عاصمہ جہانگیرانتہاپسندانہ سوچ کیخلاف جدوجہدکااستعارہ تھیں،مولاناعبدالاعلےٰ
  13  فروری‬‮  2018     |     یورپ

بریڈفورڈ(پ۔ر) مرکزی جمعیت اہل حدیث کے سیکرٹری اطلاعات مولاناعبدالاعلےٰ درانی نے معروف وکیل عاصمہ جہانگیر کی وفات کوقانون ا ورانسانی حقوق کی دنیامیں ایک بڑاخلا قراردیاہے، وہ ہمارے مذہبی و سیاسی اور سماجی طبقوں کی انتہاپسندانہ سوچ کے خلاف جدوجہد کا ایک استعارہ تھیں ۔ان کی ہمیشہ سے یہ سوچ رہی ہے کہ وہ مظلوموں کووڈیروں اورطاقتوروں کے جبرو ستم سے نجات دلائیں ،انہوں نے کہاان کی سوچ کی بناوہ گھریلو ماحول تھا جس میں انہوں نے آنکھ کھولی تھی ،شعورکی دہلیز پرقدم رکھتے ہوئے وقت کے حکمرانوں کاجبران کے گھرکے آنگن میں ڈیرہ ڈالے ہوئے تھا،اسی ستم زدہ ماحول میںان کاشعور پختہ ہوااوروہ پسے ہوئے طبقوں کے حق میں ایک بلند آہنگ والی آوازبنتی گئی ،مولاناعبدالاعلے نے کہاہرانسان اچھائیوں اور برائیوں کاپتلا ہے، اوراس کی شخصیت کی ڈویلپمنٹ کے دیدہ ونا دیدہ اسباب ہوا کرتے ہیں ، اس لیے جب انسان اپنے رب کے پاس چلاجاتاہے تو اس کے اعمال، نیت واسباب اور اثرات کافیصلہ صرف حق تعالیٰ کاحق اور اختیارہے ، کوئی دوسرا انسان ان کی حقیقت کی گہرائی ناپ نہیں سکتا، اس حقیقت کو سورہ البقرہ کی آیت 124میں بیان کیاگیاہے جسے 144میں پھردہرایاگیاہے،مولاناعبدالاعلےٰ نے کہا عاصمہ جہانگیر نے بعض دفعہ متنازعہ اقدامات بھی کیے اور متنازعہ بیانات بھی دیے تھے، جن سے سبھی باشعور لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی ، لیکن ان کے اعمال کی مسئولیت اور انجام کی خبر صرف رب کومعلوم ہے اور کوئی انسان ان کامسئول نہیں ہے ،اس لیے ہمارے آقاومولی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حکم دیاہے کہ مرنے والوں کو اچھے الفاظ میں یادکرو۔ عاصمہ جہانگیر کے خلاف دین و شریعت بیانات واقدامات کے برعکس یہ بھی ملحوظ رہے کہ وہ دین کاکافی علم نہیں رکھتی تھیں ،لیکن ان کی جدوجہدسے کئی بے گناہ لوگوں کو بھی موت سے چھٹکارا ملاتھا۔جنہیں ہمارے قانون کے محافظ وڈیروں اور جاگیرداروں نے اپنے اختیارات سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے قربانی کی بلی بنادیاتھا، اور یہ مظلوم طبقہ ان کی اچانک موت سے بے سہاراہوگیاہے ،جب تک سماجی و سیاسی اور مذہبی رواداری اور انصاف کا ماحول نہیں بنے گا، مظلوموں کوکسی نہ کسی مسیحاکی ضرورت محسوس ہوتی رہے گی، مولاناعبدالاعلےٰ نے کہاہمارے رہبرو رہنمارحمة اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ نرم دلی ،رحم ، عفو و درگزراورحلم واخلاق کا سبق دیا ہے بلکہ خودیہ رویہ اپنایاجس کی وجہ سے انسان پروانوں کی طرح حضورۖکے گرد جمع ہوتے گئے اورمختصر سے وقت میںآج اسلام دنیا کاسب سے بڑا عملی و علمی مذہب بن چکاہے ،اس کا ذکر سورہ آل عمران کی159آیت میں کیاگیاہے،لیکن کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہم قرآن کے احکامات اور اسوہ رسول کویکسرفراموش کردیتے ہیں ،علماء کوچاہیئے کہ وہ امت کوان سنہری تعلیمات سے روشناس کرائیں،انہوں نے کہاہمیں اپنے بارے میں اللہ کریم سے عفو ودرگزرکی امیدکرنی چاہیئے اوریہ تبھی ہوسکتا ہے جب ہم دیگر لوگوں کے معاملے میں بھی درگزر اور عفو و حلم سے کام لیں گے اور سوچیں گے ۔ہم اپنے حق میں چاہیں گے کہ کوئی ہمیں بھی اچھے الفاظ میں یاد کرے اور ہمارے بھی حق میں مغفرت کی دعا کرے ، اسی طرح ہمیں دوسرے انسانوں کے بارے میں بھی سوچناچاہیئے ،رسول رحمت کی سیرت منانے کا نہیں اپنانے کاتقاضاکرتی ہے ،مذہبی انتہاپسندی کاایک مظاہرہ حال ہی میں لوگوں نے اکیس دن کے فیض آباد چوک میں دھرنے کی شکل میں دیکھا جب مذہبی رہنماؤںنے حضورخاتم النبین کے نام پرننگی گالیوں کی بوچھاڑ و دریافت سے اردو لغت میں اضافہ کیاتھا،بس ایسے ہی نام نہاددینی رہنماعاصمہ جہانگیر سوچ کو جنم دینے کے ذمہ دار ہیں،اس لیے ان طبقوں کوبھی اسلامی اخلاق ،ربانی عفو اور رحمت اللعالمین کے حلم واخلاق کااحساس کرنا ہوگاورنہ اس قسم کے متنازعہ کردار جنم لیتے ہیں گے ۔بیان کے آخرمیں مولاناعبدالاعلےٰ نے تمام مرحوم مومنین و مومنات کی مغفرت کیلئے دعاکی اللہ ان کی اگلی منزلیں آسان فرمائے،جن سے ہم سب نے گزرناہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved