کشمیری قوم شہیدمقبول بٹ کی میت کی منتظر ہے،تنویراحمدچوہدری
  12  فروری‬‮  2018     |     یورپ

سٹاک ہوم (عاف کسانہ نمائندہ خصوصی)جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یورپ نے ایک مرتبہ پھر بھارتی حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ شہید کشمیر مقبول بٹ کا جسد خاکی ان کے اہل خانہ اور اہل وطن کے حوالے کیاجائے، مقبول بٹ شہید کے 34ویں یوم شہادت کے موقع پر یورپ کے دارلحکومت برسلز میں ایک احتجاجی مظاہرے میں کہاگیا ہے کہ کشمیری قوم مقبول بٹ شہیدکی میت کی منتظر ہے، ان خیالات کا اظہار جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یورپ کے صدر تنویر احمد چوہددری نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں کشمیری عوام 11فروری کو اپنے حق خود اختیاری ،آزادی اور ایک متحدہ کشمیر کے حصول کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ بھارت نے 11فروری 1984کو مقبول بٹ کے عدالتی قتل کے بعد بھارتی حکمرانوں نے ان کی میت ان کے ورثا اور اہل وطن کے حوالے کرنے کے بجائے تہاڑ جیل کے ایک کونے میں دفنادی ہے اور جموں وکشمیر کے مسئلے کے حل کے سلسلے میں ٹال مٹول کے ساتھ ہی باربار کے مطالبات کے باوجود مقبول بٹ کی میت بھی ان کے ورثا کے حوالے کرنے سے گریزاں ہے۔مقررین نے کہا کہ ان کو پھانسی دئے جانے کے بعد سے ایک خالی قبر ان کے جسد خاکی کو دفنانے کیلئے منتظر ہے تا کہ ان کی میت کو دھرتی کے بہادر سپوت کے شایان شان طریقے سے دفنایاجاسکے۔ کشمیر کے دونوں اطراف کے عوام مقبول بٹ کو اپنا ہیرو تصور کرتے ہیں وہ ایک قومی ہیرو ہیں اور ان کی شہادت کشمیری عوام کے اس عزم کی عکاس ہے کہ وہ ایک متحدہ کشمیر میں اپنی قسمت کے خود مالک بننااور اپنی منزل کا خود تعین کرنا چاہتے ہیں۔وہ ایک ایسا کشمیر چاہتے ہیں جو اس خطے میں امن وسکون کاگہوارہ ہوگا اور پڑوسیوں کے ساتھ امن وآشتی کے ساتھ رہے گا۔انہوں نے کہا کہ مقبول بٹ ایک خود مختار کشمیر کے پرزور حامی تھے اور وہ کشمیر پر بھارت یا پاکستان کسی کی بھی بالادستی قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔ مقررین نے مزیدکہا کہ مقبول بٹ کے جسد خاکی کے حصول تک اس کامطالبہ اور اس کیلئے جدوجہد جاری رہے گی ،بھارتی حکومت نے افضل گرو کی میت بھی ورثا کے حوالے کرنے سے انکار کردیاہے جن کوبھارتی حکومت نے فروری 2013میں پھانسی دیدی تھی۔بھارتی حکومت کے اس رویئے سے کشمیریوں کے شہری اورسیاسی حقوق کی پامالی کی عکاسی ہوتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارتی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ برقرار رکھنے اور اسے مزید مضبوط بنانے کیلئیانتقامی، ظالمانہ اور نوآبادیاتی حربے اختیار کر رہا ہے۔مقبول بٹ اور افضل گرو کو طویل عرصے تک زیر حراست رکھ کر جس طرح شہید کیا گیا اس سے بھارتی جمہوریت کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیاہے۔مقبول بٹ کی 34ویں برسی کے موقع پر سری نگر سے مظفرآباد اور لندن سے برسلز تک اور شمالی امریکہ سمیت دنیا کے تمام دیگر ممالک میں کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی اور مقبول بٹ کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے عزم کے اعادے کیلئے ریلیاں ، جلسے اور سیمینار ز کرکے پوری دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھایا جا رہا ہے۔ مظاہرین سے تنویر احمد چوہدری، شبیر جرال، مسعود میر، نسیم اقبال ایڈووکیٹ، مشتاق دیوان، سردار الطاف، ظہیر زاہد، حافظ مظہرر اقبال نعیمی، امجد مجید ،اشفاق قمر، نقاش مشتاق، سردار محمود، ڈاکٹر اشتیاق، ظفر اقبال، علی راجہ، عدنان، مزامل حق عادل، خان حبیب، امجد خان، مقصود ، یوسف بھٹی، اور دیگر نے خطاب کیا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved