کشمیری حق کیلئے جدوجہدکررہے ہیں،پروفیسرغلام مجتبیٰ
  18  فروری‬‮  2018     |     یورپ

جرمنی بریمن(پ ر) ممتاز اسلامی سکالر مدینہ مسجد بریمن کے خطیب پروفیسرغلام مجتبیٰ طاہر ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ مظلوم کشمیر ی عوام کو 1947 میں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق مل جاتا تو آج لاکوں کشمیری بھارت کی ریاستی دہشتگردی کا نشانہ نہ بنتے ۔بھارت نے کشمیریوں کی مرضی کے خلاف ننگی جارحیت کا ارتکاب کیا اپنی فوجیں داخل کر کے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا اور پھر خود ہی اقوام متحدہ میں جاکر پیش کیا اور پوری دنیا کے سامنے وعدے اور معائدے کیے کہ اور کہا کہ وہ اس کی پاسداری کرائیں گے آج ستر سال گذر جانے باوجود کشمیری اپنے حق خودارادیت کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک عوامی اجتماع عام میںخطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنا فوجی تسلط قائم رکھے کے لیے ہر طرح کے مظالم ڈھائے ظلم اور بربریت کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں نہتے کشمیریوں کا قتل عام چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا جارہاہے عالمی معائدوں سے انحراف اور نام نہاد جمہوریت کے لبادے میں بار با دنیا کو دھوکہ دے رہا ہے اور عالمی امن کے علمبرداروں کی خاموشی اور بے حسی کے نتیجے میں ابھی تک مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا۔ پروفیسر مجتبیٰ طاہر نے کہا کہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کی وجہ سے اقوام متحدہ کا دوہرا معیار کھل کر بے نقاب ہوگیا ہے عالمی امن کے علمبردار اس ادارے کو چند با اثر ممالک نے یرغمال بنا رکھا ہے اور اپنے مقاصد کے استعمال کر رہے ہیں کشمیر میں ظلم کی داستانیں پوری دنیا کے ایوانوں تک گھونج رہی ہیں اس کے باوجود مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی اور خطے میں پائی جانے والی کشیدگی میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے بار بار دنیا کو توجہ مبذول کرائی جارہی ہے کہ دنیا کے امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا دیرپاحل کشمیریوں کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور بھارت کو مجبور کیا جائے کہ وہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرئے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved