ن لیگ کاوجودنوازشریف کی سیاست کے ساتھ ہی ختم ہوگیا،راناجہانزیب
  7  فروری‬‮  2018     |     یورپ

بر سٹل (تنو یر بخا ر ی )میا ں نو ا ز شر یف کو بے بس کشمیری عوام کو بے وقوف بنانے نہیں دینگے۔س وقت نواز شریف کا زہنی توازن خراب ہو چکا ہے اور وہ اس حقیت کو ماننے کیلئے تیار نہیں کہ انھیں پاکستان کی اعلی ترین عدلیہ نے پاکستانی عوام کے ساتھ دھوکہ دہی کرنے پر حکومت سے برطرف کرکے مستقبل کیلئے بھی یہ کہہ کر نااہل کردیا ہے کہ آپ نے عوام سے جھوٹ بولا اس لئے آپ پبلک آفس ہولڈ کرنے کیلئے اہل نہیں۔ اب حالات یہ ہیں کہ تین مرتبہ وزیراعظم رہ چکا شخص جب کشمیر جیسی مقدس ریاست جسے اکثر جنت سے تشبیع دی جاتی ہے میں جاتا ہے تو بجائے یہ بتانے کے کہ اس نے انڈیا میں اپنا کاروبار کیوں بڑھایا اس نے ہندوستانی جاسوسوں کو اپنی پاکستانی فیکٹریوں کے ویزوں پر کیوں بلوایا اور انھیں پناہ کیوں دی۔ انکی نواسی کی شادی پر جندل اور ہندوستان کی خفیہ ایجنسی کے لوگ بغیر ویزے کے پاکستان کی سرزمین پہ کیسے موجود تھے اور یہ کہ انھوں نے کشمیری عوام کیلئے آج تک کیا کیا ہے وہ کشمیری عوام جو پاکستان اور اپنی ریاست کی بقا کیلئے آزادی سے لیکر ابتک اپنا خون دے رہی ہے ۔ان خیا لا ت کا ا ظہا ر پا کستا ن تحر یک ا نصا ف بر سٹل کے ر ہنما رانا جہا نز یب نے نما ئند ہ اوصا ف سے با ت چیت کر تے ہو ئے کیا۔ا نہو ں نے مز ید کہا کہ نکے نوجوانوں کے خون کی قربانیوں کا حساب دینے کی بجائے،وہاں جاکر بھی موصوف یہی پوچھتے رہے کہ "مجھے کیوں نکالا"۔ کشمیری عوام کا نواز شریف سے یہ سوال بھی بنتا ہے کہ جب بھی وہ عوام کے ٹیکس کے پیسے پر ہندوستان گئے ہیں تو کشمیری لیڈرز یا کشمیر کمیٹی کے سربراہان کو ساتھ لیجانا تو دور کی بات انھوں نے دلی میں موجود مقبوضہ کشمیر کے لیڈرز سے ملاقات تک کرنا بھی گوارا کیوں نہ کی وہ اپنے خود ساختہ اور پاکستانی عوام کے پیسوں کی انویسٹمنٹ سے بنائے گئے بزنس مین بیٹوں اور آدھے خاندان کے ہمراہ اپنے ہندوستانی بزنس پارٹنر کے گھر جانے کو کیوں ترجیح دی۔ وہ کشمیری عوام جن کے لگ بھگ 26 کے قریب جوان صرف ایک ازان پوری کرنے کیلئے اپنی جان کی بازی لگا گئے انکی یادداشت اتنی تو کمزور نہیں ہو سکتی۔ مجھے یقین ہے کہ اگر کوئی صحافی بھائی جلسے کے بعد کشمیری عوام کی رائے لینے جاتا تو وہ اپنا موقف ضرور دیتے اور بتاتے کہ کشمیری عوام آپکو تین دہائیوں سے دیکھتی آرہی ہے آپ نے محض اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے اور کچھ نہیں کیا۔ کشمیری عوام کے ساتھ زیادتی یہ بھی ہے کہ کشمیر کمیٹی کا سربراہ مولانا فضل الرحمن کو بنا دیا گیا جس نے محض پروٹوکول اور بینیفٹ انجوے کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا۔ یوں لگتا ہے کہ نواز شریف کی سیاست کے ساتھ ہی مسلم لیگ نون کا وجود بھی ختم ہوگیا ہے اور یہی نقصان ہے موروثی سیاست کا جو ایک فرد یا اسکے خاندان کے گرد گھومتی رہتی ہے اور باقی سارے کارکن بس اشارے کے غلام ہوتے ہیں۔ مگر ہم بحیثیت پاکستانی اور تحریک انصاف اور عمران خان کے سپاہی ہونے کے ناطے آپ سب کشمیری عوام سے وعدہ کرتے ہیں کہ جس طرح پاکستان میں ہم نے نواز شریف کی سیاسی کاروباری دکان بند کرائی ہے کشمیر میں بھی اسی طرح کرائیں گے اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے پر مسل کشمیر سے پیچھے ہٹیں گے اور نہ ہی منہ موڑ ینگے۔ انشااللہ


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved