادھرNewham ٹاون کونسل نے 18 ہزار مربع میٹر کی اراضی پر مسجد کی توسیع کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس لیے کہ یہ اراضی درحقیقت ہاؤسنگ اور تجارتی مقاصد کے لیے مختص کی گئی تھی۔سال 2015 میں توسیع کو مسترد کرنے کے حوالے سے سرکاری حکومتی تائید بھی جاری کر دی گئی۔ تبلیغی جماعت کو 3 ماہ کی مہلت دی گئی تا کہ وہ اس اراضی کو مسجد کے واسطے مخصوص کرنے سے رک جائیں۔ تاہم جماعت نے

فیصلے کے خلاف اپیل کر دی اور یہ سلسلہ دو برس سے زیادہ عرصے تک جاری رہا۔ آخرکار برطانیہ کی سپریم کورٹ نے مسجد کے انہدام کا فیصلہ جاری کیا اور اس پر عمل درامد کا اختیار بلدیاتی کونسل کو مل گیا۔ البتہ تبلیغی جماعت 16 فروری تک فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتی ہے، بصورت دیگر انہدام کی کارروائی کا آغاز ہو جائے گا۔گزشتہ برس 27 دسمبر کو مصری اخبار "الاہرام" میں احمد عطا کا ایک مضمون شائع ہوا۔ مضمون میں بتایا گیا کہ الاخوان تنظیم کے نائب مرشدِ عام ابراہیم منیر نے تنظیم کے تمام ارکان اور کارکنان سے مطالبہ کیا کہ وہ اُن تمام مصریوں کے لیے بد دعا کریں جنہوں نے خلافت کے منصوبے کو سپورٹ نہیں کیا۔ بعد ازاں یہ تنظیم کا یہ مجمع برطانیہ بلکہ یورپ کی سب سے بڑی مسجد یعنی اسٹریٹ فورڈ میں مسجد Abbey Mills میں جمع ہوا تا کہ مصر اور مصریوں کے خلاف اجتماعی بد دعا کا اہتمام کر سکے۔مضمون نگار کے مطابق مسجد پہنچنے والوں میں ترکی میں الاخوان تنظیم کا ذمّے دار اور مفرور رہ نما السکندری مدحت الحداد ، غد الثورہ پارٹی کا سابق مفرور رہ نما ثروت نافع ، قطر کی ریاستی سکیورٹی ادارے میں فنڈنگ یونٹ کا ذمّے دار بریگڈیئر جنرل "زياد الامام" اور ایک رہ نما عزام سلطان التمیمی شامل تھا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved