مقبول بٹ نے کشمیرکی آزادی کاراستہ ہموارکردیا،پروفیسرلیاقت
  13  فروری‬‮  2018     |     یورپ

وٹفورڈ(مسرت اقبال) جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے مرکزی رہنما پروفیسر لیاقت علی خان نے بابائے قوم بطل حریت شہید کشمیر محمد مقبول بٹ کی برسی کے موقع پر میڈیا کے نمائندگان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا مقبول بٹ نے نئی دہلی کی تہار جیل میں تختہ دار پر پھانسی کا پھندا چوم کر کشمیر کی آزادی کا راستہ ہموار کردیا ہے۔ مقبول بٹ شہید کی شہادت تحریک آزادی کشمیر میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ پروفیسر لیاقت علی خان نے کہا مقبول بٹ جدوجہد آزادی اور کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کیخلاف پوری جرأت کیساتھ برسرپیکار ہے۔ آج وقت ہے پوری کشمیری قوم کشمیر کی آزادی اور کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کیخلاف ایک مُکے کی طرح متحد ہوکر اُٹھ کھڑی ہو۔ یہ موقع ہے اس نازک اقوام متحدہ، سیکورٹی کونسل، عالمی برادری، الیکٹرانک میڈیا مظلوم کی آزادی کی جنگ میں بھرپور ساتھ دیں۔ انہوںنے کہا کشمیری قوم اپنی قومی آزادی اور قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتی۔ یہ کشمیری قوم کی بقاء کا مسئلہ ہے۔ کشمیری قوم اب تک لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے چکے ہیں۔ پروفیسر لیاقت علی خان نے کہا جب کشمیر میں آزادی کی جنگ کا آغاز ہوا ہے۔ غیر ملکی پاکستان دشمن قوتوں نے پاکستان کے اندر اور سرحدوں پر دہشت گردی کے ڈیرے ڈال دئے ہیں۔ تاکہ مسئلہ کشمیر پر عالمی توجہ ہٹائی جاسکے۔ پروفیسر لیاقت علی خان نے کہا تحریک آزادی کشمیر انتہائی نازک مرحلے میں ہے۔کچھ غیر ملکی طاقتیں بھارت کی ایماء پر پاکستان کو طفیلی ریاست بناکر بھارت کے مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔ تحریک کی کامیابی کیلئے ہمیں ہر محاذ پر نظر رکھنی ہوگی۔ پروفیسر لیاقت علی خان نے کہا کشمیر کی تحریک کو کچلنے کیلئے آج بھارت امریکہ اور اسرائیل ایک پیج پر جمع ہوچکے ہیں۔ بھارت اسرائیل کے تعاون سے کنٹرول لائن پر جدید ٹیکنالوجی استعمال کرکے نہتے شہریوں کو نشانہ بنارہا ہے۔ ایسے نازک موقع پر گورنمنٹ پاکستان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشمیر سمیت تمام سرحدوں پر اپنے دفاعی اقدامات مزید سخت کرے تاکہ بھارتی فوج کو کنٹرول لائن پر کسی مہم کی جرأت نہ ہوسکے۔ پروفیسر لیاقت علی خان نے کہا سابق واقعات گواہ ہیں جب بھی کشمیر میں آزادی کی تحریک نے زور پکڑا غیر ملکی قوتیں بھارت کی حمایت میں متحرک ہوجاتی ہیں۔ پروفیسر لیاقت علی خان نے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے اندرونی حالات کو نظر انداز نہ کرے۔ اور نہ ہی پاکستان کو دھمکیاں دے۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ بھارت کے حکمران مقبول بٹ کی شہادت سے سبق حاصل کریں۔ کسی فرد کو پھانسی دینے سے آزادی کی تحریک کو دبایا نہیں جاسکتا۔ پروفیسر لیاقت علی خان نے کہا شہید کشمیر مقبول بٹ ایک نظریہ ساز انسان اور قابل سیاستدان تھے۔ مجاہد اور سفارت کار بھی تھے۔ جنہوں نے اپنے قوم و ملت کی ہر سطح پر رہنمائی کی اور بالآخر اپنے مقدس مشن کی تکمیل کی خاطر اپنی جان کی بازی لگابیٹھے۔ اب ہم سب جماعتوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم سب متحد ہوکر اُن کے مشن کی تکمیل کیخاطر متحد ہوکر کام کریں۔ انہوں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبول بٹ کے جد خاکی کو اُن کے ورثاء کے حوالے کرے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved