سرجریزکے باوجودنادراکارڈکے حصول کیلئے کمیونٹی کومشکلات کاسامنا
  14  مارچ‬‮  2018     |     یورپ

ہائی ویکمب (رپورٹ :مسرت اقبال)ہائی ویکمب کے سماجی راہنمائوں لالہ اظہر اور چوہدری مشتاق احمد نے کہا ہے کہ نادرا کا بحران گزشتہ کچھ سالوں سے چلا آ رہا ہے اور ہائی کمیشن بھی نادرا آفس اور نادرا سرجریز کے انعقاد کے باوجود اس مسئلہ کا حل ممکن نہ بنا سکا۔ جسکی بڑی وجہ ہائی کمیشن اور قونصلیٹس میں تعینات پاکستان سے آمدہ نادرا سٹاف زیادہ تر وزیروں ،مشیروں اور وڈیروں کی سفارش اور اقربا پروری کی وجہ سے عوام کو سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہے اور بجائے ایمانداری سے اپنے فرائض ادا کرنے کے نادرا کا ایک سینئر اہلکار درخواست گزاروں کو استفسار کرنے پر یہ کہ کر تضحیک کرتا ہے کہ اور جا کر ن لیگ کو ووٹ دو۔ خان وسیم خان کا کہنا ہے کہ دس سال قبل نادرا سرجریز کا بنیادی تصور ایمبیسی اور قونصلیٹس سے کم از کم پندرہ میل سے زیادہ کی مسافت اور دور دراز کے علاقوں ،جہاں سے معذور اور عمر رسیدہ افراد ایمبیسی نہیں آسکتے ،وہاں پر نادرا سرجریز کا انعقاد کرنا تھا مگر اب تو نادرا سٹاف اپنے من پسند اور سفارشی لوگوں کو سرجریاں دیتا ہے۔اور دور دراز اور زیاد ہ آبادی والے علاقے نظر انداز ہو رہے ہیں۔ سلائو سے کمیونٹی راہنمائوں ظہیر احمد اور حاجی توقیر حسین کا کہنا ہے کہ پچاس ہزارپاکستانی آبادی والے علاقے میں گزشتہ دو سالوں میں ایک بھی نادرا سرجری نہیں ہوئی جبکہ سالانہ پانچ ہزار آبادی والے علاقے میں دو سرجریاں منعقد کرانا کہاں کا انصاف ہے۔ متاز بزنس کمیونٹی راہنما اور ڈائریکٹر AIHL نعیم طاہر کا کہنا ہے کہ جب آن لائن نادرا کارڈ کا اجرا وزاتِ داخلہ نے کیاتو ایجنٹ مافیا نے برطانیہ بھر میں سینکڑوں دکانیں کھول کر کمیونٹی کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کیا اور ہائی کمیشن اس ایجنٹ مافیا کا کچھ نہ بگاڑ سکا اور اس برائی کو روکنے میں ناکام رہا چونکہ نادرا سٹاف بالخصوص نادرا منیجرکے تضحیک آمیز رویے اور نارواسلوک سے تنگ آکر کمیونٹی ہائی کمیشن جاکر اپنی تذلیل کی بجائے ایجنٹ مافیا کوسرکاری فیس کے علاوہ بیس سے پچاس پونڈاضافی چارج دیکر نادرا کارڈ بنوانے کو ترجیح دیتی ہے۔ آکسفورڈ سے خواجہ عماد حسین اور چوہدری شبیر احمد کا کہنا ہے کہ ہائی کمشنر سید ابن عباس نے گزشتہ چند سالوں میں جس طرح انتھک محنت سے قونصلرز سروسز کو بہتر بنایا تھا پچھلے کچھ مہینوں میں نادرا اور کمیونٹی افئیرز کے چند نا تجربہ کار ، کمیونٹی مسائل اور اخلاقیات سے نابلد افسران نے اس محنت پر پانی پھیرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اورایسا لگتا ہے کہ یہ افسران کمیونٹی کو متحد کرنے کی بجائے تقسیم کی پالیسی پر چل رہے ہیں۔ لوٹن کے اسلم خٹک کا کہنا ہے کہ نادرا منیجر مختلف نادرا سرجریوں میں برملا کہتے ہیں کہ وہ نادرا سرجریز خود تقسیم کرتے ہیں نادرا خود مختار ادارہ ہے اور اس کی اپنی پالیسیاں ہیں جو اسلام آباد ہیڈ کوارٹر متعین کرتا ہے سائوتھ ہیمپٹن کے اسد درانی کا کہناہے کہ موجودہ ہائی کمشنر سید ابن عباس کا شمار فارن آفس کے سینئر ترین اور زیرک افسران میں ہوتا ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ کمیونٹی کے مسائل جلد از جلد حل ہونگے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved