08:51 am
سربرینیکا میں قتل عام کے 25 سال مکمل ہونے پر برطانیہ میں یادگاری تقریب، عالمی رہنماؤں کی شرکت

سربرینیکا میں قتل عام کے 25 سال مکمل ہونے پر برطانیہ میں یادگاری تقریب، عالمی رہنماؤں کی شرکت

08:51 am

اہم خبریںادارتی صفحہاسپورٹسیورپ سےدنیا بھر سےملک بھر سےشہر قائد/ شہر کی آوازدل لگیبزنستعلیم صحت خواتینسندھ بھر سےمراسلاتسربرینیکا میں قتل عام کے 25 سال مکمل ہونے پر برطانیہ میں یادگاری تقریب، عالمی رہنماؤں کی شرکتلندن (مرتضیٰ علی شاہ) سربرینیکا میں قتل عام کے 25 سال مکمل ہونے پرگزشتہ روز برطانیہ میں ایک یادگاری تقریب کا اہتمام کیا گیا، اس ورچوئل تقریب میں عالمی رہنمائوں نے شرکت کی۔ بوسنیا کی سرب فوج نے 8000 ہزار سرب مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی سرزمین پر یہ سب سے بڑا قتل عام تھا۔ برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن، شہزادہ چارلس، بوسنیا ہرزیگوینا کے صدر سیفک دزافیرووک، لیبر پارٹی کے قائد سر کیئر اسٹارمر، بوسنیا ہرزیگوینا کے مفتی اعظم حسین ایف کاوا زووک، چیف ربی افراہیم مروس، کارڈینل ونسینٹ نکولس، آرچ بشپ آف ویسٹ منسٹر، ڈیوڈ کیمرون، بل کلنٹن، لارڈ ویلیم ہیگ اور سیکرٹری میڈیلن البرائٹ نے اس ایونٹ میں شرکت کی۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے وزیراعظم بورس جانسن نے کہا کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو سربیا میں جو کچھ ہوا، 
 
اسے بھول جانے یا اس کی تردید کرنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن ہمیں انھیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ اس جانکاہ واقعے کے شکار لوگوں اور مستقبل کی نسلوں کا یہ ہم پر قرض ہے کہ ہم سربرینیکا کو یاد رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آئندہ کبھی اس طرح کے واقعے کا اعادہ نہ ہوسکے۔ سربرینیکا کے قتل عام میں 8000 سے زیادہ مرد اور لڑکے ہلاک ہوئے تھے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی اور 20,000 سے زیادہ خواتین اور بچوں کو زبردستی ملک سے نکال دیاگیا تھا۔ میں اس المناک لمحات کا شکار ہونے والوں کی تعزیت کیلئے آپ کے ساتھ شامل ہونا اور انصاف کیلئے جدوجہد میں ان کی فیملیز کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتا ہوں۔ بوسنیا ہرزیگونیا کے صدر سیفک دزافیرووک نے اس موقع پر25سال قبل ہونے والے اس سانحے پر اپنے غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ایونٹ سے ہمیں ایک ساتھ جمع ہو کر بہیمانہ انداز میں قتل کئے جانے والے اور اس خوفناک واقعے میں زندہ بچ جانے والے بے قصور لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایونٹ ہمیں سختی کے ساتھ اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ہم اس عہد کی تجدید کریں اور اس بات کویقینی بنائیں کہ ایسی نفرت اور تعصب کو جو نسلی قتل عام کا سبب بنا، اپنی کمیونٹیز میں نہیں پھیلنے دیں گے۔ شہزادہ چارلس، جو مارچ میں سربرینیکا کا دورہ کرنے والے تھے لیکن کووڈ-19 کی وجہ سے یہ دورہ ملتوی ہوگیا، نے ورچوئل ایونٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جولائی 1995 میں جو کچھ ہوا، عالمی عدالتوں نے انھیں قتل عام قرار دیا ہے، یہ قتل عام ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک خوفناک دھبہ ہے، ماضی کے اس دکھ کو یاد کرتے ہوئے اور اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہم سب کو اس بات کا عہد کرنا چاہئے کہ ایسا اب کبھی نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ کی سربرینیکا کی یاد جیسی تنظیموں کے کام بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں سوچنا چاہئے کہ ان ہولناک جرائم کے 25 سال بعد بھی اس طرح کے ہولناک جرائم ہو رہے ہیں، ہمیں ان لوگوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرنا چاہئے، جنھوں نے اپنا بہت کچھ کھو دیا، برطانیہ سربرینیکا کے قتل عام کی یاد منانے والا سب سے بڑا ملک ہے، جہاں ہر سال مقامی طورپر کم وبیش 1,000 یادگار ایونٹس منعقد کئے جاتے ہیں اور سالانہ کم وبیش 100,000 نوجوانوں کو سربرینیکاکے واقعے سے سبق حاصل کرنے کا درس دیا جاتا ہے۔ ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ انجیلا جولی، جو اقوام متحدہ کے ریفیوجیز سے متعلق کمشنر کی خصوصی ایلچی کے طورپر اپنے کام کے حوالے سے بہت مشہور ہیں، نے اس ورچوئل ایونٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج میں سربرینیکا کی ان مائوں اور دیگر بچ جانے والوں کے بارے میں سوچتی ہوں، جن کے شوہر، بھائی اور بیٹے 25 سال قبل قتل عام میں قتل کردیئے گئے، یہ بوسنیا کے عوام کا ایسا نقصان ہے، جس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا، میں بوسنیا کے عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتی ہوں، میں ان کا احترام کرتی ہوں اور میں ان کیلئے غمزدہ ہوں۔ امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے کہا کہ سربرینیکا کے واقعات نے کشیدگی اور تنازعات سے جنم لینے والی دہشت نے دنیا کی آنکھیں کھول دی ہیں اور اس کے بعد جنگوں کی روک تھام کی کوششوں میں تیزی پیدا ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج ہمیں سربرینیکا کے سانحے کی یاد مناتے ہوئے یہ عہد کرنا چاہئے کہ ہم آئندہ کبھی ایسی غلطی نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ یہ واقعہ مجھے ہر وقت غمزدہ رکھتا ہے اور ہر موقع پر پوری دنیا میں اپنی آواز اس سانحے میں ہلاک ہونے والوں کے دکھ کے حوالے سے بلند ہونے والی آواز میں آواز ملانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ لیبر پارٹی کے قائد سر کیئر اسٹارمر نے سربرینیکا میں 8000 مسلمانوں کے قتل عام کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج یہ بات انتہائی ناقابل فہم معلوم ہوتی ہے کہ صرف 25 سال قبل ہمارے براعظم میں اس طرح کا غیر انسانی قتل عام ہوا۔ جسے اقوام متحدہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی سرزمین پر بدترین جرم قرار دیا تھا۔ انھوں نے کہا بوسنیا کی سرزمین پر 8000 مسلمان مردوں اور لڑکوں کے قتل عام کو فراموش نہیں کیا جانا چاہئے۔ برطانیہ کے سابق وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنے خطاب میں کہا کہ بہت سے ایونٹس میں ہمیں یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کتنے عرصہ قبل حقیقت میں کیا ہوا ہوگا لیکن جب ہم سربرینیکا کی یاد مناتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتنا حال ہی کا واقعہ ہے اور یہ مسلسل کرب کا سبب بنتا ہے، صرف 25 سال قبل 20 ویں صدی کے اختتام پر یہ ناقابل تصور جرم ہوا، جس میں ہزاروں مردوں اور لڑکوں کو ان کی فیملیز سے علیحدہ کردیا گیا، انھیں قتل کردیا گیا اور دنیا دیکھتی رہی۔ 11 جولائی کو برطانیہ کا یہ قومی ایونٹ جولائی 1995میں سربرینیکا میں 8,000 مسلمان مردوں اور لڑکوں کے قتل عام کی یاد میں منعقد کئے جانے والے ہفتہ کا اختتامی ایونٹ تھا۔ اس ہفتے کے دوران پورے ملک میں لوکل کونسلوں، کمیونٹی سینٹرز، تھانوں، عبادت گاہوں اور اسکولوں میں 1,000 سے زیادہ یادگار اجتماعات کا اہتمام کیا گیا۔ ’’ریممبرنگ سربرینیکا یوکے‘‘ کے چیئرمین ڈاکٹر وقار اعظمی او بی ای نے کہا کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میرے ملک نے شہزادہ چارلس، وزیراعظم بورس جانسن جیسی اعلیٰ ترین سطح کی سپورٹ سے سربرینیکا کا یادگاری دن منایا۔ انھوں نے کہا کہ ہماری پوری قوم اس یادگار کو منانے کیلئے ایک تھی، اس طرح کے یادگاری دن عام برطانوی شہریوں کو ماضی کی یاد منانے کیلئے اکٹھا کر دیتے ہیں اور اس سے ہمیں زیادہ مضبوط ایک دوسرے کے ساتھ منسلک تعصبات سے پاک کمیونٹیزبن کر ابھرنے میں مدد ملتی ہے اور اس سے ہماری نئی نسل کو یہ یقین دلانے میں مدد ملتی ہے کہ نفرت پنپ نہیں سکتی۔