انسانی حقوق کیلئے عاصمہ جہانگیرکی کاوشوں کوہمیشہ یادرکھاجائیگا،راجہ شبیر
  15  فروری‬‮  2018     |     یورپ

لیوٹن (پ۔ر) عا صمہ جہا نگیر نے انسانی حقوق کے تحفظ قانون کی بالا دستی کے لیے بڑی بے باقی اور جرات سے کام کیا ، ان کی کاوشوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی وکا لت اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے کی وجہ سے پاکستانی خواتین کو ایک نیا حوصلہ ملا اور آج خواتین کی بڑی تعداد شعبہ وکالت میں کام کر رہی ہے ۔ جو پاکستانی معاشرے میں مثبت اقدام ہے ۔عا صمہ جہا نگیر کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ، پاکستان کی قومی اسمبلی میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی سزا بڑھانے کا بل متفقہ منظور کرنا مثبت اقدام ہے جس سے معاشرے میں جرائم میں کمی واقع ہو گی، حکومت پاکستان اور بالخصوص پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کی سیاسی قیادت کو پاکستان میں 16 سال تک کے بچوں کی تعلیم کو لازمی اور مفت قرار دینا چاہیے ۔اور 16 سال سے کم بچوں سے مشقت بھی نہ لی جائے جس سے بچوں کے انسانی بنیادی حقوق کو تحفظ ملے گا اور بچوں کی حوصلہ افزائی ہو گی جو ایک مثبت اقدام ہو گا ۔ ان خیالات کا اظہار یورپ اینڈ ایشیاء ہیومین رائٹس کمیشن کے چیئر مین راجہ محمد شبیر خان ایڈوکیٹ نے اپنے ایک بیان میں کیا انھوں نے کہا کہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کیے جانے کی وارداتوں میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے جو باعث تشویش ہے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کو سخت سے سخت اقدامات کرنے چاہیے اور حفاظتی اقدامات کیے جانے چاہیے اور بالخصوص والدین کو بھی بچوں کی حفاظت کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو بھی نبھانہ ہو گا ، چیئر مین ہیومین رائٹس کمیشن نے کہا کہ پاکستان میں عدلیہ کی عزت و وقار کے اضافہ کے لیے ججز کے بر وقت اور انصاف پر مبنی اچھے فیصلوں کا آنا بھی ضروری ہے عدلیہ آزاد اور خود مختار ہو گی تو عوام کو سستا اور شفاف انصاف ملے گا اور مقدمات کے جلد فیصلے ہوں گے یکطرفہ احتساب اور انتقام سے صرف ایک خاندان کو نشانہ بنانے سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے بدنام زمانہ پاکستان کے ڈکٹیٹر سابق صدر اور جنرل پرویز مشرف کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر آئین و قانون اور رول آف لاء کے مطابق قانونی کارو ا ئی کی جا ئے اور عدلیہ کو انصاف کے تقاضے پورے کرنے چاہیے پرویز مشرف نے نہ صرف دو بار پاکستان کے آئین کو توڑا بلکہ دیگر اہم مقدمات میں بھی مطلوب ہیں جن کے خلاف فوری کارروائی درکار ہے اس طرح پاکستان میں قانون سب کے لیے برابر ہو نا چاہیے ۔ اگر کوئی ڈکٹیٹر یا ریٹائرڈ جنرلز ،بیوروکیٹس اور سیاست دان کوئی بھی کرپشنز ز دہ ہیں تو ان کے خلاف بھی کارروئی ہونی چاہیے ، نہ کہ صرف سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور ان کے خاندان کو انتقام کا نشانہ بنایا جائے اس سے قطعاً انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے ، قانون سب کے لیے برابر ہے آ ئین و قانون کی بالادستی اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے سے عدلیہ کی عزت میں مذید اضافہ ہو گا ۔ چیئر مین ہیومین رائٹس کمیشن راجہ محمد شبیر خان نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ میں اچھے اور باصلاحیت ججوں کی کمی نہیں عوام کو سستا اور بر وقت انصاف مہیا کرنے سے عوام میں ایک نئی امید کی کرن پیدا ہو گی ۔ اﷲکرے پاکستان میں قانون کی بالا دستی اور شفاف اور انصاف کا ثمر پاکستان کی عوام کو ملتا رہے ۔ انھوں نے کہا کہ زمنی الیکشن میں لودھراں کے الیکشن نے پاکستان کی عوام میں ایک نیا جزبہ اور ولولہ انگیز سوچ دی ہے امید ہے کہ 2018 کے قومی انتخابات میں ایک مثبت تبدیلی آئے گی بلکہ لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف بھاری اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوں گے اس طرح پاکستان کی عوام میں تیزی کے ساتھ شعور بیدار ہو رہا ہے اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں جمہوریت کی مضبوطی اور قوم و ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنا اہم کردار ادا کریں گے ۔ جو قومی امنگوں کے مطابق ایک مثبت اقدام ہو گا ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved