گلوبل وارمنگ روکنے کیلئے شجرکاری کوقومی پالیسی کاحصہ بنایاجائے،چوہدری سعید
  11  جولائی  2018     |     یورپ

وٹفورڈ(مسرت اقبال) کمیٹی تحفظ حقوق ضلع کوٹلی کے صدر چوہدری محمد سعید نے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کی آزاد کشمیر شجر کاری کے فروغ کے نظریے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ریاست کے اندر گلوبل وارمنگ کو روکنے کیلئے شجرکاری کے فروغ کو قومی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔ اور عوام میں شعور بیدار کرنے کیلئے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کی خدمات حاصل کی جائیں۔ چوہدری محمد سعید نے کہا آزاد کشمیر میں ٹمبر مافیا نے جنگلات کی بڑے پیمانے پر کٹائی کرکے جنگلات کو بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے آبادی کی بڑھتی ہوئی افراط زر ماحولیات میں پولیشن کے بڑھنے کے باعث آزاد کشمیر کا پرامن ماحول بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ یہ شعور کی کمی ہے کہ غریب عوام نے اپنا چولہا جلانے کی خاطر پہاڑوں پر قدیم انتہائی قیمتی درخت کاٹ کر ریاست کی خوبصورتی کو ختم کردیا ہے اور یہ سب کچھ محکمہ جنگلات کی ملی بھگت کی وجہ سے ہو رہا ہے جمہوریت کے دعویداروں نے جنگلات فروغ کرنا شروع کر دئے ہیں چوہدری محمد سعید نے کہا وزیراعظم آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگلات کے تحفظ، شجرکاری کے فروغ کیلئے ایک گرین بیلٹ ٹائم کرنے اسپیشل فورس قائم کرے جس میں عوام کے منتخب نمائندے شامل ہیں۔ آوارہ اور عوام کو باہمی تعاون اہم رول ادا کرسکتا ہے۔ انہوںنے کہا لوگوں نے ایندھن جلانے کیلئے جنگلات کا سہارا لے رکھا ہے اور درخت پہاڑوں کی چوٹیوں تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔چوہدری محمد سعید نے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر سے مطالبہ کیا ہے کہ آزاد کشمیر میں جنگلات کے تحفظ اور شجرکاری کی بڑے پیمانے پر فروغ کیلئے گورنمنٹ پاکستان سے خصوصی فنڈز کی اپیل کریں۔ چوہدری محمد سعید نے وزیراعظم آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریاست میں عوام کو قرضے مہیا کرنے کی پالیسی بنائیں تاکہ وہ گوبر گیس پلانٹ، شمسی توانائی، سولر سسٹم، ونڈ پاور اور پن ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے ذریعے اپنی ایندھن کی ضروریات پوری کرسکیں۔ بنیادی مسئلہ عوام کو باشعور بنانا اور ایجوکیٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ چوہدری محمد سعید نے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق کی تعمیری سوچ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ضرورت اس امر کی ہے کہ آزاد کشمیر میں زراعت و آبپاشی اور سیر و سیاحت انڈسٹری پر خصوصی توجہ دی جائے۔ آزاد کشمیر میں تمام بڑے دریاؤں نالوں پر سمال ڈیمز تعمیر کئے جائیں۔ ساوڑ، تتہ پانی کے مقام پر ہائیڈرو الیکٹرک پاور پراجیکٹ ڈیمز بنانے کی اشد ضرورت ہے جو ضلع کوٹلی کی سات لاکھ آبادی کی ضروریات پوری کرسکے۔ انہوں نے گورنمنٹ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کی آبی جارحیت کو روکنے کیلئے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے اجلاس ہوئے۔ کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ مشروط کرے۔ اسکو کشمیر کے اندر ڈیمز تعمیر کرنے سے روکا جائے۔ بھارت کے ان منفی اقدامات کی وجہ سے دریاؤں میں پانی کی کمی ہو رہی ہے۔ آزاد کشمیر و پاکستان میں پانی کا شدید بحران پیدا ہوچکا ہے۔ انہوںنے مطالبہ کیا ہے کہ گورنمنٹ پاکستان بھاشا ڈیم، دیامیر ڈیم، مہمند ڈیم کیساتھ سکردو ڈیم کی تعمیر پر اولین توجہ دے جہاں پندرہ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی یہ وہ سکردو ڈیم ہے جسے کالا باغ کی طرح بیوروکریسی نے چھپائے رکھا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved